کھلی کچہری: عوامی مسائل کے حل کی مؤثر راہ
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل گوجرہ میں عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک اہم اور قابلِ ستائش اقدام کے طور پر ایڈوائزر محتسبِ اعلیٰ پنجاب عبداللہ شاہد کی زیر صدارت کھلی کچہری 20 نومبر 2025 کو صبح 11 بجے میونسپل کمیٹی آفس میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔ کھلی کچہریوں کا مقصد نہ صرف عوام کی آواز کو سننا ہے بلکہ ان مسائل کو موقع پر ہی حل کرنے کے لیے ایک فعال اور مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا بھی ہے۔آج کے دور میں جب عوام براہِ راست سرکاری دفاتر تک رسائی یا اپنے مسائل کے بروقت حل کے لیے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، ایسے میں کھلی کچہری جیسے اقدامات امید کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں۔ خاص طور پر گوجرہ جیسے شہر میں، جہاں عام آدمی کو روزمرہ کے مسائل سے لے کر سرکاری محکموں کی غفلت تک متعدد مشکلات پیش آتی ہیں، وہاں عوامی شکایات کی فوری سماعت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔اس کھلی کچہری میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران بھی موجود ہوں گے تاکہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے شہریوں کو انتظار نہ کرنا پڑے اور وہیں موقع پر فیصلہ ہو سکے۔ یہ طریقہ کار نہ صرف شفافیت لاتا ہے بلکہ عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بھی بحال کرتا ہے۔ایڈوائزر محتسبِ اعلیٰ پنجاب عبداللہ شاہد نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ ادارے کا بنیادی مقصد عوام کو فوری اور مؤثر انصاف فراہم کرنا ہے۔ شفاف سماعت، بروقت کارروائی اور سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بہتری اسی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ ایسی کچہریاں نہ صرف عوامی فلاح کے لیے مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں بلکہ سرکاری افسران کے لیے بھی جوابدہی کا ماحول پیدا کرتی ہیں۔شہریوں کو اس کھلی کچہری میں بھرپور شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی آواز خود حکام تک پہنچا سکیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ عوامی شکایات کا حل اب میزوں میں دب کر یا مہینوں بعد نہیں بلکہ موقع پر ہی کیا جائے گا۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف عوامی ریلیف فراہم کرتے ہیں بلکہ حکمرانی کے نظام میں بہتری اور شفافیت کی نئی راہیں کھولتے ہیں۔یہ کھلی کچہری گوجرہ کے شہریوں کے لیے نہایت اہم موقع ہے۔ انہیں چاہیے کہ اس میں بھرپور شرکت کریں تاکہ نہ صرف اپنے مسائل کے حل کو یقینی بنائیں بلکہ اجتماعی بہتری کے عمل میں کردار بھی ادا کریں۔ اگر ایسے اقدامات مستقل بنیادوں پر جاری رہیں تو یقیناً عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ کم ہو کر ایک بہتر، شفاف اور مؤثر نظام کی بنیاد رکھے گا۔*






