حکومت کو کس جاہل نے کہہ دیا کہ قادیانی مذہب ہے بلکہ یہ ایک فتنہ ہے اور فتنے کی سرکوبی کی جاتی ہے نہ کہ اقلیت میں شمولیت۔
اگر آج مذہب مان لیاجائے تو کل ان کی وہ تمام تمنائیں اور مرادیں بھی پوری کی جائیں گی جن کی قادیانیوں کے لیے آئین میں اجازت نہیں ہے۔
آئین میں قادیانی اپنی عبادت گاہ نہیں بنا سکتے،
آذان نہیں دے سکتے،
اپنے مذہب کا پرچار نھیں کرسکتے اور
اپنے مذہب کی کھلے عام دعوت نہیں دے سکتے
تو جب مذہب مان لیا جائے گا تو اس سب کچھ کی اجازت مل جائےگی اور قانون اور آئین میں ترمیم ہوجائے گی۔
لہذا عاشقان ختم نبوت اس حکومتی فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے دشمنان نبوت کا تعاقب جاری رکھیں گے اور انہیں لگام ڈالے رکھیں گے۔
جان تو جا سکتی ہے مگر محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی عزت وناموس پر ایک آنچ بھی نہیں آنے دیں گے۔
ان شاءاللہ عزوجل












