ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹوبہ ٹیک سنگھ میں لیبارٹری سسٹم کا المیہ
تحریر: محمد زاہد مجید انور
*ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال ٹوبہ ٹیک سنگھ جہاں ضلع بھر سے روزانہ سینکڑوں مریض علاج کی غرض سے رجوع کرتے ہیں وہاں علاج معالجے کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے باوجود انتظامی بدحالی اور غفلت کی داستانیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ تازہ صورتحال کے مطابق اسپتال کی لیبارٹری میں ماہر پیتھالوجسٹ، لیب ٹیکنیشنز ٹیکنالوجسٹ کی موجودگی کے باوجود مریضوں کو لیبارٹری ٹیسٹ کروانے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ لیبارٹری کے بیشتر امور ایسے اہلکاروں کے سپرد کر دیے گئے ہیں جو درجہ دوم کے ملازمین ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہ اہلکار رات کے اوقات میں وہ کام انجام دے رہے ہیں جو صرف ماہر پیتھالوجسٹ یا تربیت یافتہ لیب ٹیکنیشن ہی کرسکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ٹیسٹوں کی درستگی پر سوال اٹھتا ہے بلکہ مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔عوامی حلقوں میں اس معاملے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈی ایچ کیو اسپتال کو عوامی خدمت کے بجائے ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے جہاں نہ نظم و ضبط ہے نہ جواب دہی کا کوئی نظام۔ بعض مریضوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں معمولی ٹیسٹوں کے لیے بھی کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ بعض کو نجی لیبارٹریوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔یہ امر قابلِ غور ہے کہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف عوامی خدمت کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتی ہیں، مگر نچلی سطح پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ان کے ویژن پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں۔ ان اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے جو اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے عوام کی صحت کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔صحت کے شعبے میں شفافیت، کارکردگی اور جواب دہی کو یقینی بنانا حکومتِ پنجاب کی ذمہ داری ہے۔ اگر اس معاملے پر بروقت ایکشن نہ لیا گیا تو یہ نااہلی پورے نظامِ صحت کے لیے ایک بدنام مثال بن سکتی ہے۔عوام کی امید ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ضلعی انتظامیہ جلد از جلد اس سنگین صورتحال کا ازالہ کریں گی تاکہ ڈی ایچ کیو اسپتال ٹوبہ ٹیک سنگھ واقعی علاج کا مرکز بن سکے، لاپرواہی اور بدانتظامی کا نہیں۔*






