مظفر گڑھ میں بہار
کہانی بابا نابینا اللہ ڈیوایا کی اور ڈپٹی کمشنر حافظ عثمان طاہر جپہ
تحریر علی امجد چوہدری
بابا اللہ بچایا کا تعلق علی پور کے نواحی علاقے عظمت پور سے ہے یہ بابا چند سال پہلے سے بینائی سے محروم ہو چکا ہے اس بابے نے زندگی میں ایک دن بھی سکول نہیں دیکھا اس بزرگ نے اپنی زندگی میں ایک روز بھی سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا اس کی زندگی جیسے تیسے بسر ہو رہی تھی مگر ستمبر اس کی زندگی کا خوفناک ترین مہینہ تھا جب اس کے کانوں میں آواز پڑی کہ پانڑی آ گیا اے ہر طرف افراتفری تھی یہ بھی چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ اسے بھی بچا لو مگر سب اپنی جانیں بچا کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے تھے بابا اللہ بچایاچیخ بھی رہا تھا اور منتظر تھا کہ کب وہ دریا کی بے رحم لہروں کا شکار ہوکر خالق حقیقی سے جاملے گا کہ اس نے چند آوازیں سنیں یہ خوفزدہ تھا کیونکہ اس سے پہلے یہ ان آوازوں سے مانوس نہیں تھا مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو ایک آواز آئی بابا تیکوں بچاونڑ آیا ہاں مظفر گڑھ دا ڈی سی آں تیرا پتر آں وہ دن بابا اللہ بچایا کی زندگی کا پہلا دن تھا جب اس نے پیٹ بھر کھانا کھایا اور پھر یہ سلسلہ کوئی پندرہ بیس روز تک جاری رہا جب یہ آواز سے آتی رہی اور اس کے پیٹ بھر کر کھانے کا سلسلہ اب تک جاری ہے یہ کہانی گزشتہ روز عظمت پور میں اس بابے نے مجھے خود سنائی جب مخدوم زادہ بلال عابد بخاری کے ساتھ گزشتہ روز عظمت پور ایک شادی کی تقریب میں گیا عظمت پور کے لوگ نہال تھے کہ انہوں نے ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ عثمان طاہر جپہ کو مسلسل ایک ماہ تک اس علاقے میں دیکھا اس سے قبل انہوں نے زندگی بھر کسی ڈپٹی کمشنر کو اس علاقے میں نہیں دیکھا تھا یہی رائے آپ کو چکفرازی میں بھی ملے گی اور بیٹ میر ہزار خان میں بھی
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ویلیج ڈسٹرکٹ کا نظام متعارف کرانے والے بھی عثمان طاہر جپہ ہی ہیں جہاں ضلع ایک دن کے لیئے دور دراز کی یونین کونسلز میں جاتا تھا اگر کسی کا مظفر گڑھ ڈپٹی کمشنر آفس جانے کا اتفاق ہو تو نو اور دس بجے وہ دیکھ سکتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر دفتر کے باہر روزانہ عام سائلین کے درمیان موجود ہوتے ہیں ایکشن اتنے تیز کہ سیلاب سے سڑک ٹوٹی تو چند دن میں ریپئر تھل جیپ ریلی کے انتظامات ماضی کی نسبت بیس گنا زیادہ بہتر مظفر۔ گڑھ شہر کی خوبصورتی پہلے سے بہتر پروٹوکول سے کوسوں کی دوری
حقیقت یہی ہے کہ ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ عثمان طاہر جپہ مظفر گڑھ کی عوام کے لیئے اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا تحفہ ہیں ایسی شخصیت جن کے لیئے عہدہ اہمیت نہیں رکھتا بلکہ عہدے کے لیئے یہ زیادہ اہمیت رکھتے ہیں
کیونکہ یہ امید سحر ہیں
علی امجد چوہدری
مری والو خدارا خود کو بدلو
