وقار نامہ
*یہ مارچ اور پاکستان*
تحریر: محمد عمر وقار اعوان
قارئین امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے، ملک کی موجودہ صورتحال ہے ہی ایسی کہ ہر کوئی پریشان ہے اور خوفزدہ بھی۔ آج کافی دنوں بعد پھر سے ایک بار ذہن میں کچھ خیالات امڈ رہے تھے تو سوچا کہ ان کو لفظوں کے دھارے میں لے آؤں۔ ماہ مارچ کی پاکستان کی تاریخ میں بہت اہمیت ہے۔ اگر ہم پاکستان بننے سے لے کر اب تک کی پاکستانی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو مارچ کے مہینے میں ایسے سینکڑوں واقعات ملتے ہیں جنہوں نے تاریخ کے اوراق پر اپنی اہمیت ہمیشہ کے لیئے قائم کر لی۔ان میں سے کئی ایسے واقعات ہیں جنکی یادیں بہت خوشگوار ہیں جبکہ اکثریت ایسی ہے جو اپنے ساتھ تلخ حقائق اور تاریخ لیئے موجود ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ماہ مارچ اور پاکستان ہمیشہ سے ایک دوسرے کے لیئے لازم و ملزوم رہے ہیں۔پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس پاک وطن کی بنیاد ہی مارچ کے مہینے میں رکھی گئی تھی جب لاہور کے منٹو پارک(گریٹر اقبال پارک) میں 1940 میں قراردار لاہور(پاکستان) پیش کی گئی۔ اسی ایک حوالے کی ہی اگر بات کر لی جائے تو مارچ اور پاکستان کا ساتھ جنم جنم کا ہے۔نئے نویلے پاکستان میں آئینی اصلاحات کی کمی تھوڑے عرصے کے لیئے پوری کرنے لیئے بھی ماہ مارچ میں ہی 12 مارچ 1949 کو قرارداد مقاصد پیش کی گئی جس کی پاکستان کی آئینی تاریخ میں بڑی اہمیت ہے اور یہ وہی قرارداد تھی جسے پھر پاکستان کے تینوں دساتیر کا بھی حصہ بنایا گیا۔اگر بات کریں 1956 کی تو اس سال مارچ میں پاکستان کا پہلا باضابطہ آئین بھی سامنے آیا۔ مارچ 1956 میں ہی سکندر مرزا نے پاکستان کے پہلے صدر کا حلف بھی اٹھایا۔کچھ آگے چلیں تو 1960 میں ایک عظیم شاہکار کی تعمیر کا کام بھی مارچ میں شروع ہوا۔ وہ عظیم شاہکار جو آج بھی اور رہتی دنیا تک پاکستان کی عظمت و سلامتی کی علامت بن کے لاہور میں بطور منار پاکستان موجود رہے گا اور انشاء اللہ اس پاک وطن کے دشمنوں کو یوں ہی للکارتا رہے گا۔یہی مارچ ایک بار پھر 1969 میں پاکستان کے لیئے انمٹ نقوش چھوڑ گیا جب کچھ مخصوص قوتوں کے زور پکڑ جانے پر صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان کو بالآخر استعفیٰ دینا پڑا اور اختیارات جنرل یحیٰ خان کے حوالے کیئے۔ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا اور اسمبلیاں توڑ دی گئیں۔وقت آگے گزرتا رہا،1969 مارچ کے واقعات کے بعد ملک میں کئی بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہو گئیں، نئے سرے سے پاکستان کی بنیاد پڑی، کئی نئے چہرے سامنے آنے لگے اور کئی نئی سیاسی پارٹیاں بھی منظر عام پہ آنا شروع ہو گئیں۔مارچ 1970 میں ہی اس روش کو دیکھتے ہوئے ایئر مارشل اصغر خان نے تحریک استقلال کے نام سے بھی ایک نئی سیاسی پارٹی بنا ڈالی جس نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاست میں اپنا ایک خاص کردار نبھائے رکھا۔ مارچ 1976 میں جنرل محمد ضیاء الحق کو پاکستان کا آرمی چیف بنایا گیا۔ پاکستان کی سیاست لمحہ با لمحہ کروٹ لیتی رہی اور حالات بدلتے رہے۔ مارچ 1977 میں ملک میں عام انتخابات ہوئے جس میں اس وقت کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بن کر سامنے آئی اور پی پی پی نے اس وقت کل 200 میں سے 155 سیٹیں اپنے نام کیں۔حالات نے یکدم پلٹا مارا اور پاکستان میں ایک بار پھر منظر نامہ تبدیل ہوا۔ سیاست کے نئے کھلاڑی سامنے آئے۔ مارچ 1978 میں لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم پاکستان کو چار دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ پھانسی کی سزا سنا دی۔یکم مارچ 1981کو پاکستان بھر میں مردم شماری کا عمل شروع ہوا جبکہ دوسرے ہی روز 2 مارچ کو پی آئی اے کا طیارہ بوئنگ 720 جو 148 مسافر لیکر جارہا تھا اسے ہائی جیک کر لیا گیا۔مارچ 1983 میں پاکستان میں باقاعدہ سیٹلائیٹ اسٹیشن قائم کیا گیا۔1984 میں ایک بار پھر مارچ میں پاکستانی سیاست میں ایک نیا اضافہ ہوا۔ 18 مارچ 1984 کو الطاف حسین نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے نام سے ایک نئی سیاسی پارٹی بنائی۔1985 مارچ میں محمد خان جونیجو نے بطور وزیراعظم اور جنرل محمد ضیاء الحق نے بطور صدر پاکستان اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تلخ یادیں اور دل چیر دینے والے واقعات پاکستان میں رونما ہوتے رہے، انہی سب کے درمیاں اچانک پاکستان کو خوشی کا ایک بہت بڑا موقع ملا جس کی وجہ سے آج بھی پاکستان میں کرکٹ موجود ہے اوربھرپور جوش و جذبے کے ساتھ کھیلی جاتی ہے۔25 مارچ 1992 تاریخ کا وہ سنہرا دن تھا جب پاک وطن کے عظیم سپوتوں نے اپنے قائد عمران خان کی قیادت میں کرکٹ کے میدانوں میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا اور کرکٹ ورلڈ کپ جیت لیا۔مارچ 1998 میں ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں مردم شماری کا عمل شروع ہوا۔سخت سیاسی حالات پیدا ہوئے لیکن ملک آگے کی جانب بڑھتا رہا۔مارچ2007 اچانک 9 مارچ کو صدر پاکستان جنرل محمد پرویز مشرف کی طرف سے عدلیہ پہ ایک سخت ایکشن کیا جاتا ہے اور اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جاتاہے جس کے بعد ملک بھر میں ایک بہت بڑی عدلیہ بحالی تحریک بھی چلائی جاتی ہے جو دنیا کی تاریخ کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔2008 کے عام انتخابات کے بعد سید یوسف رضا گیلانی 24 مارچ کو بطور وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوتے ہیں۔ مارچ 2009 جب سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر ہوتی ہے تو اچانک 3 مارچ کی صبح قذافی سٹیڈیم آتے ہوئے سری لنکا ٹیم کی بس پہ حملہ ہو جاتا ہے جس کے بعد تقریباً دس سال کے لیئے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ رک جاتی ہے۔حالات بنتے بگڑتے وقت گزرتا رہتا ہے، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں اور پھر 2017 مارچ میں ایک دفعہ پھر پاکستان میں مردم شماری کا عمل شروع ہوتا ہے۔2018 مارچ میں پاکستان کے تاریخ ساز اور حیران کن نتائج والے سینٹ کے الیکشن بھی خوش اسلوبی سے مکمل ہو جاتے ہیں۔