پاکستانی صحافت بحران کی زد میں آزادیٔ اظہار کا امتحان یا اجتماعی کمزوری؟

تحریر وترتیب: محمد زاہد مجید انور

*پاکستانی صحافت اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے نازک اور کٹھن دور سے گزر رہی ہے جہاں نہ صرف عام کارکن صحافی شدید معاشی، پیشہ ورانہ اور انتظامی مشکلات کا شکار ہیں بلکہ ملک کے نامور، تجربہ کار اور بااثر صحافی، تجزیہ نگار اور دانشور بھی مختلف نوعیت کے دباؤ، پابندیوں اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال صرف چند افراد یا اداروں کا مسئلہ نہیں بلکہ آزادیٔ صحافت، جمہوری اقدار اور عوام کے حقِ معلومات سے جڑا ایک اہم قومی معاملہ بن چکی ہے۔حالیہ دنوں یہ خبر سامنے آئی کہ دنیا ٹی وی کا معروف پروگرام “نقطۂ نظر” بھی بند کر دیا گیا ہے، جس کی میزبانی ملک کے ممتاز صحافی، دانشور اور سینئر تجزیہ نگار مجیب الرحمٰن شامی کرتے تھے۔ یہ پروگرام طویل عرصے سے سنجیدہ صحافتی مباحث، قومی مسائل اور سیاسی تجزیوں کے حوالے سے اپنی منفرد شناخت رکھتا تھا۔ مختلف سیاسی جماعتوں، حکومتی حلقوں اور عوامی سطح پر مجیب الرحمٰن شامی کی آراء کو سنجیدگی سے سنا جاتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق پروگرام کی بندش کے بعد انہوں نے دنیا ٹی وی سے استعفیٰ بھی دے دیا، جو پاکستانی میڈیا کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی معروف پروگرام کو اچانک بند کیا گیا ہو۔ اس سے قبل دنیا ٹی وی کے مقبول تجزیاتی پروگرام “تھنک ٹینک” کو بھی بند کر دیا گیا تھا، جس میں ایاز امیر، ڈاکٹر حسن عسکری اور سلمان غنی جیسے تجربہ کار صحافی اور تجزیہ نگار ملکی معاملات پر مدلل گفتگو کرتے تھے۔ سلمان غنی آج بھی روزنامہ دنیا کے ایگزیکٹو گروپ ایڈیٹر ہیں، جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے ان پر بھی استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم یہ فیصلہ ان کا ذاتی اور پیشہ ورانہ اختیار ہے۔اصل سوال کسی ایک پروگرام یا ایک ادارے کا نہیں بلکہ اس مجموعی ماحول کا ہے جو پاکستانی صحافت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد صحافیوں، اینکر پرسنز، کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر میڈیا اداروں سے الگ کیا گیا، کئی پروگرام بند ہوئے اور کئی آوازیں خاموش ہوتی چلی گئیں۔ اس دوران صحافتی تنظیموں کی جانب سے بعض مواقع پر بیانات ضرور سامنے آئے، مگر عملی اور مؤثر اجتماعی جدوجہد کم دکھائی دی۔صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی آنکھ، کان اور ضمیر ہوتی ہے۔ اگر صحافی عدم تحفظ، دباؤ یا غیر یقینی حالات کا شکار ہوں تو اس کے اثرات صرف میڈیا تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس سے متاثر ہوتا ہے۔ عوام تک متوازن، مستند اور مختلف نقطۂ نظر پر مبنی معلومات کی فراہمی جمہوریت کی بنیادی ضرورت ہے، اور اس مقصد کے لیے صحافیوں کا پیشہ ورانہ تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی صحافت کو درپیش موجودہ بحران میں بعض داخلی کمزوریاں بھی شامل ہیں۔ صحافی برادری اکثر انفرادی مسائل پر تو آواز اٹھاتی ہے، لیکن اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے وہ اتحاد کم نظر آتا ہے جو اس شعبے کو مضبوط بنا سکے۔ جب کسی صحافی، اینکر یا کارکن کو ادارے سے نکالا جاتا ہے تو چند دن شور مچتا ہے، پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ یہی خاموشی وقت کے ساتھ ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافتی تنظیمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، کارکن صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں اور آزادیٔ صحافت کے اصولی مؤقف پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ اسی طرح میڈیا مالکان، ریاستی اداروں اور صحافتی تنظیموں کے درمیان ایسا ماحول تشکیل دیا جائے جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، پیشہ ورانہ آزادی کا احترام ہو اور صحافت اپنی آئینی اور قومی ذمہ داریاں آزادانہ انداز میں ادا کر سکے۔پاکستانی صحافت نے ماضی میں بھی مشکل ادوار دیکھے ہیں اور ہر بحران سے نکل کر مزید مضبوط ہوئی ہے۔ آج بھی امید کی جا سکتی ہے کہ دانش، مکالمے، آئینی حدود اور باہمی احترام کے ذریعے ایسا راستہ نکالا جائے گا جو صحافت کے وقار، صحافیوں کے تحفظ اور عوام کے حقِ معلومات کو یقینی بنا سکے۔ کیونکہ مضبوط، ذمہ دار اور آزاد صحافت ہی ایک باشعور، مستحکم اور جمہوری معاشرے کی ضمانت ہوتی ہے۔*