پاکستان میں بڑھتی بےروزگاری کےخطرناک اثرات

تحریر: اللہ نواز خان

allahnawazk012@gmail.com
ترقی یافتہ ممالک میں بےروزگاری کی شرح بہت ہی کم،بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ترقی پذیر ممالک میں بےروزگاری کی شرح بہت ہی بلند سطح تک پہنچ چکی ہے۔پاکستان میں بھی بےروزگاری بہت زیادہ پھیل رہی ہے۔فوری طور پر اس پر کنٹرول کرنے کی کوشش نہ کی گئی مستقبل میں اس کے نتائج بہت ہی سنگین نکلیں گے۔اب بھی بےروزگاری میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔مجموعی بےروزگاری کی شرح 7.1فیصد کے قریب ہے۔ایسی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جن سے بےروزگاری ختم نہیں ہوتی۔ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جن سے بے روزگاری میں کمی ہو سکے۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے مطابق بےروزگاری کی تعریف اس طرح کی گئی ہے”بےروزگار وہ شخص ہے جو روزگار نہ رکھتا ہو اور پچھلے چار ہفتوں سے روزگار تلاش کر رہا ہو”چار ہفتوں سے روزگار سے محروم شخص کو بےروزگار کہا گیا ہے۔پاکستان میں مہینوں اور سالوں تک بےروزگاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بےروزگاری کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔معاشی بحران،آئی ٹی،زراعت اور صنعت میں روزگار کے محدود مواقع کے باعث نوجوانوں اور اعلی تعلیم یافت طبقہ کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ انتہائی پریشان کن ہے۔نوجوانوں کی بےروزگاری میں اضافہ خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔اگر فوری طور پر سد باب نہ کیا گیا تو مستقبل میں اس پر کنٹرول بہت ہی مشکل ہو جائے گا۔
بےروزگاری کی بہت سی وجوہات ہیں۔ملک کی کمزور معیشت کی وجہ سے بےروزگاری بڑھ رہی ہے۔صنعتی مسائل بھی بہت زیادہ ہیں۔سست رفتار صنعتی ترقی کی وجہ سے بھی بےروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔زراعت کا شعبہ عدم توجہی کی وجہ سے زوال پذیر ہو رہا ہے۔ہنر سیکھنے پر بھی توجہ نہیں دی جاتی،اب تو جدید ہنر سیکھنا ضروری ہو گیا ہے۔روایتی تعلیم حاصل کی جاتی ہے،لیکن ٹیکنیکل تعلیم کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ایک نوجوان کے پاس تعلیم کی ڈگری ہوتی ہے لیکن ہنر نہ سیکھنے کے باعث روزگار حاصل نہیں کر پاتا۔مارکیٹ کے حساب سے ہنر سیکھنا ضروری ہوتا ہے۔آئی اے اور انٹرنیٹ سے نا واقفیت بھی بےروزگاری پھیلانے کا سبب بنتی ہے۔جدید تعلیم کو سیکھنا چاہیے تاکہ بےروزگاری میں کمی ہو سکے۔انٹرنیٹ اور نیٹ ورک کی بندش کا مسئلہ پاکستان میں اکثر و پیشتر موجود رہتا ہے اور اس مسئلے کی وجہ سے ڈیجیٹل روزگار متاثر ہوتا ہے۔ناخواندگی بھی بےروزگاری میں اضافہ کرتی ہے۔غربت اور دیگر مسائل کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کی جاتی۔تعلیم کی کمی کسی بھی معاشرے کے لیے سخت نقصان دہ ہوتی ہے۔پاکستان میں تعلیم کے شعبے پر خاص توجہ نہیں دی جاتی،جس کے نتائج بہت ہی بدترین نکل رہے ہیں۔سستی اور کاہلی کی وجہ سے بھی بےروزگاری بڑھتی ہے۔کاہل فرد اپنی کاہلی کی بنا پر کام نہیں کر سکتا۔اس طرح دیگر کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بے روزگاری میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں نظر أرہا ہے۔
