استاد اسلم روڈا، پاکستانی ہاکی کا درخشاں باب،ہاکی کا عظیم استاد، دور اندیش کوچ اور پاکستان کا قابلِ فخر سپوت
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*پاکستانی ہاکی کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف کھیل تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ایک ادارے، ایک مکتبِ فکر اور ایک عہد کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ استاد اسلم روڈا بھی انہی عظیم شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنی صلاحیت، محنت، دور اندیشی اور ہاکی سے بے لوث محبت کے ذریعے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب کوچ تھے بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو پہچاننے اور انہیں عالمی معیار کے کھلاڑی بنانے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔استاد اسلم روڈا کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی پوری زندگی قومی کھیل ہاکی کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ وہ میدان میں موجود کسی بھی بچے یا نوجوان کھلاڑی کی حرکات و سکنات، کھیلنے کے انداز اور فطری صلاحیتوں کو دیکھ کر اس کے مستقبل کا اندازہ لگا لیتے تھے۔ ان کے قریبی ساتھیوں اور شاگردوں کا کہنا تھا کہ استاد اسلم روڈا اکثر کسی نو آموز کھلاڑی کے بارے میں پیش گوئی کرتے کہ یہ بچہ مستقبل میں قومی ٹیم کا حصہ بنے گا، اور حیرت انگیز طور پر ان کی بیشتر پیش گوئیاں بعد میں درست ثابت ہوتیں۔ان کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ صرف تکنیکی تربیت نہیں دیتے تھے بلکہ کھلاڑیوں کی کردار سازی، نظم و ضبط، محنت، قربانی اور قومی جذبے کو بھی پروان چڑھاتے تھے۔ ان کے نزدیک ایک اچھا کھلاڑی بننے سے پہلے ایک اچھا انسان بننا ضروری تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے زیرِ تربیت بے شمار کھلاڑی نہ صرف کھیل کے میدان میں کامیاب ہوئے بلکہ عملی زندگی میں بھی نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔استاد اسلم روڈا کا شمار ان کوچز میں ہوتا تھا جنہوں نے پاکستان کے ہاکی ٹیلنٹ کو نکھارنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے مختلف سطحوں پر نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی کی اور انہیں قومی و بین الاقوامی مقابلوں کے لیے تیار کیا۔ ان کی کوچنگ کا انداز منفرد تھا۔ وہ ہر کھلاڑی کی کمزوری اور خوبی کو الگ الگ سمجھتے اور اس کے مطابق تربیت دیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے شاگرد انہیں صرف استاد نہیں بلکہ ایک رہنما، محسن اور سرپرست سمجھتے تھے پاکستانی ہاکی کے سنہری دور کے کئی ستاروں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ استاد اسلم روڈا کی تربیت اور رہنمائی نے ان کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ہاکی کے کھیل کو صرف ایک مقابلہ نہیں بلکہ قومی وقار اور عزت کا معاملہ سمجھتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ پاکستان ایک بار پھر دنیا کی نمبر ون ہاکی قوت بنے اور قومی پرچم بین الاقوامی میدانوں میں سربلند رہے۔استاد اسلم روڈا کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ خلوص، محنت، لگن اور وژن کے ذریعے کسی بھی شعبے میں تاریخ رقم کی جا سکتی ہے۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ہاکی سے وابستہ حلقے ان کے احسانات کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔آج جب ہم استاد اسلم روڈا کو یاد کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی ہاکی ایک ایسے محسن، استاد اور رہنما سے محروم ہو گئی ہے جس کی کمی مدتوں محسوس کی جاتی رہے گی۔ وہ صرف ایک کوچ نہیں تھے بلکہ ایک ایسا وژن تھے جو عام کھلاڑی کو غیر معمولی کھلاڑی بنا دیتا تھا۔ ان کی یادیں، ان کی تربیت اور ان کا فلسفۂ کھیل ہمیشہ زندہ رہے گا۔اللہ تعالیٰ استاد اسلم روڈا کے درجات بلند فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا کرے اور ان کی ہاکی کے لیے گرانقدر خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔ 🏑🇵🇰*









