خلافت فاروقی کے کارنامے

(قسط نمبر 23)

تحریر و پیشکش محمد نوید

خبررسانی_اور_جاسوسی
=================

جاسوسی اور خبر رسانی کا انتظام نہایت خوبی سے کیا گیا تھا اور اس کے لئے قدرتی سامان ہاتھ آ گئے تھے۔ شام و عراق میں کثرت سے عرب آباد تھے اور ان میں سے ایک گروہ کثیر نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ یہ لوگ چونکہ مدت سے ان ممالک میں رہتے تھے۔ اس لئے کوئی واقعہ ان سے چھپ نہیں سکتا تھا۔ ان لوگوں کو اجازت دی کہ اپنا اسلام لوگوں پر ظاہر نہ کریں اور چونکہ یہ لوگ ظاہری وضع قطع سے پارسائی یا عیسائی معلوم ہوتے تھے اس لئے دشمن کی فوجوں میں جہاں چاہتے تھے چلے جاتے تھے۔ یرموک، قادسیہ، تکریت میں انہی جاسوسوں کی بدولت بڑے بڑے کام نکلے۔

(تاریخ شام الماذری صفحہ 154، طبری 2349 و 2475۔ ازی کی عبارت یہ ہے: لما نزلت الروم منزلھم الذی نزلوابہ وسسنا الیھم رجالاً من اھل البلد کانو انصاری و حسن اسلامھم و امرنھم ان یدخلوا عسکرھم و یکتموا اسلامھم و یاگوا باخبارھم)۔

شام میں ہر شہر کے رئیسوں نے خود اپنی طرف سے اور اپنی خوشی سے جاسوس لگا رکھے تھے جو قیصر کی فوجی تیاریاں اور نقل و حرکت کی خبریں پہنچاتے تھے۔ قاضی ابو یوسف صاحب کتاب الخراج میں لکھتے ہیں۔ (کتاب مذکور صفحہ 80)۔

فلمارای اھل الذمۃ وفاء المسلمین لھم و حسن السیرۃ فیھم صاروا اشدآء علی عدو المسلمین و عوناً للمسلمین علی اعد آنھم فبعث اھل کل مدینۃ ممن جری الصلح بینھم و بین المسلمین رجالاً من قبلھم یتجسسون الاخبار عن الروم عن ملکھم وما یریدون ان یضووا۔

اردن اور فلسطین کے اضلاع میں یہودیوں کا ایک فرقہ رہتا تھا جو سامرہ کہلاتا تھا۔ یہ لوگ جاسوسی اور خبررسانی کے کام کے لئے مقرر کئے گئے اور اس کے صلے میں ان کی مقبوضہ زمینیں ان کو معافی میں دے دی گئیں (فتوح البلدان صفحہ 158)۔ اسی طرح جزاجمہ کی قوم اس خدمت پر مامور ہوئی کہ ان کو بھی خراج معاف کر دیا گیا۔ فوجی انتظام کے سلسلے میں جو چیز سب سے بڑھ کر حیرت انگیز ہے یہ ہے کہ باوجودیکہ اس قدر بے شمار فوجیں تھیں اور مختلف ملک، مختلف قبائل، مختلف طبائع کے لوگ اس سلسلے میں داخل تھے۔ اس کے ساتھ وہ نہایت دور دراز مقامات تک پھیلی ہوتی تھیں۔ جہاں سے دارالخلافہ تک سینکڑوں ہزاروں کوس کا فاصلہ تھا۔ تاہم تمام فوج اس طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبضہ قدرت میں تھیں کہ گویا وہ خود ہر جگہ فوج کے ساتھ موجود ہیں۔

*پرچہ نویسوں کا انتظام:*

اس کا عام سبب تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سطوت اور ان کا رعب و داب تھا۔ لیکن ایک بڑا سبب یہ تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہر فوج کے ساتھ پرچہ نویس لگا رکھے تھے اور فوج کی ایک ایک بات کی ان کو خبر پہنچتی رہتی تھی۔ علامہ طبری ایک ضمنی موقع پر لکھتے ہیں کہ :

و کانت تکون لعمرا لعیون فی جیش فکتب الی بما کان فی فلک الغزاۃ و بلغہ الذی قال عتبۃ۔ (طبری صفحہ 2308)۔

