عظیم باپ کا عظیم بیٹا ”
تحریر : زبیر احمد صدیقی



فخرِ چونڈہ، مخلوقِ خدا کا مسیحا”
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ انسان دھرتی پر آتے جاتے ہیں، تاہم کردار ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ یہ سلسلہ ازل سے شروع ہو کر ابد تک جاری رہے گا۔ دنیا و آخرت میں وہی لوگ کامیابی اور فلاح پائیں گے جنہوں نے مخلوقِ خدا کی خدمت کے لیے اپنا مال، جان اور وقت وقف کیا، زندگی خوفِ خدا اور عشقِ رسول ﷺ کے ساتھ بسر کی، اپنے محسنوں کا احترام کیا اور احکاماتِ خداوندی پر عمل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
شہداء اسلام کی بستی چونڈہ محاذ نے بھی بڑے خوبصورت اور عظیم انسان پیدا کیے ہیں۔ انہی عظیم سپوتوں میں سرزمینِ شہداء کے فرزند، ریٹائرڈ جسٹس سندھ ہائی کورٹ چوہدری شاہد انور باجوہ کا شمار بھی ایسے خوش قسمت انسانوں میں ہوتا ہے۔
آپ 26 دسمبر 1949ء کو سرزمینِ شہداء چونڈہ محاذ میں چوہدری محمد انور باجوہ کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ڈی سی ہائی سکول کلاس نمبر 1 میں حاصل کی، جہاں آج کل ریلوے اسٹیشن چوک کے قریب گورنمنٹ پرائمری سکول قائم ہے۔ والدہ محترمہ نواب بی بی نے بچپن ہی میں قاعدہ اور سولہ تک پہاڑے زبانی یاد کروا دیے تھے۔
اساتذہ کرام میں غلام حیسن جوکہ امین بھٹی کے والد محترم تھے۔ مظفر گیلانی جوکہ ڈاکٹر تفخر جیلانی کے والد محترم تھے ، غلام حسین، حبیب الرحمن جن کا نام قبل از اسلام منچھی رام تھا ، ظہور شاہ، ظفر الحق قریشی، محمد یوسف راں، صوفی محمد افضل اور محمد شفیع شامل تھے۔ آپ پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔سب نے ایم اے کیا تھا بڑی بہن شہناز امین رندھاوا ڈی ای او ( DEO ) لاھور رہی مجھ سے چھوٹی ہمشیرہ آمنہ رزاق باجوہ پروفیسر پولٹیکل سائنس کالج لاھور ملازمت صرف دونوں نے کی تھی جبکہ تمام بہنیں اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔
8 ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران چونڈہ کے حالات، ٹینکوں کی آمدورفت، سکولوں کی بندش اور گوجرہ ہجرت کے واقعات آج بھی آپ کی یادوں میں محفوظ ہیں۔ بعد ازاں لاہور سے ایف ایس سی اور مکینیکل انجینئرنگ مکمل کی اور 1973ء میں کراچی جا کر اٹامک انرجی میں ملازمت اختیار کی۔
بعد ازاں نیشنل موٹرز کمپنی میں پرسنل منیجر اور پھر ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچے۔ اسی دوران ہماری کمپنی کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تاریخی گاڑیوں کی مرمت کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔
چودہ سال ملازمت کے بعد ایل ایل بی کیا اور 1989ء میں وکالت کے شعبے میں قدم رکھا۔ 25 دسمبر 2009ء کو سندھ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور 5 اکتوبر 2012ء کو باعزت ریٹائر ہوئے۔
آپ کی شادی 1981ء میں ہوئی۔ دو بیٹے مجتبیٰ احمد باجوہ (بیرسٹر) اور سنان ظفر باجوہ (یوکے میں وکالت) آپ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔آپ کی تربیت آپ کے دادا محند دیوان باجوہ نے کی ۔تحصیل پسرور کے 1895ء پرائمری سکول میں تعلیم حاصل کی وہ چونڈہ کے پہلے میٹرک کرنے والے تھے ۔1895 ء کے گزٹئیر کی کاپی آپ کے پاس ہے جسمیں لکھا ہے کہ دومسلم زیلدار چوہدری امین بخش جوکہ میرے اور طارق باجوہ کے دادا کے دادا تھے اور دوسرے دولم کے میری دادی کے چچا چوہدری غلام مُحی الدین تھے۔ سیالکوٹ کے ہیڈ اور نمائندہ وہ زیلدار چوہدری امین بخش تھے۔ چوہدری شاہد انور باجوہ نے اپنے والد محترم کی یاد میں محمد انور میموریل ٹرسٹ قائم کیا، جس میں اپنی ذاتی رقم جمع کروا کر تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ اس ٹرسٹ کے ذریعے چونڈہ کے طلبہ و طالبات کو ایک کروڑ روپے سے زائد اسکالرشپس دی جا چکی ہیں اور ہر سال لاکھوں روپے مزید تقسیم کیے جاتے ہیں۔
تعلیم کے فروغ اور علاقہ کی ترقی کے لیے محمدانور ٹرسٹ کے چیف آرگنائزر محمد طارق باجوہ ( پرنس سٹوڈیو چونڈہ ) کی زیر نگرانی گورنمنٹ ڈی سی ہائی سکول چونڈہ میں غلام حسن طور ہال ( 22 لاکھ ) ، انور بلاک ( 35 لاکھ ) اور ایک کروڑ روپے کی جدید لائبریری، گورنمنٹ تبلیغ الاسلام ہائی سکول میں ( 42 لاکھ ) روپے کی خطیر رقم سے زیلدار امین بخش ہال، اور 25 لاکھ روپے کی لاگت سے گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول چونڈہ میں نواب بی بی لائبریری ( 25 لاکھ ) دو لاکھ روپے کُتب کے لیے الگ سے مختص، گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 2 میں معیز بلاک ( 54 لاکھ )ڈبل سٹوری اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ڈوگری ہریاں میں نئے بلاک ( 35 لاکھ ) کی خطیر رقم سے تعمیر کروائے گئے۔
آپ نے تبلیغ الاسلام ہائی سکول میں طلبہ کے لیے ٹیبل ٹینس کی سہولت بھی فراہم کی، مگر افسوس کہ متعلقہ ادارے کی عدم دلچسپی کے باعث یہ سہولت طلبہ کے استعمال میں نہ آ سکی۔
جسٹس شاہد انور باجوہ کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی پر سب سے زیادہ اثر اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ اقدس کا ہے۔ نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام ہے کہ کامیابی کا راز تین چیزوں میں پوشیدہ ہے:(1) اللہ کے رسول ﷺ سے سچا عشق(2) والدین کی اطاعت اور احترام(3) محنت اور سچائی ان کے مطابق محنت کا کوئی نعم البدل نہیں اور قرآن کریم بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔
خدمتِ خلق دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ چونڈہ محاذ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جسٹس شاہد انور باجوہ جیسے عظیم انسان نے اعلیٰ عدالتی منصب سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی اپنی سرزمین، اپنے تعلیمی اداروں اور عوام الناس کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔
بلاشبہ جسٹس ریٹائرڈ چوہدری شاہد انور باجوہ صرف چونڈہ کے عظیم سپوت ہی نہیں بلکہ عظیم باپ چوہدری محمد انور باجوہ مرحوم کے عظیم بیٹے بھی ہیں، جن کی فلاحی خدمات، تعلیمی منصوبے اور خدمتِ خلق کا جذبہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کے والدین کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جسٹس شاہد انور باجوہ کو مزید خدمتِ خلق کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔









