روشنی کا ایک باب چوہدری اصغر علی ایڈووکیٹ (1950ء تا 2025ء)

تحریر: محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ۔۔۔آج شہر کا آسمان اداس ہے۔ ایک اور درخشاں ستارہ غروب ہو گیا۔سابق صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن، معروف سینئر قانون دان، ہمدرد اور شفیق شخصیت چوہدری اصغر علی ایڈووکیٹ بقضائے الٰہی انتقال کر گئے۔انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔زندگی کا سفر ایک سنہری داستان چوہدری اصغر علی ایڈووکیٹ 1950ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کی پاکیزہ مٹی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی، پھر ایف اے اور بی اے کی ڈگریاں بھی اپنے شہر کے تعلیمی اداروں سے حاصل کیں۔ قانون سے محبت اور انصاف کے جذبے نے انہیں وکالت کے شعبے کی طرف راغب کیا۔انہوں نے 1978ء میں پنجاب یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی، اور 1979ء میں عملی زندگی کا آغاز کیا۔اپنے کیریئر کے ابتدائی برسوں میں وہ روزگار کے سلسلے میں مختلف ممالک کے دورے پر گئے، جہاں انہوں نے کئی عملی تجربات حاصل کیے۔1983ء میں وطن واپس آ کر انہوں نے مستقل طور پر وکالت کا پیشہ اپنایا اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قانونی و سماجی منظرنامے پر نمایاں کردار ادا کیا۔وکالت اور قیادت چوہدری اصغر علی ایڈووکیٹ نے اپنی دیانت داری، محنت اور پیشہ ورانہ مہارت سے وکلاء برادری کے دل جیت لیے۔2015ء میں وہ پہلی بار صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ٹوبہ ٹیک سنگھ منتخب ہوئے۔بعد ازاں 2022ء میں دوبارہ اسی منصب پر فائز ہوئے — جو اُن کی مقبولیت، شفافیت اور خدمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے ہمیشہ وکلاء برادری کی فلاح و بہبود، قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کے لیے دن رات محنت کی ان کی قیادت میں بار ایسوسی ایشن نے کئی نمایاں اصلاحی و فلاحی اقدامات کیے، جنہیں آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ایک ملاقات، جو یاد بن گئی مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب ان کی محبت بھری دعوت پر میں اُن سے ان کے چیمبر میں ملاقات کے لیے گیا۔شفقت بھرے لہجے میں انہوں نے میرا حال احوال پوچھا، اور مسکراتے ہوئے کہاکہ “بیٹا، میں آپ کے کالم باقاعدگی سے پڑھتا ہوں۔ آپ کمال کے کالم نگار ہو۔آپ کے والد مرحوم میرے بچپن کے دوست تھے۔ ہم دونوں صبح سویرے مسجد میں قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔”ان کی باتوں میں محبت، خلوص اور پرانی یادوں کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔میں نے اُس لمحے محسوس کیا کہ ہمارے بزرگوں کے رشتے کتنے پاکیزہ، مخلص اور روحانی تھے جنہیں وقت کی گرد بھی دھندلا نہیں سکی۔ایک عظیم انسان، ایک خوبصورت یادچوہدری اصغر علی ایڈووکیٹ صرف ایک وکیل نہیں بلکہ ایک کردار، ایک روایتی شرافت اور ایک اخلاقی درس کا نام تھے۔وہ ہمیشہ مسکراتے رہتے، سب کی مدد کرتے اور نوجوان وکلاء کی رہنمائی میں پیش پیش رہتے۔ان کا دفتر صرف قانونی مشاورت کا مرکز نہیں بلکہ محبت اور رہنمائی کا گوشہ تھا۔آج ان کی جدائی نے نہ صرف بار ایسوسی ایشن بلکہ پورے شہر کو غمزدہ کر دیا ہے۔یقیناً ان جیسی شخصیات مدتوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ میرے والدِ مرحوم حاجی عبد المجید انور اور چوہدری اصغر علی ایڈووکیٹ مرحوم دونوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،اُن کی قبروں کو نور سے بھر دے، اور اُن کی نیکیوں کا تسلسل اُن کے خاندان اور شاگردوں کے ذریعے جاری رکھے۔آمین ثم آمین۔ وکلاء برادری کی جانب سے اظہارِ تعزیت سابق صدور، عہدیداران اور وکلاء برادری نے چوہدری اصغر علی ایڈووکیٹ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “چوہدری اصغر علی ایڈووکیٹ ایک بااصول، شفیق اور ایماندار قانون دان تھےان کی وفات سے بار ایسوسی ایشن ایک بہترین رہنما سے محروم ہو گئی ہے۔اُن کی قانونی خدمات، اخلاق اور دیانت ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔”ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر، سیکریٹری، اور تمام سینئر وکلاء نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ “اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے خاندان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔”*