عالمی قرضوں کا بحران اور ترقی پذیر ممالک کی مشکلات

تحریر: اللہ نواز خان

allahnawazk012@gmail.com

قرضوں کی وجہ سے ترقی پزیر ممالک کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔قرضوں کے جال میں پھنسا کر بہت سے ممالک کی معیشتوں پر قبضہ کرنے کے علاوہ انتظامی امور کو بھی کنٹرول کیا جا رہا ہے۔قرضے ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔قرض تقریبا تمام ممالک لیتے ہیں لیکن مسائل کمزور ممالک کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک معاشی طور پر مستحکم ہوتےہیں،ان کے لیے قرضہ مسئلہ نہیں بنتا۔غریب اور ترقی پذیر ممالک کےلیے قرض معاشی اور دیگر مسائل پیدا کر دیتا ہے۔عالمی بینک،آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ترقی پذیر ممالک قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ترقی پزیر ممالک کو معیشتیں چلانے،ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے اور مالیاتی خسارے پر قابو پانے کے لیے مسلسل بیرونی قرضوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔قرض پر چلنے والی معیشتیں ہمیشہ مسائل کا شکار رہتی ہیں۔کوئی ملک اگر قرض حاصل کرتا ہے تو اس کو قرض دینے والی کی شرائط بھی تسلیم کرنا پڑتی ہیں۔مقروض ممالک ٹیکسز میں اضافہ،مہنگائی میں اضافہ،فنڈز میں کٹوتی جیسی شرائط تسلیم کر کے ملک کی خود مختاری کو کمزور کرتے ہیں۔اکثر اوقات اس قسم کی شرائط بھی تسلیم کر لی جاتی ہیں،جن کا عام حالات میں سوچنا بھی تصور نہیں کیاجاتا۔سیاسی طور پر بھی مداخلت بڑھ جاتی ہے،جس کا نقصان مقروض ملک کو ہوتا ہے۔من پسند حکمرانوں کو حکومت دے کر قرض دینے والے ممالک اپنی مرضی کی پالیسیاں بنوا کر نافذ کر دیتے ہیں۔قرض لینے والے ممالک میں کرپشن،میرٹ کی پامالی سمیت کئی قسم کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔
کچھ ممالک صنعتوں کے لحاظ سے مضبوط ہوتے ہیں اور کچھ ممالک میں معدنیات موجود ہوتی ہیں۔صنعتوں اور معدنیات سے ملک معاشی طور پر مضبوط ہوتا ہے۔خلیجی ممالک میں تیل پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان ممالک کی معیشت مضبوط ہے۔جرمنی،جاپان کے علاوہ کئی ممالک میں صنعتی خوشحالی ہے۔کئی ممالک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے مسائل پائے جاتے ہیں،حالانکہ معدنیات سمیت کئی قسم کے خزانے موجود ہوتے ہیں۔جنگوں کی وجہ سے بھی معاشی دھچکا پہنچتا ہے۔دیگر بھی کئی قسم کے مسائل ہیں جن کی وجہ سے ممالک معاشی کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔مختلف مسائل کی وجہ سے ان ممالک کو قرض کی ضرورت ہوتی ہے۔قرض دینے والے ان ممالک کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔بھاری سود کےعوض قرض دیا جاتا ہے۔مقروض ملک اکثر اوقات قرض کی قسط ادا کرنے کے لیےمزید قرض لیتا ہے۔قرض در قرض کا سلسلہ دراز ہوتا جاتا ہے اور وہ ملک کبھی بھی معاشی صورتحال کو بہتر نہیں کر سکتا۔قرض معاشی استحکام اور قومی خود مختاری کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔قرض لینے والے ممالک اکثر اپنے ترقیاتی منصوبے پائیہ تکمیل تک نہیں پہنچا پاتے۔رقم کی کمی صحت،تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات کے فنڈز میں کٹوتی کر کے پوری کی جاتی ہے۔اس قسم کے مسائل سے مزید مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔قرض لیا جائے لیکن بہتر منصوبہ بندی سے خرچ کیا جائے تو ملک ترقی کر سکتا ہے۔دوسری صورت میں قرض لینے والا ملک ہمیشہ مقروض رہے گا اور معاشی کمزوری کا بھی سامنا کرتا رہے گا۔