بےروزگاری پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔نوجوانوں کو ڈیجیٹل ٹریننگ دے کر قابل روزگار بنایا جا سکتا ہے۔صنعتی ترقی کے بغیر بےروزگاری میں کمی انتہائی مشکل ہے۔صنعتوں کو سبسڈی دی جائے اور کوشش کی جائے کہ صنعتوں کو سستی توانائی مہیاہوسکے۔بہت سی صنعتیں مختلف مسائل کی وجہ سے بند ہو رہی ہیں،بندصنعتوں کو فوری طور پر چلانے کی ضرورت ہے۔زراعت میں بھی جدت لانی ضروری ہے۔زراعت کے لیے جدید مشینری کا بندوبست کیا جائے۔پاکستان میں زیادہ سے زیادہ کاروبار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔کاروبارکےلیےبغیر سود کے قرضے دیے جائیں تاکہ نوجوان کاروبار کی طرف راغب ہو سکیں۔نوجوان جب کاروبار شروع کریں گے تو نوکریاں بھی پیدا ہوں گی،جس کا فائدہ ہوگا۔غلط پالیسیاں بنالی جاتی ہیں جس سے بےروزگاری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ماہرین سے مشاورت کر کے ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جن سے ملک کی ترقی ہو سکے۔سرکاری اور غیر سرکاری ملازمتیں پیدا ہونا ضروری ہیں۔اب تو ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے،جس کی وجہ سے بےروزگاری بڑھ رہی ہے۔معدنیات کو بھی استعمال میں لایا جائے۔
بےروزگاری کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔روزگار نہ ملنے کی وجہ سے ڈپریشن،مایوسی اور نفسیاتی امراض بڑھ جاتے ہیں۔بےروزگار فرد اپنا علاج کرانے سے قاصر ہو جاتا ہے،یوں یہ امراض زندگیاں تباہ کر دیتے ہیں۔لاکھوں افراد بیرون ملک روزگار کے لیے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ڈاکٹرز،انجینیئر سمیت قابل افرادروزگار کے لیےملک چھوڑ رہے ہیں۔اگر ملک میں روزگار کا بہتر بندبست ہوتو کوئی بھی ملک سے باہر نہ جائے۔بےروزگار فرد جرائم کی طرف بھی آسانی سے راغب ہو جاتا ہے۔ضروریات کو پورا کرنے کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے،اگر رقم نہ ہو تو اس کا حصول ڈکیتی یا چوری کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ڈکیتی یا چوری کے علاوہ دھوکہ کے ذریعے بھی رقم حاصل کی جاتی ہے۔بےروزگار شخص جب ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے تو سکون کے لیے منشیات کا سہارا لیتا ہے۔اس طرح ایک بہترین انسان اپنی زندگی تباہ کر دیتا ہے۔بہت سے بےروزگار افراد منشیات فروشی بھی شروع کر دیتے ہیں۔بےروزگاری کی وجہ سے غربت پیدا ہوتی ہے اور غربت کی وجہ سے خاندانوں میں لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ایسےجھگڑے طلاق کے علاوہ قتل و غارت تک جا پہنچتے ہیں۔بعض نوجوان اعلی پوسٹ چاہتے ہیں،اگر ان کو اعلی پوسٹ نہ ملے تو وہ ہلکی پوسٹ کو نظر انداز کر کے بےروزگاری برداشت کر لیتے ہیں۔بعض نوجوان محنت کا کام کرنے سے کتراتے ہیں،جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔محنت میں کسی قسم کی شرم محسوس نہ کی جائے،بلکہ جائز کام کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔بےروزگاری کی ساری ذمہ دار حکومت نہیں،بلکہ ہم خود بھی ہیں۔حکومت اور عوام دونوں مل کر بےروزگاری میں کمی کر سکتے ہیں۔