احمدی قادیانی مرزائی، عیسائی سکھ، ھندو غیر مسلم برادری کو وطن عزیز کی تعمیر وترقی کے قومی دھارے میں خدمات پر سلام اور خراج تحسین:
(تحریر:
بشیرکوکب ترابی)
ہم احمدی قادیانی مرزائی، عیسائی، سکھ، ھندو، بودھ، غیر مسلم برادری اور دوسرے تمام ذمیوں یعنی غیر مسلم برادری کو خوش آمدید کہتے ہیں سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔۔۔
پاکستان ہم مسلمانوں اور غیر مسلموں احمدیوں قادیانیوں مرزائیوں، عیسائیوں، سکھوں، ہندووں، پارسیوں وغیرہ کا مشترکہ وطن ہے اور اس کی تعمیر وترقی میں حصہ لینا مسلمانوں اور غیر مسلموں ہماری سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری اور قومی فریضہ ہے جس کی ادائیگی پر ہم سب کو بجا طور پر فخر ہے جس کےنلیئے ہم مسلمانوں اور ذمیوں یعنی غیر مسلموں کو اس قومی امتحان کی مشکل گھڑی میں اپنی خدمات سر انجام دینے پر دلی طور پر سراہتے ہیں خراج تحسین اور مبارک باد پیش کرتے ہیں بطور ایک پرامن پاکستانی شہری ذمیوں یعنی غیر مسلم شہریوں کے بھی ہم مسلمانوں کی طرح کے مساوی اور برابر کے پاکستانی شہری ہیں اور ہماری طرح تمام بنیادی انسانی اور مساوی شہری حقوق آئینی طور پر رکھتے ہیں ہم جنھیں پوری طرح تسلیم کرتے ہیں اور ان کے حقوق کے پشتی بان نگہبان اور محافظ ہیں اس اعتبار سے ایک مسلمان اور اسلامی ریاست اور مسلمان عوام ان کی جان مال عزت آبرو کے محافظ ہیں، اور الحمدللہ ہم نے یہ زمہ داری ادا کی ہے اور یہ فرض نبھایا ہے اور اس کی پاداش میں ہر طرح کی قربانی دی ہے اور آئیندہ بھی یہ اسلامی ملی اور قومی زمہ داری اور آئینی فریضہ بدرجہ اتم ادا کرتے ہیں اور ہمیشہ ادا کرتے رہیں گے ان شاءاللہ۔۔۔
مسائل اور اشکال وہاں پیدا ہوتے ہیں جب کوئی کلبھوشن یادیو اپنی شناخت چھپا کر پاکستانی پاسپورٹ پر ایک مسلمان کا نام لکھوا کر ایک مسلمان کے طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے اور ایک مسلمان اور پاکستانی کے طور پر سفر کرتا ہے علی ھذالقیاس قانون شکنی کرتا ہے اور نتیجہ ظاہر ہے۔۔۔
بنابریں اسی طرح احمدی قادیانی مرزائی ذمی یا غیر مسلم برادری جن کے آئینی حقوق تسلیم شدہ ہیں جن پر کبھی بھی کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی ہے لیکن جب یہ احمدی قادیانی مرزائی غیر مسلم برادری اپنی اصل شناخت چھپا کر ایک مسلمان کے طور پر پاکستان کے اندر میں یا پاکستان سے باہر اور جہاں کہیں بھی یہ احمدی قادیانی یا مرزائی اپنی اصلیت کو چھپا کر دروغ گوئی اور جھوٹ سے کام لیتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہلواتے ہیں اسلامی اور ملی شعائر کا استعمال کرتے ہیں پاکستان میں اپنے ساتھ ہونے والے آئینی جدا گانہ تشخص کے خاتمے یا آئین میں ترمیم کرنے اور مسلمان کہلوانے اور اسلامی شعائر کے استعمال کا مطالبہ کرتے ہیں۔۔۔
جیسا کہ ابھی حال ہی میں احمدیوں قادیانیوں مرزائیوں نے بھی کرونا وبائی متعدی امراض کے خلاف اذان دینے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے جو سراسر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جس سے خدشہ ہے کہ کل کلاں امن و امان کے مسائل پیدا ہونے کے قومی اور بھیانک امکانات پیدا ہو سکتے ہیں جن کی تمام تر زمہ داری احمدی قادیانی مرزائی برادری کی ہو گی۔۔۔
حکومت اور مقامی انتظامیہ کو ہر سطح جس کے تدارک کے لیئے مسلمانوں اور تمام ذمیوں یعنی غیر مسلموں شہریوں کے آئینی حقوق اور زمہ داریوں بارے جان کاری دلائے جانے کے لیئے مناسب احکامات اور اشتہارات وقتا فوقتا جاری کرنے از بس ضروری ہیں جن کی پابندی بلا تحصیص مسلم غیر مسلم تمام پاکستانیوں اور ہم وطنوں کی یکساں زمہ داری اور قومی فریضہ ہے۔۔۔
(تحریر:
سید بشیر کوکب ترابی کاشمیری












