صوبائی محتسب پنجاب عوام کی دہلیز پر انصاف
تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور، ضلعی صدر و معروف کالم نگار ڈسٹرکٹ انجمن صحافیاں، ٹوبہ ٹیک سنگھ
*گزشتہ روز گورنمنٹ گریجویٹ کالج ٹوبہ ٹیک سنگھ میں صوبائی محتسب پنجاب کے زیر اہتمام ایک آگاہی سیشن منعقد ہوا، جس میں نمائندہ صوبائی محتسب پنجاب محمد عبداللہ شاہد نے طلباء کو محکمہ کے کردار اور سہولیات پر روشنی ڈالی۔ پرنسپل کالج ڈاکٹر وحید اقبال بھی اس موقع پر موجود تھے۔یہ بات سن کر خوشی ہوئی کہ صوبائی محتسب پنجاب کا ادارہ 1997 میں عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لئے قائم کیا گیا۔ ایک عام شہری کے لئے یہ بات باعث اطمینان ہے کہ سرکاری محکموں کے خلاف شکایات 45 سے 60 دن کے اندر اندر حل کی جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ یہ تمام سہولتیں بلا معاوضہ ہیں، یعنی انصاف حاصل کرنے کے لئے کسی مالی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔یہ بھی بتایا گیا کہ شہری بذریعہ ڈاک، ویب سائٹ اور آن لائن درخواست دے سکتے ہیں اور اگر سہولت زیادہ آسان درکار ہو تو ٹول فری نمبر 1050 پر شکایت درج کرانا بھی ممکن ہے۔ یہ قدم اس بات کا عکاس ہے کہ ادارہ حقیقی معنوں میں عوام کے لئے کام کر رہا ہے۔لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے شہری ان سہولیات کے بارے میں واقف بھی ہیں؟ اکثر دیہی علاقوں کے لوگ ان سہولتوں تک رسائی نہیں رکھتے اور لاعلمی کے باعث مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ ایسے آگاہی سیشنز کی اہمیت اسی وقت بڑھ جاتی ہے جب یہ صرف کالجوں تک محدود نہ رہیں بلکہ گاؤں، قصبوں اور چھوٹے شہروں میں بھی منعقد ہوں۔صوبائی محتسب پنجاب کا بنیادی مقصد بلاشبہ عوام کو فوری، شفاف اور بلا معاوضہ انصاف فراہم کرنا ہے۔ لیکن یہ مقصد تبھی پورا ہوگا جب ہر شہری کو اس نظام تک رسائی حاصل ہو۔ آگاہی اور اعتماد کے ذریعے ہی عوام اس ادارے سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔میری نظر میں اس ادارے کی اصل کامیابی تب ہوگی جب کسی عام دیہاتی مزدور کی بھی آواز لاہور یا اسلام آباد کے دفاتر تک پہنچے اور اسے 45 دن کے اندر انصاف ملے۔ یہ وہ دن ہوگا جب عوام کو حقیقی معنوں میں “گھر کی دہلیز پر انصاف” کا احساس ہوگا۔*












