ننھی مومینہ کی المناک موت: ایک لمحے کی غفلت، عمر بھر کا دکھ
تحریر ۔محمد زاہد مجید انور
زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، لیکن بعض اوقات چند لمحوں میں رونما ہونے والے واقعات پورے معاشرے کو سوگوار کر دیتے ہیں۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی علاقے چک نمبر 351 گ ب ناگرہ پل کے قریب پیش آنے والا ایک افسوسناک سانحہ بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے جس نے ہر آنکھ کو اشکبار اور ہر دل کو غمزدہ کر دیا۔ چار سالہ معصوم بچی مومینہ نہر میں گر کر جاں بحق ہو گئی اور یوں ایک ہنستا بستا گھر چند لمحوں میں ماتم کدہ بن گیا۔اطلاعات کے مطابق مومینہ دختر محمد اختر، سکنہ چک نمبر 335 نی آبادی، معمول کے مطابق گھر کے قریب نہر کے کنارے موجود تھی۔ معصوم بچی جوتی اور ہاتھ منہ دھو رہی تھی کہ اچانک اس کا پاؤں پھسل گیا اور وہ نہر کے تیز بہاؤ میں جا گری۔ پانی کی موجیں اس قدر تیز تھیں کہ چند لمحوں میں وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ اہل خانہ کی چیخ و پکار اور مقامی افراد کی فوری کوششوں کے باوجود بچی کو نہ بچایا جا سکا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ٹیمیں حرکت میں آ گئیں۔ موٹر بائیک سروس، ایمبولینس اور واٹر ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت اور جذبۂ خدمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لائن سرچ، بوٹ آپریشن اور سکوبا ڈائیونگ کے ذریعے نہر کے مختلف حصوں میں بچی کی تلاش جاری رکھی۔تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والا سرچ آپریشن ایک کٹھن مرحلہ تھا۔ ریسکیو اہلکار شدید گرمی اور دشوار حالات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ بالآخر معصوم مومینہ کی لاش جائے وقوعہ سے تقریباً چار کلومیٹر دور نہر سے برآمد کر لی گئی۔ لاش ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے فوری طور پر سی پی آر اور دیگر طبی امدادی اقدامات کیے اور بچی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا، تاہم ڈاکٹرز نے معائنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کر دی۔مومینہ کی موت صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ دیہی علاقوں میں نہروں کے کنارے کھیلتے اور گھومتے بچوں کی زندگیاں اکثر خطرات سے دوچار رہتی ہیں۔ والدین کی معمولی سی غفلت یا حفاظتی انتظامات کی کمی کبھی کبھی ایسے سانحات کو جنم دیتی ہے جن کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔اس واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی۔ اہل علاقہ، سماجی شخصیات، سیاسی رہنماؤں اور مختلف عوامی حلقوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ معصوم بچی کے والدین اور اہل خانہ غم سے نڈھال دکھائی دیے جبکہ تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔ ہر شخص کی زبان پر یہی الفاظ تھے کہ ایک معصوم جان کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ریسکیو 1122 کے اہلکار خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود مسلسل چار گھنٹے تک سرچ آپریشن جاری رکھا اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کی۔ ایسے ادارے مشکل ترین حالات میں عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے شب و روز خدمات انجام دے رہے ہیں۔یہ سانحہ والدین اور سرپرستوں کے لیے ایک اہم پیغام بھی ہے کہ بچوں کی حفاظت میں کسی قسم کی لاپرواہی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ نہروں، دریاؤں، تالابوں اور دیگر آبی مقامات کے قریب بچوں کو اکیلا چھوڑنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین بچوں پر خصوصی نظر رکھیں جبکہ متعلقہ ادارے نہروں کے کناروں پر حفاظتی اقدامات اور آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنائیں۔ننھی مومینہ تو اس دنیا سے رخصت ہو گئی، مگر اس کی المناک موت کئی سوالات چھوڑ گئی ہے۔ یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بچوں کی حفاظت صرف والدین ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو کل کسی اور گھر کا چراغ بھی اسی طرح بجھ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ معصوم مومینہ کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، اس کے درجات بلند کرے اور سوگوار خاندان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔










