شہادت علی سپرا
انا للہ وانا الیہ راجعون
ازقلم : سلمان احمد قریشی
شہادت علی سپرا کے انتقال کی خبر سے دل اداس ہے۔ کچھ رخصتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف ایک انسان کے چلے جانے کا غم نہیں لاتیں، بلکہ ایک پوری فضا بدل جاتی ہے ایک عہد دفن ہو جاتا ہے اور یادوں کی راہیں ویران ہو جاتی ہیں۔ شہادت علی سپرا بھی ایسا ہی تھا۔ایک مضبوط کردار اور ایک زندہ روایت ، طالب علم رہنما، گورنمنٹ کالج میں نظر آنے والا ایم ایس ایف کا ایسا کردار جس سے نظریاتی تعلق نہ ہونے کے باوجود بہترین تعلق ضرور تھا۔
جب میں نے کالج میں داخلہ لیا تو ماحول میں جو پہلی نمایاں شخصیت دیکھی وہ شہادت علی سپرا تھا۔ دبنگ مگر باوقار، متحرک مگر متوازن، پُراعتماد مگر شائستہ کردار وہ صرف ایم ایس ایف کا چہرہ نہیں تھے بلکہ اُس زمانے کی سیاسی بیداری، جرات مندی اور عہدِ شہاب کی روشن علامت تھا۔
1990 اور 1991 کے وہ دن جو زندگی کا سب سے خوبصورت اور شاداب دور تھا۔کالج ہاسٹل آباد تھا۔کالج کے لان میں ہونے والی سیاسی سرگرمیاں، سٹوڈنٹس یونین کی میٹنگیں ہر منظر میں شہادت علی سپرا کا وجود نمایاں ہوتا تھا۔ اُن کی بات میں وقار، فیصلے میں حکمت اور رویّے میں نرمی ہوا کرتی تھی۔ اختلاف ہو یا اتفاق وہ ہر معاملے کو دلیل، بردباری اور متانت سے دیکھتے تھے۔
آج سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ وہ سب خواب اور وہ سب چہرے کیسے وقت کی گرد میں دھندلے ہوتے گئے، مگر شہادت علی سپرا کا چہرہ آج بھی صاف، زندہ اور اپنی پوری روشنائی کے ساتھ یاد آتا ہے۔ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔
دنیا کی بے ثباتی نے ایک اور چراغ بجھا دیا مگر کچھ چراغ بجھ کر بھی بجھتے نہیں۔ وہ روشنی بن کر دلوں میں رہتے ہیں اور شہادت علی سپرا بھی ہمیشہ یادوں کی روشنی میں زندہ رہیں گے۔ اُن کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ محض ذاتی تعلق کا غم نہیں بلکہ ایک تہذیبی، اخلاقی اور رفاقتی نقصان بھی ہے۔
وہ احترام، محبت اور اصولوں کے آدمی تھے۔سیاست ان کے لیے خدمت تھی مقابلہ نہیں۔رشتہ نبھانا ان کا وصف تھا، رسم نہیں۔آج جب اُن کے انتقال کا سوگ دل میں اترتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ ہم نے صرف ایک دوست، ساتھی یا طالبعلم لیڈر نہیں کھویا بلکہ وہ کردار کھو دیا جو تعلق کو بھی عبادت سمجھتا تھا۔
اللہ تعالیٰ شہادت علی سپرا کے درجات بلند فرمائے، اُن کی خطاؤں کو معاف فرمائے، اُن کی نیکیوں کو قبول فرمائے، اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
وہ لوگ جو کردار اور اخلاق کا معیار بن کر زندہ رہیں۔وہ مٹی کا حصہ تو بن جاتے ہیں مگر تاریخ انہیں بھولنے نہیں دیتی۔
ایک روشن چراغ بجھ گیا…اور ہم یادوں کی دھیمی روشنی میں بیٹھے رہ گئے۔






