ادارے شخصیتوں سے پہچانے جاتے ہیں،پروفیسر ڈاکٹر محمد یاسر نواب اور یونیورسٹی آف کمالیہ کا سفر
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ادارے عمارتوں سے نہیں بلکہ کردار، قیادت اور وژن سے بنتے ہیں۔ بلند و بالا عمارتیں، جدید کلاس رومز اور خوبصورت دفاتر کسی تعلیمی ادارے کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے، بلکہ اس ادارے کی اصل شناخت اس کی علمی فضا، انتظامی شفافیت، تحقیقی ماحول اور ایسی قیادت ہوتی ہے جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ادارے کی ترقی کو اپنا نصب العین بنا لے۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب یونیورسٹیوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو وہاں ایک مضبوط، مخلص اور دیانتدار قیادت ضرور دکھائی دیتی ہے۔پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ اس وقت متعدد چیلنجز سے دوچار ہے۔ بڑھتی ہوئی تعلیمی ضروریات، محدود وسائل، معیارِ تعلیم میں بہتری، جدید تحقیق کا فروغ اور عالمی معیار کی یونیورسٹیوں سے مقابلہ ایسے مسائل ہیں جن سے نمٹنے کے لیے صرف انتظامی تجربہ کافی نہیں بلکہ دور اندیشی، مستقل مزاجی اور عملی قیادت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں اگر کسی ادارے کو ایک باصلاحیت اور مخلص وائس چانسلر میسر آ جائے تو وہ ادارہ ترقی کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔یونیورسٹی آف کمالیہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد یاسر نواب انہی شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی محنت، دیانت، انتظامی صلاحیت اور علمی بصیرت سے ایک نئے تعلیمی ادارے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کسی بھی نئی یونیورسٹی کا قیام محض ایک سرکاری اعلان نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے بے شمار انتظامی مراحل، قانونی تقاضے، تعلیمی منصوبہ بندی، اساتذہ کی تقرری، انفراسٹرکچر کی تعمیر اور طلبہ کے اعتماد کو بحال کرنے جیسی طویل جدوجہد شامل ہوتی ہے۔ ڈاکٹر محمد یاسر نواب نے ان تمام مراحل میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت دیا۔ان کی قیادت میں یونیورسٹی آف کمالیہ نے نہ صرف اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کیا بلکہ محدود وسائل کے باوجود ترقی کی سمت میں مؤثر پیش رفت بھی کی۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ادارے میں میرٹ، شفافیت، قانون کی بالادستی اور تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اساتذہ، طلبہ اور انتظامی عملے کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہوئی، جو کسی بھی کامیاب ادارے کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد یاسر نواب کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ وہ انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو بھی یکساں اہمیت دیتے ہیں۔ ان کی کوشش رہی ہے کہ یونیورسٹی آف کمالیہ صرف ڈگریاں دینے والا ادارہ نہ رہے بلکہ تحقیق، اختراع، کردار سازی اور قومی خدمت کا ایک مضبوط مرکز بنے۔ انہوں نے جدید تعلیمی تقاضوں کے مطابق نئے پروگرامز، تحقیقی منصوبوں اور طلبہ دوست پالیسیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی، تاکہ نوجوان نسل کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔کسی بھی تعلیمی ادارے کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہوتا ہے کہ وہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ یہی سوچ ایک کامیاب وائس چانسلر کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ ڈاکٹر محمد یاسر نواب نے ہمیشہ اس نظریے کو فروغ دیا کہ تعلیم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مہذب، باشعور اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دینے کا مؤثر وسیلہ بھی ہےیہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ جنوبی پنجاب اور بالخصوص کمالیہ جیسے علاقے میں ایک معیاری یونیورسٹی کا قیام ہزاروں نوجوانوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوا ہے۔ آج بہت سے ایسے طلبہ جو ماضی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے دور دراز شہروں کا رخ کرنے پر مجبور تھے، انہیں اپنے علاقے میں ہی معیاری تعلیمی سہولت میسر آ رہی ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے جن شخصیات کی محنت شامل ہے، ان میں پروفیسر ڈاکٹر محمد یاسر نواب کا کردار نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہو تو ہمیں ایسے تعلیمی منتظمین کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی جو دیانت، قابلیت، شفافیت اور قومی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں مضبوط تعلیمی ادارے ہی مضبوط قوموں کی بنیاد ہوتے ہیں، اور مضبوط ادارے ہمیشہ مضبوط قیادت کے مرہونِ منت ہوتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر محمد یاسر نواب کی خدمات اس امر کی عکاس ہیں کہ اخلاص، محنت، دیانت اور وژن کے ساتھ کام کیا جائے تو محدود وسائل بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ امید ہے کہ ان کی قیادت میں یونیورسٹی آف کمالیہ مستقبل میں بھی علمی، تحقیقی اور تعلیمی میدان میں نئی کامیابیاں حاصل کرے گی اور یہ ادارہ نہ صرف ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ بلکہ پورے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے ایک معتبر اور مثالی مرکز کے طور پر اپنی شناخت مزید مستحکم کرے گا۔*













