محلہ رحمان پورہ کا مسئلہ اور ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو کا بروقت ایکشن — عوامی شکریہ اور خراجِ تحسین

تحریر: محمد زاہد مجید انور

ٹوبہ ٹیک سنگھ کے محلہ رحمان پورہ گئو شالہ میں حالیہ دنوں گلیوں میں گندے پانی کا جمع ہونا ایک سنگین مسئلہ بن چکا تھا۔ سیوریج سسٹم کی خرابی کی وجہ سے نہ صرف گلی مسجد غوثیہ تک جانا مشکل ہو چکا تھا بلکہ محلے کے مکین شدید بدبو، گندگی اور بیماریوں کے خطرے میں گھر چکے تھے۔ اس مسئلے کی خبر جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ہر طرف سے عوامی تشویش کا اظہار سامنے آیا۔ایسے وقت میں جب اکثر افسران صرف فائلوں اور دفتری کاروائیوں تک محدود رہتے ہیں، ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو نے اس خبر پر فوری ایکشن لیتے ہوئے نہ صرف نوٹس لیا بلکہ موقع پر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ گندے پانی کی صفائی فوری طور پر ممکن بنائی جائے۔ ان کی یہ بروقت کارروائی قابل تحسین بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔ڈپٹی کمشنر کا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر نیت صاف ہو، اور عوامی مسائل کو ذاتی ذمہ داری سمجھا جائے، تو کوئی بھی مسئلہ بڑا یا ناقابلِ حل نہیں ہوتا۔ رحمان پورہ کے عوامی حلقے جنہوں نے تین دن تک گندے پانی کے عذاب کو جھیلا، اب سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر محمد نعیم سندھو جیسے دیانت دار، فرض شناس اور درد دل رکھنے والے افسر پنجاب بھر میں موجود ہوں، تو عوام کے بیشتر مسائل ان کے دہلیز پر ہی حل ہو سکتے ہیں۔عوامی حلقوں نے دل کی گہرائیوں سے ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے دعائیں کیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، تندرستی، اور لمبی عمر عطا فرمائے، اور انہیں مزید ترقیوں سے نوازے تاکہ وہ اعلیٰ سطح پر بھی اسی جذبے سے عوامی خدمت جاری رکھ سکیں۔
آمین ثم آمین۔اس واقعہ نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ سوشل میڈیا صرف شور شرابے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اگر درست سمت میں استعمال ہو، تو یہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور متعلقہ حکام تک پہنچانے کا طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح، ایک بااختیار اور بااخلاق افسر کی بروقت کارروائی نہ صرف عوام کو ریلیف دیتی ہے بلکہ نظامِ حکومت پر اعتماد بھی بحال کرتی ہے۔آخر میں ہم امید کرتے ہیں کہ ڈی سی صاحب کی یہ روایت دوسرے افسران کے لیے بھی مشعلِ راہ بنے گی، اور ہر شعبہ زندگی میں عوامی مسائل پر فوری ردعمل اور عملی اقدامات کو فروغ ملے گا۔