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے 122 ممالک خطرناک حد تک قرضوں کےبوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔کئی ممالک کی تو معاشی حالت انتہائی خراب ہے۔قرضے کی وجہ سے سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے،حالانکہ سرمایہ کاری سے کسی بھی ملک کی معیشت کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔قرض لے کر ملک کی معیشت کو مزید کمزور کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عوامی زندگی متاثر ہوتی ہے۔معاشی لحاظ سے کمزور ممالک جب تک قرض سے چھٹکارا نہیں پاتے،اس وقت تک معاشی استحکام کا حاصل ہونا مشکل ہے۔بہتر پالیسیاں بنا کر قرض سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کی جائے۔لوکل انڈسٹریز کا فروغ لازما کرنا چاہیے۔ملک میں موجود فیکٹریوں کو سبسڈی اور دیگر سہولیات دے کر معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔موبائل،گاڑیاں،الیکٹرانکس کا سامان اور دیگر مصنوعات ملکی طور پر تیار کی جائیں۔مشینری بھی ملک کے اندر تیار کی جانی چاہیےاور مصنوعات کا معیار بھی بہتر ہو۔اگر معیاری مصنوعات تیار کی جائیں گی تو ان کی عالمی منڈی میں بہتر قیمت مل سکے گی۔ٹیکس کا نظام بہتر بنانا چاہیے اور ٹیکس نیٹ ورک کی توسیع بھی لازمی ہونی چاہیے۔ٹیکس سسٹم کو ڈیجیٹل پر منتقل کیا جائے اور ٹیکس کی شفافیت کا خاص خیال رکھا جائے۔امیر سے براہ راست ٹیکس وصولی کا انتظام کیا جائے۔کمزور طبقات کے لیے سبسڈی کا نظام ہونا چاہیے۔غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ملکی سرمایہ کاروں کو بھی سہولیات دی جائیں،تاکہ ملک میں سرمایہ کاری سے خوشحالی پیدا ہو سکے۔جن ممالک میں کرپشن زیادہ ہو وہ ملک بھی معاشی طور پر مضبوط نہیں ہو سکتے۔کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے ورنہ کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔جن ممالک کے پاس بہترین زرعی رقبے ہیں،اگر زراعت کے شعبے پر توجہ دی جائے تو معیشت مستحکم ہو سکتی ہے۔معدنیات کو بھی استعمال میں لایا جائے۔کئی ممالک میں قیمتی معدنیات کے ذخائر موجود ہوتےہیں، لیکن ان کو استعمال میں نہ لا کر معاشی بدحالی برداشت کی جا رہی ہوتی ہے۔بہت سے ذرائع ہیں جن کی وجہ سے کوئی بھی ملک اپنی معیشت کو مضبوط کر کے قرضوں کے جال سے نکل سکتا ہے۔
قرض کابحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔کرونا وبا نے بھی عالمی معاشی نظام کو زبردست نقصان پہنچایا۔بہت سے ممالک اس وبا کی وجہ سے معاشی طور پر کمزور ہو گئے۔قرضوں کا بحران بہت سے ممالک کی ترقی کو روک رہا ہے۔معاشی لحاظ سے کمزور ممالک متحد ہو کر خود مختار ہو سکتے ہیں۔قرض کی رقم بہتر منصوبوں پر استعمال کرنے سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔مثال کے طور پر تعلیم کا بجٹ زیادہ ہونا چاہیے۔اگر تعلیم پر زیادہ رقم خرچ کی جائے تو مستقبل میں معاشی انقلاب آ سکتا ہے۔تعلیم کے علاوہ دیگر بہتر منصوبوں پر سرمایہ خرچ کیا جائے،جس کا فائدہ لازما ہوگا۔یہ کہنا ضروری ہے کہ فوری طور پر قرضوں سے نجات حاصل نہیں کی جا سکتی،آہستہ آہستہ اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔قرض کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ بے شمار ممالک کا مسئلہ ہے۔بہتری کے لیے کام نہ کرنے والے ممالک ہمیشہ ابتر صورتحال کا سامنا کرتے رہیں گے۔قرض جیسے بحران کا مقابلہ کرنا آسان نہیں لیکن ناممکن نہیں۔کوشش سے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے۔