آوارہ کتوں کے خلاف مہم میونسپل انتظامیہ کی ذمہ داری کا بھرپور اظہار

تحریر محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ میں میونسپل کمیٹی کی جانب سے آوارہ کتوں کے خلاف شروع کی جانے والی مؤثر اور بھرپور مہم نہ صرف شہر کی سکیورٹی اور صفائی عامہ کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش ہے بلکہ یہ ضلعی انتظامیہ کی فعال اور عوام دوست پالیسیوں کا عملی ثبوت بھی ہے۔ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی ولید عثمان گجر کی خصوصی دلچسپی اور براہِ راست نگرانی نے اس مہم کو حقیقی معنوں میں کامیابی سے ہمکنار کیا۔گزشتہ کئی ہفتوں سے شہریوں کی جانب سے آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے حوالے سے شدید شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ سکولوں، پہاڑی نہروں، گلی محلوں اور بازاروں میں آوارہ کتوں کی موجودگی نہ صرف ایک مستقل خطرے کے طور پر موجود تھی بلکہ بچوں اور بزرگوں کی آواز میں اضطراب بھی نمایاں تھا۔ ایسے حالات میں میونسپل کمیٹی کی جانب سے فوری ردِعمل عوامی توقعات کے عین مطابق تھا انسدادِ آوارہ کتا ٹیم نے شہر کے مختلف محلوں، بازاروں اور حساس مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد آوارہ کتوں کو تلف کیا۔ یہ کارروائیاں بلا تفریق اور مکمل منصوبہ بندی کے تحت انجام دی گئیں تاکہ کوئی بھی علاقہ اس مسئلے کی زد سے محفوظ نہ رہے۔ شہریوں کی جانب سے اس اقدام کو سراہنا قابلِ غور ہے، کیونکہ آوارہ کتوں کے خوف کے باعث کئی علاقوں میں شام کے اوقات میں ٹریفک اور عوامی آمدورفت بھی متاثر ہو رہی تھی۔چیف آفیسر میونسپل کمیٹی ولید عثمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ شہریوں کی شکایات کے بعد اس مہم کو فوری طور پر شروع کیا گیا، اور مستقبل میں بھی ایسی سرگرمیاں جاری رہیں گی تاکہ شہر کا ماحول محفوظ اور پُرامن رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا تحفظ ہر حکومتی اور انتظامی ادارے کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور میونسپل کمیٹی اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔اس مہم نے جہاں شہریوں میں اطمینان کی فضا قائم کی، وہیں اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ شہر کی بہتری اور عوام کے تحفظ کے لیے انتظامیہ کو ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو فوری اور مؤثر نتائج دے سکیں۔ تاہم یہ پہلو بھی اہم ہے کہ آوارہ کتوں کی افزائش کے بنیادی اسباب پر توجہ دی جائے—صفائی کی مؤثر پالیسی، ویسٹ مینجمنٹ کا نظام اور پالتو جانوروں کی رجسٹریشن جیسے اقدامات طویل المدت حل فراہم کر سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی میونسپل کمیٹی نے اپنی کارکردگی کے ذریعے ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت نیک اور حکمت عملی مضبوط ہو تو عوامی مسائل کا حل ناممکن نہیں۔ اس کامیاب مہم کے بعد شہریوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ آوارہ کتوں کی موجودگی کی صورت میں فوراً میونسپل حکام کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔ شہری تعاون اور انتظامیہ کی سنجیدگی ہی وہ امتزاج ہے جو کسی بھی شہر کو محفوظ، صاف اور رہنے کے قابل بنا سکتا ہے۔*