مارچ 2019 میں ہر سال کی طرح پاکستان میں بھی خواتین کا عالمی دن منایا تو گیا لیکن 2019 میں عورت مارچ کے حوالے سے یہ دن پوری دنیا میں زباں زدعام ہوا۔ وقت بڑھتا رہا اور حالات بہتری کی جانب آنا شروع ہوئے۔ لیکن 2019 کے آخر پر کورونا وائرس نے چین کے شہر ووہان میں داخل ہو کر ہلچل مچا دی۔ یہ وائرس پھیلتا ہوا پاکستان بھی آ پہنچا اور 26 فروری 2020 کو ہمارے ملک میں کورونا وائرس کے 2 مریض موجود تھے۔بالآخر مارچ کا مہینہ شروع ہوا اور یکم مارچ 2020 کو پورے ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ 5 مریض ملک کے مختلف ہسپتالوں میں موجود تھے۔8 مارچ تک حالات کنٹرول میں تھے جبکہ 9 مارچ سے اچانک حالات بدلتے ہیں اور ایک ہی دن میں 9 نئے مریض سامنے آ جاتے ہیں۔پھر 14 مارچ جب پورے ملک میں تعلیمی ادارے اور اجتماعات پر پابندی لگا دی جاتی ہے اور جزوی لاک ڈاؤن شروع ہوتا ہے تو اس وقت ملک میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 31 ہوتی ہے جو اگلے دن بڑھ کر 53 تک پہنچ جاتی ہے۔16 مارچ صرف ایک دن کے وقفے کے ساتھ ملک بھر میں مریضوں کی تعداد میں 134 کا اضافہ ہوتا ہے اور نمبر 187 تک چلا جاتا ہے۔سندھ اور بلوچستان میں مکمل لاک ڈاؤں کر دیا جاتا ہے۔ خیبر پختونواہ اور پنجاب کی حکومتیں بھی اقدامات میں تیزی دکھاتی ہیں۔جیسے جیسے صوبوں میں ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ ہوتا ہے ساتھ ہی کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔24 مارچ سے پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں بھی مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان ہو جاتا ہے۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں میں فوج کو طلب کر لیا جاتا ہے۔ حالات کشیدہ ہونے لگتے ہیں۔ وفاقی اور تما م صوبائی حکومتیں اپنی طرف سے ہر ممکن اقدامات میں مصروف ہو جاتی ہیں۔سکول، کالجز، یونیورسٹیاں،دفاتر، ملز، فیکٹریاں، سرکاری و نجی ادارے سب بند ہو جاتے ہیں۔ امتحانات، مذہبی اجتماعات اور شادی بیاہ کے پروگرام سب ملتوی کر دیئے جاتے ہیں۔ مساجد میں نماز جمعہ بھی انتہائی محدود کر دی جاتی ہے۔ لاک ڈاؤن میں شہریوں کو گھروں تک محدود رکھنے کے لیئے تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر حربہ استعمال کر کے آگاہی کے ساتھ ساتھ عملدرآمد بھی کروا رہے ہیں۔ان سب حالات کی منظر کشی کرنے کے بعد یہ نتائج سامنے آتے ہیں کہ حالات کو کبھی آسان نہیں لینا چاہیے بلکہ جیسے بھی ہوں حالات ان کا مقابلہ کرنا چاہیے اور نہایت سمجھداری اور احتیاط کے ساتھ حالات کو کنٹرول کرنا چاہیے۔آج 29 مارچ پاکستان میں کورونا سے متاثرہ 1593 مریض ہیں جن میں سے 593 پنجاب سے ہیں۔ مارچ ہمیشہ ہی پاکستان کے لیئے انمٹ نقوش چھوڑ کے گیا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ 1940 سے لیکر 2020 تک یہ پہلا مارچ ایسا آیا ہے جس نے سب پاکستانیوں کو ایک مرتبہ جھنجھوڑا ہے، یہ وقت ہے جب ہمیں مارچ 2020 سے سبق حاصل کرنا ہو گا اور احتیاط برتنی ہو گی تاکہ جب 2021 میں مارچ آئے تو ہم پوری دنیا میں ایک مضبوط قوم کے طور پر موجود ہوں۔ خدا تعالیٰ ملک پاکستان کی خیر فرمائے۔