روشنی بانٹنے والے لوگ

تحریر محمد زاہد مجید انور

*دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود بھی روشنی میں جیتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی چھوٹے چھوٹے چراغ جلا جاتے ہیں۔ انہی چراغاں کرنے والوں میں ایک نام مرحوم شیخ عبدالحق پوری ایڈووکیٹ کا ہے، جنہوں نے برسوں قبل کوٹ عبدالحق (موضع ہڈ) میں گورنمنٹ پرائمری سکول (بوائز) کے قیام کے لیے اپنی ذاتی زمین وقف کرکے خدمتِ خلق کی وہ بنیاد رکھی جو اب ایک تناور درخت کا روپ دھار چکی ہے۔ ان کی یہ نیکی محض زمین کی بخشش نہیں بلکہ علم کی سبیل جاری کرنے کا وہ عمل تھا جسے صدقہ جاریہ کہا جاتا ہے۔وقت گزرتا رہا، مگر نیکی کا بیج سوکھا نہیں… بلکہ اس نے پھر سے کونپلیں نکالیں۔ مرحوم کے فرزند، شیخ محمد رضوان الحق پوری جو اس وقت ڈپٹی سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کے منصب پر فائز ہیں—نے اپنے والد کی روشن روایت کو نئی زندگی عطا کرتے ہوئے ایک اور بڑا قدم اٹھایا۔ انہوں نے اپنی ذاتی ملکیتی زمین محکمہ تعلیم کے نام وقف کر دی، اور اپنے خلوص، کوشش اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے گورنمنٹ مڈل سکول (بوائز) کی منظوری حاصل کر لی۔یہ فیصلہ صرف ایک سکول کی منظوری نہیں بلکہ آنے والے زمانوں میں سینکڑوں بچوں کے خوابوں کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی حلقوں نے ان کی اس کاوش کو حقیقی معنوں میں “خدمتِ عملی” قرار دیا ہے۔ جس علاقے میں کبھی بچے فاصلے طے کر کے تعلیم حاصل کرنے نکلتے تھے، آج وہیں تعلیم خود چل کر آ پہنچی ہے۔ یہ یقیناً ایک ایسے خاندان کی جاری سنت ہے جو زمین بھی دیتا ہے اور علم بھی بانٹتا ہے۔اس کارِ خیر میں صوبائی وزیر تعلیم جناب رانا سکندر حیات کا تعاون بھی خصوصی طور پر لائقِ تحسین ہے، جنہوں نے اس منصوبے کی منظوری کے مراحل میں نہ صرف دلچسپی لی بلکہ اسے بروقت ممکن بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔اللہ تعالیٰ اس خاندان کے اخلاص کو قبول فرمائے، مرحوم شیخ عبدالحق پوری کے درجات بلند کرے، اور انہیں مزید نیکیوں اور روشنی بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔*
*آمین۔*