عمر خان کا احسان
(اویس ملک)

تحریر نوید سدھانہ سیال جھنگ

جھنگ سے عمر خان صاحب کا پیغام موصول ہوا۔ بتا رہے تھے کہ اُن کے صاحبزادے اسامہ خان نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسامہ اس سے پہلے بھی سہہ بار وفاقی اور صوبائی سول سروسز کے امتحانات پاس کر چکے تھے لیکن اِس بار وہ پاکستان ایڈمنسڑیٹو سروس کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔ سوچا عمر خان کے ایک احسان کا شکریہ جو اس سے پہلے میں زبانی طور پر ادا کر چکا تھا کو تحریری طور پر بھی اُن کے بیٹے کے لیے قلمبند کر دوں کہ شاید سول سروس کی پر پیچ راہوں میں یہ تحریر اُنہیں تحمل، برداشت اور فہم و فراست کے ساتھ معاملات کو سلجھانے میں مددگار ہو۔

سال 2016 کی بات ہے کہ میں اُن دنوں جھنگ میں بطور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریوینیو تعینات تھا۔ ضلعی سطح کے عوامی نوعیت کے جھگڑے سلجھانے کی خاطر سول سوسائٹی کے جن نمائندگان کا ہمیں تعاون حاصل رہتا تھا اُن میں عمر خان کا نام بھی شامل تھا۔ اسی نوعیت کے ایک معاملے میں میرے دفتر میں اجلاس جاری تھا کہ ایک وکیل صاحب اچانک انتہائی غصے کی حالت میں اندر داخل ہوئے اور آتے ہی بلند آواز میں مجھے مخاطب کر کے کچہری کی حدود میں چلنے والی کینٹینوں کے غیر سرکاری ٹھیکوں سے متعلق معاملے پر چلانے لگے۔ شکایت یقینا” قابلِ غور تھی کیونکہ کچہری کی سرکاری املاک بشمول پارکنگ، کینٹینوں، دکانوں اور وکلا کے چیمبرز کی الاٹمنٹ میں انتظامیہ اور بار کے مابین ایک رسہ کشی چلتی ہی رہتی تھی لیکن حد یہ ہوئی کہ ان کی یک طرفہ گفتگو میں کچھ نازیبا الفاظ اخلاقی اعتبار سے اتنے نامناسب تھے کہ وہاں بیٹھے جرگے کے سارے اراکین کے ساتھ ساتھ میرے اپنے کانوں کی لویں بھی سرخ ہو گئیں۔ یہ سب اتنا غیر متوقع تھا کہ سمیت میرے سبھی شرکا ہکا بکا منہ سے کف اُڑاتے اُن وکیل صاحب کو حیرت سے تکنے لگے۔ جذبات پر قابو رکھ کر اور ایک وقار کے ساتھ سرکاری امور کی انجام دہی سول افسران کی تربیت کا جزولاینفک ہے۔ پھر بھی مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ وہ میری اب تک کی سروس میں پہلی بار ہوا تھا کہ ایک لمحے کو میرا جی چاہا کہ اُس بدلحاظ کو اُٹھ کر بائیں ہاتھ کا ایک آدھ تھپڑ جڑ دوں۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔ شاید ایک لمحے کی تاخیر معاملات کو مزید گھمبیر کر دیتی کہ عمر خان نے کمال سرعت سے مجھے اپنی طرف متوجہ کر کے صرف اتنا کہا “ناں سر۔۔۔” اور ہاتھ کے اشارے سے کسی بھی جذباتی ردعمل سے اجتناب برتنے پر اصرار کیا۔ عمر خان کے اس انداز میں جو اخلاص اور اپنائیت تھی اُس نے ایک لمحے میں میرے اندر اٹھنے والی ایک جذباتی لہر کو گویا جھاگ کی طرح بے اثر کر دیا۔ میں نے اپنے نائب قاصد کو فوری اپنے گن مین کو بلوانے کے لیے کہا۔ دفتر اور عدالت کا عملہ اونچی آوازیں سُن کر ویسےبھی اندر آ چکا تھا اور تھوڑی ہی دیر میں وکیل صاحب کو دفتر سے باہر نکلوانے کے بعد کار سرکار میں مداخلت اور دھمکانے وغیرہ جیسے استغاثے اور ایف آئی آر درج کروانے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا گیا جو اس نوعیت کے معاملات میں اکثر بے نتیجہ ہی اختتام پذیر ہوا کرتی ہے۔ غالبا” اسی لیے ضلعی سطح کی تعیناتیوں کے دوران میں ہمارے سول سروس کے کچھ اہلکار اس رائے کے حامل ہیں کہ گالی اور تھپڑ کا فوری جواب موقع پر ہی دے دینا بہتر ہوتا ہے بجائے اس کے کہ بعد میں بار اور سیشن کورٹ کی مداخلت سے پسپا ہو کر معاملات کو سلجھانے کی راہ تلاش کی جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس واقعے کے بعد جھنگ بار کے اُس وقت کے درویش منش صدر صوفی ثنااللہ رانجھا صاحب نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ میرے دفتر آ کر اس واقعے کی مذمت اور معذرت بھی کی۔

اُس دن عمر خان نے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے مجھے جس تحمل کے ساتھ صورتحال سے نمٹنے کا سبق دیا تھا وہ میں آج اُن کے بیٹے کو بھی دینا چاہتا ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ سرکاری فرائض کی بجا آوری اپنی ذات اور انا کو پس پشت ڈال کر ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ کسی بھی سرکاری اہلکار کو جو اتھارٹی قانونی طور پر میسر آتی ہے وہ ریاست اور عوام کے درمیان معاشرتی معاہدے کی پاسداری سے ہی متعلق ہے۔ اس لیے کسی بھی حکومتی اہلکار کو خالص سرکاری امور کی انجام دہی میں گالی پڑنے کا مطلب ریاست کو گالی ہے جس سے نمٹنے کا طریقہ بھی ریاست ہی نے وضع کر رکھا ہے۔ ریاستی نمائندوں کو سرکاری فرائض کی ادائی میں ایسے واقعات کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ جب کوئی مجرم امیر وقت کی گرفت میں آتے ہی اُس کے چہرے پر نفرت سے تھوک دیتا تھا تو اُس کی سزا اس بنیاد پر موخر کر دی جاتی تھی کہ کہیں شرعی قانون کے نفاذ میں ذاتی عناد یا انتقام کی آمیزش نہ ہو جائے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اسامہ اور اس کے سول سروس کے دیگر ساتھیوں کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں حکمت اور تحمل کے ساتھ مسائل کو حل کرنے کی توقیق اور استطاعت عطا فرمائے۔ آمین۔