مون سون کا تیسرا سپیل: احتیاط ہی تحفظ کی ضمانت
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*پاکستان میں مون سون کی بارشیں جہاں موسم کی شدت کم کرنے، آبی ذخائر کو بھرنے اور زرعی شعبے کے لیے رحمت ثابت ہوتی ہیں، وہیں یہی بارشیں بعض اوقات زحمت بھی بن جاتی ہیں۔ شدید بارشوں کے نتیجے میں شہری سیلاب، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے، عمارتوں کے گرنے، بجلی کے حادثات اور ٹریفک کے مسائل جیسے خطرات جنم لیتے ہیں۔ انہی خدشات کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے 24 سے 27 جولائی تک مون سون بارشوں کے تیسرے سپیل کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق اس دوران پنجاب کے مختلف اضلاع میں تیز بارش، آندھی، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے، ندی نالوں میں طغیانی اور شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ کمزور عمارتوں، بجلی کے کھمبوں اور درختوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر تمام ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، واسا، میونسپل اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو مکمل الرٹ رہنے اور ہنگامی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن بروقت منصوبہ بندی، احتیاط اور عوامی تعاون سے ان کے نقصانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بارش کے دوران بجلی کی لٹکتی ہوئی تاروں، کمزور دیواروں، درختوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں۔ والدین اپنے بچوں کو بارش یا برساتی نالوں میں نہانے یا کھیلنے سے سختی سے روکیں، کیونکہ معمولی سی غفلت بھی کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں حالیہ بارشوں نے نکاسیٔ آب کے نظام کی خامیوں کو بھی نمایاں کیا ہے۔ متعدد علاقوں میں پانی کھڑا ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ متعلقہ ادارے صرف ہنگامی اقدامات تک محدود نہ رہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر سیوریج اور ڈرینج سسٹم کی بہتری، نالوں کی صفائی اور بارش کے پانی کی بروقت نکاسی کے لیے جامع منصوبہ بندی کریں تاکہ ہر بار مون سون کے موسم میں عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔دوسری جانب شہریوں کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ گلیوں اور نالوں میں کچرا پھینکنے سے گریز، موسمی پیش گوئی پر نظر رکھنا، سرکاری ہدایات پر عمل کرنا اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔ اجتماعی شعور اور تعاون ہی کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بہتر نتائج دے سکتا ہے۔پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی تازہ صورتحال سے باخبر رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر فوری رابطہ کریں۔ بروقت اطلاع اور ذمہ دارانہ رویہ نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جان و مال کے تحفظ کا بھی ذریعہ بن سکتا ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مون سون کی بارشیں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں، لیکن ان نعمتوں سے محفوظ انداز میں فائدہ اٹھانے کے لیے احتیاط، منصوبہ بندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔ اگر حکومت، متعلقہ ادارے اور عوام اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے نبھائیں تو ممکنہ خطرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے اور قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ املاک کا بھی تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔*