ایک اور موقع پر لکھتے ہیں۔

و کان عمر لا یخفیٰ علیہ شئی فی عملہ۔ (طبری صفحہ 2308)۔

اس انتظام سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کام لیتے تھے کہ جہاں فوج میں کسی شخص سے کسی قسم کی بے اعتدالی ہو جاتی تھی۔ ایران کی فتوحات میں عمرو معدی کرب نے ایک دفعہ اپنے افسر کی شان میں گستاخانہ کلمہ کہہ دیا تھا۔ فوراً حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کو خبر ہوئی اور اسی وقت انہوں نے عمروبن معدی کرب کو تحریر کے ذریعے سے ایسی چشم نمائی کی کہ پھر ان کو کبھی ایسی جرات نہیں ہوئی۔ اس قسم کی سینکڑوں مثالیں ہیں جن کا استقصاء نہیں ہو سکتا۔

*دورِ فاروقیؓ اور اشاعتِ اسلام کے اسباب:*

============================

فارس کے معرکہ میں جب پارسیوں کا ایک مشہور بہادر بھاگ نکلا اور سردار فوج نے اس کو گرفتار کر کے بھاگنے کی سزا دینی چاہی تو اس نے ایک بڑے پتھر کو تیر سے توڑ کر کہا کہ یہ ” تیر بھی جن لوگوں پر اثر نہیں کرتے خدا ان کے ساتھ ہے۔ اور ان سے لڑنا بیکار ہے (طبری واقعات جنگ فارس)۔

ابو رجاء فارسی کے دادا کا بیان ہے کہ قادسیہ کی لڑائی میں میں حاضر تھا اور اس وقت تک میں مجوسی تھا۔ عرب نے جب تیر اندازی شروع کی تو ہم نے تیروں کو دیکھ کر کہا کہ ” تکلے ہیں۔ ” لیکن ان ہی تکلوں نے ہماری سلطنت برباد کر دی۔ ” مصر پر جب حملہ ہوا تو اسکندریہ کے بشپ نے قبطیوں کو لکھا کہ ” رومیوں کی سلطنت ختم ہو چکی ہے۔ اب تم مسلمانوں سے مل جاؤ۔ ” (مقریزی جلد اول صفحہ 280)۔

ان باتوں کے ساتھ کچھ اور اسباب بھی اسلام کے پھیلنے کا سبب ہوئے۔ عرب کے قبائل جو عراق اور شام میں آباد تھے اور عیسائی ہو گئے تھے فطرۃً جس قدر ان کا میلان ایک نبی عربی کی طرف ہو سکتا تھا غیر قوم کی طرف نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ جس قدر زمانہ گزرتا گیا وہ اسلام کے حلقے میں آتے گئے۔ یہی بات ہے کہ اس عہد کے نومسلم جس قدر عرب تھے اور قومیں نہ تھیں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بعض بڑے بڑے پیشوائے مذہبی مسلمان ہو گئے تھے۔ مثلاً دمشق جب فتح ہوا تو وہاں کا بشپ جس کا نام اردکون تھا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر اسلام لایا (معجم البلدان ذکر قطرۃ سنان)۔ ایک پیشوائے مذہب کے مسلمان ہونے سے اس کے پیروؤں کو خواہ مخواہ اسلام کی طرف رغبت ہوئی ہو گی۔

ان مختلف اسباب سے نہایت کثرت کے ساتھ لوگ ایمان لائے۔ افسوس ہے کہ ہمارے مؤرخین نے کسی موقع پر اس واقعہ کو مستقل عنوان سے نہیں لکھا۔ اس کی وجہ سے ہم تعداد کا اندازہ نہیں بتا سکتے۔ تاہم ضمنی تذکروں سے کسی قدر پتہ لگ سکتا ہے چنانچہ ہم ان کو اس موقع پر بیان کرتے ہیں۔

*حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جو لوگ اسلام لائے:*

16 ہجری کے اخیر میں جب جلولا فتح ہوا تو بڑے بڑے رؤسا اور نواب اپنی خوشی سے مسلمان ہو گئے۔ ان میں سے جو زیادہ صاحب اختیار اور نامور تھے ، ان کے یہ نام ہیں : جمیل بن بصبیری، بسطام بن نرسی، رفیل (فتوح البلدان صفحہ 665)، فیروز، ان رئیسوں کے مسلمان ہو جانے سے ان کی رعایا میں خود بخود اسلام کو شیوع ہوا۔

قادسیہ کے معرکے کے بعد چار ہزار ویلم کی فوج جو خسرو پرویز کی تربیت یافتہ تھی اور امپیریل گارڈ (شاہی رسالہ) کہلاتی تھی، کُل کی کُل مسلمان ہو گئی (فتوح البلدان صفحہ 280)۔

یزدگرد کے مقدمۃ الجیش کا افسر ایک مشہور بہادر تھا جس کا نام سیاہ تھا۔ یزدگرد جب اصفہان کو روانہ ہوا تو اس نے سیاہ کو بلا کر تین سو بڑے بڑے رئیس اور پہلوان ساتھ کئے اور اصطخر کو روانہ کیا۔ یہ بھی حکم دیا کہ راہ میں ہر شہر سے عمدہ سپاہی انتخاب کر کے ساتھ لیتا جائے۔ اسلامی فوجیں جب تستر پہنچیں تو سیاہ اپنے سرداروں کے ساتھ ان اطراف میں مقیم تھا۔ ایک دن اس نے تمام ہمراہیوں کو جمع کر کے کہا کہ ہم لوگ جو پہلے کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ (عرب) ہمارے ملک پر غالب آ جائیں گے۔ اس کی روز بروز تصدیق ہوتی جاتی ہے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ ہم لوگ اسلام قبول کر لیں۔ چنانچہ اسی وقت سب کے سب مسلمان ہو گئے۔ یہ لوگ اسادرۃ کہلاتے تھے۔ کوفہ میں ان کے نام سے نہر اسادرہ مشہور ہے۔ ان کے اسلام لانے پر سیابجہ، زط، اندغار بھی مسلمان ہو گئے۔ تینوں قومیں اصل میں سندھ کی رہنے والی تھیں۔ جو خسروپرویز کے عہد میں گرفتار ہو کر آئی تھیں اور فوج میں داخل کی گئی تھیں۔

مصر میں اسلام کثرت سے پھیلا۔ حضرت عمرو بن العاص نے جب مصر کے بعض قصبات کے لوگوں کو اس بنا پر کہ وہ مسلمانوں سے لڑتے تھے ، گرفتار کر کے لونڈی غلام بنایا اور وہ فروخت ہو کر تمام عرب میں پھیل گئے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہر جگہ سے ان کو واپس لے کر مصر بھیج دیا اور لکھ بھیجا کہ ان کو اختیار ہے خواہ اسلام لائیں، خواہ اپنے مذہب پر قائم رہیں۔ چنانچہ ان میں سے قصبہ بلھیب کے رہنے والے کل کے کل اپنی خواہش سے مسلمان ہو گئے۔ دمیاط کی فتح کے بعد جب اسلامی فوجیں آگے بڑھیں تو بقارہ اور ورادۃ سے لیکر عسقلان تک جو شام میں داخل ہے ، ہر جگہ اسلام پھیل گیا۔

(مقریزی صفحہ 184 میں ہے ) ولما فتح المسلمون الفرس بعد ما افتحوا دمیاط و تنیس ساروا الی بقارۃ فاسلم من بھاو ساروا منھا الی الوردۃ فدخل اھلھا فی الاسلام و صاحولھا الی عسقلان)۔

شطا مصر کا ایک مشہور شہر ہے جہاں کے کپڑے مشہور ہیں۔ یہاں کا رئیس مسلمانوں کے حالات سن کر پہلے ہی اسلام کی طرف مائل تھا۔ چنانچہ جب اسلامی فوجیں دمیاط میں پہنچیں تو دو ہزار آدمیوں کے ساتھ شطا سے نکل کر مسلمانوں سے آ ملا۔ اور مسلمان ہو گیا۔ (مقریزی جلد اول)۔

فسطاط جس کو حضرت عمرو بن العاص نے آباد کیا تھا اور جس کی جگہ اب قاہرہ دارالسلطنت ہے یہاں تین بڑے بڑے محلے تھے جہاں زیادہ تر نومسلم آباد کرائے گئے۔ ایک محلہ بنو نبہ کے نام سے آباد تھا جو ایک یونانی خاندان تھا، مسلمان ہو گیا تھا۔ اور مصر کے معرکے میں اس خاندان کے سو آدمی اسلامی فوج کے ساتھ شامل تھے۔

دوسرا محلہ بنو الارزق کے نام پر تھا یہ بھی ایک یونانی خاندان تھا اور اس قدر کثیر النسل تھا کہ مصر کی جنگ میں اس خاندان کے 400 بہادر شریک تھے۔

تیسرا محلہ ربیل کے نام سے آباد تھا۔ یہ لوگ پہلے یرموک و قیساریہ میں سکونت رکھتے تھے۔ پھر مسلمان ہو کر حضرت عمرو بن العاص کے ساتھ مصر چلے آئے تھے۔ یہ ایک بہت بڑا یہودی خاندان تھا۔ مصر کی فتح میں ہزار آدمی اس خاندان کے شامل تھے۔ (اس کے متعلق پوری تفصیل مقریزی صفحہ 298 جلد اول میں ہے )۔

