ٹوبہ ٹیک سنگھ کا سپوت عالمی افق پر جگمگا اٹھا،ڈاکٹر عدنان ارشد کی بین الاقوامی کامیابی نوجوان نسل کے لیے امید، محنت اور علم کا روشن استعارہ

تحریر محمد زاہد مجید انور

*پاکستان قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ باصلاحیت اور ذہین نوجوانوں سے بھی مالا مال ملک ہے۔ جب یہی نوجوان اپنی صلاحیتوں کو علم، تحقیق اور محنت کے ذریعے عالمی سطح پر منواتے ہیں تو پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی گاؤں چک ج ب چٹالہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سائنسدان، محقق اور چین کی ایک معروف یونیورسٹی میں بطور پروفیسر و ریسرچر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر عدنان ارشد نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ عزم، قابلیت اور انتھک محنت کے ذریعے دنیا کے کسی بھی بڑے علمی فورم پر پاکستان کا پرچم بلند کیا جا سکتا ہے۔حالیہ انٹرنیشنل کانگریس آف بائیو میٹرولوجی، جو سربیا کی معروف یونیورسٹی آف نووی ساد میں منعقد ہوئی، میں ڈاکٹر عدنان ارشد کو “بہترین تحقیقی مقالہ” کے بین الاقوامی اعزاز سے نوازا گیا۔ دنیا بھر سے شریک ممتاز سائنسدانوں اور محققین کے درمیان ان کا انتخاب صرف تین بہترین ریسرچرز میں ہونا نہ صرف ان کی غیرمعمولی علمی صلاحیتوں بلکہ پاکستان کے روشن علمی مستقبل کا بھی ثبوت ہے۔ڈاکٹر عدنان ارشد کی تحقیق کپاس کی پیداوار میں اضافے، خشک اور نیم خشک علاقوں میں پانی کے مؤثر استعمال، ڈرپ اریگیشن (قطرہ قطرہ آبپاشی) اور فینولوجی پر مبنی جدید سائنسی ماڈلز کی تیاری سے متعلق ہے۔ یہ تحقیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور غذائی تحفظ جیسے سنگین چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ ایسے حالات میں ان کی تحقیق نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے زرعی شعبے کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔اس اعزاز کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ یہ ڈچ سولکو ڈبلیو۔ ٹرومپ فاؤنڈیشن کی جانب سے دیا گیا، جو بائیو میٹرولوجی کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں خدمات انجام دینے والے سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ڈاکٹر سولکو ڈبلیو۔ ٹرومپ اس شعبے کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے ان کے نام سے منسوب اعزاز حاصل کرنا کسی بھی سائنسدان کے لیے غیرمعمولی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔یہ کامیابی صرف ڈاکٹر عدنان ارشد کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ چک ج ب چٹالہ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ، پنجاب اور پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ایک چھوٹے سے دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والا نوجوان جب عالمی سائنسی برادری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتا ہے تو وہ ہزاروں نوجوانوں کے دلوں میں امید، حوصلہ اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ یہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ کامیابی کا تعلق وسائل سے زیادہ عزم، محنت، لگن اور علم سے ہوتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کھیل، سیاست اور شوبز سے وابستہ شخصیات کو تو بھرپور پذیرائی ملتی ہے، لیکن سائنس، تحقیق اور تعلیم کے میدان میں ملک کا نام روشن کرنے والے افراد اکثر وہ توجہ حاصل نہیں کر پاتے جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہوتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ایسے باصلاحیت سائنسدانوں کو قومی سطح پر سراہا جائے، ان کی خدمات کو نصاب اور میڈیا میں نمایاں جگہ دی جائے اور نوجوانوں کو بتایا جائے کہ اصل ترقی علم، تحقیق اور اختراع میں مضمر ہے۔حکومت، جامعات اور تحقیقاتی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان محققین کو جدید سہولیات، تحقیقی فنڈز اور بین الاقوامی تعاون کے مواقع فراہم کریں تاکہ پاکستان سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کی صفِ اول کی اقوام میں شامل ہو سکے۔ڈاکٹر عدنان ارشد کی یہ تاریخی کامیابی یقیناً آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ان کی محنت، قابلیت اور عالمی سطح پر حاصل کردہ اعزاز اس بات کا پیغام ہے کہ اگر نوجوان اپنے خوابوں پر یقین رکھیں اور مسلسل محنت کریں تو دنیا کی کوئی منزل ان کے لیے دور نہیں رہتی۔ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے عوام، علمی حلقے اور پوری قوم ڈاکٹر عدنان ارشد کو اس غیرمعمولی بین الاقوامی کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے، ان کے علم میں برکت دے اور انہیں مستقبل میں بھی پاکستان کا نام دنیا بھر میں اسی طرح روشن کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔*