صحافت بزدل کا کام نہیں — صحافت خوشامد کا کام نہیں
تحریر۔۔ ذیشان ظفر گوندل
نامہ نگار روزنامہ قائد اسلام آباد و بیوروچیف روزنامہ عوامی آواز لاہور و چیف رپورٹر روزنامہ لوکل ویوز ملتان 03016000943
صحافت ایک مقدس پیشہ ہے،جو سچ کی تلاش، حق کی آواز اور معاشرے کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ یہ میدان اُن لوگوں کے لیے نہیں جو خوف، دباؤ یا مفاد کے آگے جھک جائیں، بلکہ یہ اُن بہادر افراد کا راستہ ہے جو ہر حال میں سچ بولنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ صحافت بزدل کا کام نہیں اور نہ ہی یہ خوشامد کا پیشہ ہے۔
ایک حقیقی صحافی وہ ہوتا ہے جو حالات کے جبر، طاقتور حلقوں کے دباؤ اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر حقائق کو عوام کے سامنے لائے۔ وہ نہ کسی کی چاپلوسی کرتا ہے اور نہ ہی کسی کے سامنے سر جھکاتا ہے۔ اس کا قلم صرف سچ کا ساتھ دیتا ہے، چاہے اس کے لیے اسے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ برداشت کرنا پڑیں۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں صحافت کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ بعض عناصر اس پیشے کو ذاتی فائدے، شہرت یا طاقت کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے صحافت کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ مگر اس کے باوجود بہت سے ایسے باہمت صحافی موجود ہیں جو سچ کی شمع کو روشن رکھے ہوئے ہیں اور ہر قسم کے دباؤ کے باوجود حق گوئی سے پیچھے نہیں ہٹتے۔
صحافت کا اصل مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور معاشرے میں انصاف کو فروغ دینا ہے۔ ایک صحافی اگر بزدلی یا خوشامد کا راستہ اختیار کر لے تو وہ اپنے فرض سے غداری کرتا ہے۔ کیونکہ صحافت کا وقار سچائی، دیانت اور جرات میں پوشیدہ ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم صحافت کو اس کے اصل مقام پر دیکھیں اور ایسے صحافیوں کی حوصلہ افزائی کریں جو بے خوف ہو کر حق کی بات کرتے ہیں۔ ایک مضبوط اور آزاد صحافت ہی ایک مضبوط اور باشعور معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
“سچا صحافی وہی ہے جو طاقت کے ایوانوں سے نہیں، بلکہ سچ کے اصولوں سے ڈرتا ہے۔”