کل کوئی پانچ سال بعد دو تین گھنٹے کیلئے ایک دوست کیساتھ مری جانا ہوا۔ مال روڈ کے قریب ہم ایک مارکیٹ سے جب پیدل گزر رہے تھے۔ تو دو سے تین مقامی لوگ انے وا چلتے ہوئے میرے کندھوں سے ٹکرائے جنہیں رستوں پر چلنے کے آداب کا بھی نہیں معلوم تھا شاید۔ جب چوتھا انسان میرے کندھے سے ٹکرایا تو میں نے گزرتے ہوئے کہا بھائی دیکھ کے چلو۔ وہ اچانک رک گیا غصے سے میری طرف بڑھا اور لال پیلا ہوتے ہوئے بڑی بدتمیزی سے بولا کیا مسئلہ ہے بولو۔ دھیان سے بات کرو وغیرہ ایسے کچھ اور رف جملے بول گیا۔ وہ کوئی اٹھارہ سال کا دبلا سا لڑکا تھا اس کا رویہ ایسا تھا جیسے ابھی اچانک مجھ پہ حملہ کرتے ہوئے مرنے مارنے پر آ جائیگا۔ میں صرف اس کے منہ پر ایک مکا مارتا تو وہ دوبارہ اٹھنے کے قابل نہ رہتا۔ میں کسی پر اپنی پولیس افسری نہیں جھاڑتا نا تعارف کرواتا ہوں میں نے پورے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے کہا کہ میں نے صرف یہ کہا ہے کہ بھائی دیکھ کے چلو اور کیا بات کی ہے۔ آگے سے کہتا کیا بات کر لو گے کرو بات جیسے پوری طرح لڑائی کے موڈ میں ہو خیر اسی دوران ایک آدمی آیا اسے سمجھایا چلو چھوڑو جاؤ اب۔ لیکن اس وقت میرا بری طرح موڈ خراب ہو گیا کیونکہ میں نا کسی سے بدتمیزی کرتا ہوں نا برداشت کرتا ہوں۔ اسی دوران مال روڈ پر چلتے ہوئے دیکھا دوکانداروں کی بڑی تعداد خالی بیٹھی ہے۔ مال روڈ میں بھی اکا دکا سیاح نظر آئے۔ چئیر لفٹ تک گئے وہاں پر بھی کوئی خاص عوام نظر نا آئی۔ یہ سب مری والوں کی سیاحوں کیساتھ بدتمیزیوں اور بار ہا کی لڑائیوں اور برے سلوک کا نتیجہ ہے۔
میں نے پاکستان کے بہت سارے سیاحتی مقامات گھومے ہیں لیکن سب سے برے اور بدتمیز لوگ مری والے پائے گئے جس کی وجہ سے سیاحوں کی بڑی تعداد اب وہاں کا رخ نہیں کرتی۔
میں نہیں کہتا کہ مری کے سب لوگ ایسے ہونگے۔ مری کے باشعور پڑھے لکھے لوگ آگے آئیں ایسے بدتمیزوں کو سمجھائیں اپنی نسلوں کی اچھی تربیت کریں تاکہ انہیں عقل آ سکے کہ مہمان سیاحوں کیساتھ کیسے عزت سے پیش آیا جاتا ہے۔
محمد عدنان
🌴✍️حافظ عثمان طاہر جپہ کا تعلق ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ کے ایک گائوں عاربی والا سے ہے اور آج تک وہیں رہاہش پزیر ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ میرا جینا مرنا اپنے گائوں کے لوگوں کے ساتھ ہے اور ایک دیہاتی آدمی ہے اور ایک سادہ لوح نیک ،ملنسازانسان ہے اور حافظ قرآن بھی ہیں اور بچپن سے ہی اسلام سے بہت زیادہ محبت رکھتے تھے اور بہت زیادہ دینی علم بھی رکھتے ہیں اور ایماندار شریف، زمیندار فیملی سے تعلق رکھتے ہیں عثمان طاہر جپہ صاحب شروع سے ہی انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں
اور اپنی برادری میں ان کی نیک نیتی اور شرافت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے پورا ضلع چنیوٹ ان کا فین ہے
آج عثمان طاہر جپہ صاحب نے اپنی قوم کا نام روشن کیا ہے اور آج پورا پاکستان ان کا فین ہے
اجکل میڈیا کے کچھ ٹاؤٹ ان کے خلاف ایک خاص قسم کا پراپیگنڈہ کر رہے ہیں جو کہ بالکل بے بنیاد ہے اور من گھڑت ہے ان کے قریبی رفقاء کے مطابق حافظ عثمان طاہر جپہ شروع سے ہی انسانیت کا درد رکھنے والے انسان ہیں اور وہ اپنا کام فرض سمجھ کر کرتے ہیں
اور حافظ طاہر عثمان کے مطابق حالیہ سیلاب متاثرین کی مدد وہ ڈیوٹی کے علاؤہ اللہ تعالیٰ کے مظلوم متاثرہ بندوں کی وجہ سے بڑھ چڑھ کر عقیدت اور اس محبت کی وجہ سے بھی کررہے ہیں جو انہیں سعودی عرب وزٹ پر ملی تھی بس یہی کام کچھ بیوروکریٹ کو ناگوار گزرے ہیں کہ اگر عثمان طاہر جپہ صاحب اس طرع کرتے رہے تو ہمیں بھی اسی طرع کام کرنا پڑے گا بس یہی بات ان کو ناگوار گزری ہے اور مین سٹریم میڈیا پر ان کے خلاف ڈرامہ کیا جا رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا سارا کا سارا ان کا فین ہے
عثمان طاہر جپہ کی عوام کیلیے خدمات پر پورا پاکستان ان کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے❣️👏






