اسلام پورہ میں کم سن بچوں کو ہراساں کرنے کی مبینہ کوشش، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے پر تشویش، شہریوں سے احتیاط کی اپیل

*ٹوبہ ٹیک سنگھ (محمد زاہد مجید انور سے) محلہ اسلام پورہ میں کم سن بچوں کو ہراساں کرنے کی مبینہ کوشش کے ایک واقعے نے شہریوں خصوصاً والدین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق چوہدری سعید الرحمن طاہر والی گلی میں گھر کے باہر بیٹھے دو کم سن بچوں کے پاس موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوان آئے اور مبینہ طور پر ان سے رابطہ کرنے اور انہیں اپنے قریب بلانے کی کوشش کی، جس پر اہلِ محلہ کو صورتحال مشکوک محسوس ہوئی۔علاقہ مکینوں کے مطابق واقعہ دن کے اوقات میں پیش آیا جب بچے اپنے گھر کے باہر کھیل رہے تھے۔ موٹر سائیکل سوار افراد کی غیر معمولی حرکات نے مقامی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ اہلِ علاقہ کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھنے اور ردعمل ظاہر کرنے پر دونوں نوجوان وہاں سے روانہ ہو گئے۔ خوش قسمتی سے کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم اس مبینہ کوشش نے والدین اور مقامی آبادی کو فکرمند کر دیا ہے۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے جس میں موٹر سائیکل سوار افراد کی آمد و رفت اور بچوں کے قریب جانے کے مناظر ریکارڈ ہوئے ہیں۔ فوٹیج سامنے آنے کے بعد اہلِ علاقہ نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور مشتبہ افراد کی شناخت کو یقینی بنایا جائے تاکہ واقعے کے اصل حقائق منظر عام پر آ سکیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی تک واقعے کی مکمل تصدیق اور سرکاری موقف سامنے نہیں آیا، تاہم بچوں کے تحفظ کے پیشِ نظر اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو تنہا گلیوں اور سڑکوں پر نہ چھوڑیں، انہیں اجنبی افراد سے بات چیت نہ کرنے کی تلقین کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس یا متعلقہ اداروں کو دیں۔سماجی و عوامی حلقوں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے میں بچوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے محلوں اور آبادیوں میں نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کو فروغ دیا جائے اور عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ والدین اور بچے ممکنہ خطرات سے آگاہ رہ سکیں۔اہلِ علاقہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کا سراغ لگایا جائے اور اگر کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی ثابت ہو تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ اپنے محلوں میں مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں گے اور بچوں کے تحفظ کے لیے انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں گے۔عوامی حلقوں کے مطابق بچوں کا محفوظ مستقبل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، لہٰذا احتیاط، بروقت آگاہی اور اجتماعی تعاون کے ذریعے ہی ایسے واقعات کی مؤثر روک تھام ممکن بنائی جا سکتی ہے۔*