فسطاط میں ایک اور محلہ تھا جہاں صرف نو مسلم مجوسی آباد کرائے گئے تھے۔ چنانچہ یہ محلہ انہی کے نام پر پارسیوں کا محلہ کہلاتا تھا۔ یہ لوگ اصل میں باذان کی فوج کے آدمی تھے جو نوشیرواں کی طرف سے یمن کا عامل تھا جب اسلام کا قدم شام میں پہنچا تو یہ لوگ مسلمان ہو گئے اور حضرت عمرو بن العاص کے ساتھ مصر ائے۔

اسی طرح اور جستہ جستہ مقامات سے پتہ چلتا ہے کہ ہر جگہ کثرت سے اسلام پھیل گیا تھا۔ مؤرخ بلاذری نے بالس کے ذکر میں لکھا ہے کہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہاں وہ عرب آباد کرائے جو شام میں سکونت رکھتے تھے اور مسلمان ہو گئے تھے۔ (بلاذری صفحہ 150)۔

مؤرخ ازدی جنگ یرموک کے حالات میں لکھتا ہے کہ جب رومیوں کی فوجیں یرموک میں اتریں تو وہ لوگ جاسوس بنا کر بھیجے جاتے تھے جو وہیں کے رہنے والے تھے اور مسلمان ہو گئے تھے۔ ان لوگوں کو تاکید تھی کہ اپنا اسلام ظاہر نہ کریں تا کہ رومی ان سے بدگمان نہ ہونے پائیں۔ مؤرخ نے سن 14 ہجری کے واقعات میں لکھا ہے کہ اس لڑائی میں بہت سے اہل عجم نے مسلمانوں کو مدد دی جن میں سے کچھ لڑائی سے پہلے ہی مسلمان ہو گئے تھے اور کچھ لڑائی کے بعد اسلام لائے۔

ان واقعات سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مبارک عہد میں اسلام کثرت سے پھیلا اور تلوار سے نہیں بلکہ اپنے فیض و برکت سے پھیلا۔ اشاعت اسلام کے بعد اصول مذہب، اعمال مذہبی کی ترویج یعنی جن چیزوں پر اسلام کا دارومدار ہے ان کا محفوظ رکھنا اور ان کی اشاعت اور ترویج کرنا۔ اس سلسلے میں سب سے مقدم قرآن مجید کی حفاظت اور اس کی تعلیم و ترویج تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے متعلق جو کوششیں کیں ان کی نسبت شاہ ولی اللہ صاحب نے نہایت صحیح لکھا کہ ” امروز ہر کہ قرآن میخواند از طوائف مسلمین، منت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ در گردن اوست۔ ”

*دورِ فاروقی اور حفاظتِ قرآن:*
=====================

یہ مُسَلّم ہے کہ اسلام کی اصل قرآن مجید ہے اور اس سے انکار بھی نہیں ہو سکتا کہ قرآن مجید کا جمع کرنا، ترتیب دینا، صحیح نسخہ لکھوا کر محفوظ کرنا، تمام ممالک میں اس کا رواج دینا، جو کچھ ہوا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اہتمام اور توجہ سے ہوا۔

تفصیل اس کی یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد تک قرآن مجید مرتب نہیں ہوا تھا۔ متفرق اجزاء متعدد صحابہ کے پاس تھے وہ بھی کچھ ہڈیوں پر، کچھ کھجور کے پتوں پر، کچھ پتھر کی تختیوں پر لکھا ہوا اور لوگوں کو پورا حفظ یاد بھی نہ تھا۔ کسی کو کوئی سورت یاد تھی کسی کو کوئی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں جب مسیلمہ کذاب سے لڑائی ہوئی تو سینکڑوں صحابہ شہید ہوئے جن میں بہت سے حفاظِ قرآن بھی تھے۔ لڑائی کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا کر کہا کہ اگر اسی طرح حفاظِ قرآن اٹھتے گئے تو قرآن جاتا رہے گا۔ اس لئے ابھی سے اس کی جمع و ترتیب کی فکر کرنی چاہیے۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جو کام رسول اللہ نے نہیں کیا تو میں کیوں کروں۔؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بار بار اس کی مصلحت اور ضرورت بیان کی۔ یہاں تک کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی رائے سے متفق ہو گئے۔ صحابہ میں سے وحی لکھنے کا کام سب سے زیادہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا تھا۔ چنانچہ وہ طلب کئے گئے اور اس خدمت پر مامور ہوئے ۔

*قرآن مجید کی حفاظت اور صحتِ الفاظ و اعراب کی تدبیریں:*

اس وقت قرآن مجید کی حفاظت اور صحت کے لیے چند امور نہایت ضروری تھے۔ اول یہ کہ نہایت وسعت کے ساتھ اس کی تعلیم شروع کی جائے اور سینکڑوں ہزاروں آدمی حافظ قرآن بنا دیئے جائیں تاکہ تحریف و تغیر کا احتمال نہ رہے۔ دوسرے یہ کہ اعراب اور الفاظ کی صحت نہایت اہتمام کیساتھ محفوظ رکھی جائے۔ تیسرے یہ کہ قرآن مجید کی بہت سی نقلیں ہو کر ملک میں شائع کی جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان تینوں امور کو اس کمال کے ساتھ انجام دیا کہ اس سے بڑھ کر ممکن نہ تھا۔

*قرآن مجید کی تعلیم کا انتظام:*

تمام ممالک مفتوحہ میں ہر جگہ قرآن مجید کا درس جاری کیا۔ اور معلم و قاری مقرر کر کے ان کی تنخواہیں مقرر کیں۔ چنانچہ یہ امر بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اولیات میں شمار کیا جاتا ہے کہ انہوں نے معلموں کی تنخواہیں مقرر کیں۔ (سیرۃ العمر لابن الجوزی میں ہے ان عمر بن الخطاب و عثمان بن العفان کان یرزقان المودین والائمہ والمعلمین)۔ تنخواہیں اس وقت کے حالات کے لحاظ سے کم نہ تھیں۔ مثلاً خاص مدینہ منورہ میں چھوٹے چھوٹے بچوں کی تعلیم کے لئے جو مکتب تھے ان کے معلموں کی تنخواہیں پندرہ پندرہ درہم ماہوار تھیں۔

خانہ بدوش بدوؤں کے لیے قرآن مجید کی تعلیم جبری طور پر لازم کی۔ چنانچہ ایک شخص کو جس کا نام ابو سفیان تھا، چند آدمیوں کے ساتھ مامور کیا کہ قبائل میں پھر پھر کر ہر شخص کا امتحان لے اور جس کو قرآن مجید کا کوئی حصہ یاد نہ ہو اس کو سزا دے۔ (آغاتی جزو 16 صفحہ 58۔ اصابہ فی احوال الصحابہ میں بھی یہ واقعہ منقول ہے )۔

*کتاب کی تعلیم:*

مکاتب میں لکھنا بھی سکھایا جاتا تھا۔ عام طور پر تمام اضلاع میں احکام بھیج دیئے تھے کہ بچوں کو شہسواری اور کتابت کی تعلیم دی جائے۔ ابو عامر جو رواۃ حدیث میں ہیں، ان کی زبان روایت ہے کہ میں بچپن میں گرفتار ہو کر مدینہ میں آیا۔ یہاں مجھے مکتب میں بٹھایا گیا۔ معلم مجھ سے جب میم لکھواتا تھا اور میں اچھی طرح نہیں لکھ سکتا تھا تو کہتا تھا گول لکھو جس طرح گائے کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ (معجم البلدان لغت حاضر، منجم میں اس روایت کو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد کی نسبت لکھا لیکن خود صاحب معجم نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ اس وقت تک یہ مقامات فتح نہیں ہوئے تھے )۔

*قراء صحابہ کا تعلیم قرآن کے لئے دور دراز مقامات پر بھیجنا:*

صحابہ میں سے 5 بزرگ تھے جنہوں نے قرآن مجید کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے زمانے میں پورا حفظ کر لیا تھا۔ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبادہ بن الصامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ ان میں خاص کر ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سید القراء تھے اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس باب میں ان کی مدح کی تھی۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سب کو بلا کر کہا کہ شام کے مسلمانوں کو ضرورت ہے کہ آپ لوگ جا کر قرآن کی تعلیم دیجیئے۔ ابو ایوب ضعیف اور ابی بن کعب بیمار تھے اس لئے نہ جا سکے۔ باقی تین صاحبوں نے خوشی سے منظور کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہدایت کی کہ حمص کو جائیں۔ وہاں کچھ دن قیام کر کے جب تعلیم پھیل جائے تو ایک شخص کو وہیں چھوڑ دیں، باقی دو صحابیوں میں سے ایک دمشق اور ایک صاحب فلسطین جائیں۔ چنانچہ یہ سب لوگ پہلے حمص گئے۔ وہاں جب اچھی طرح بندوبست ہو گیا تو عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہیں قیام کیا۔ اور ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ دمشق اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فلسطین کو روانہ ہوئے۔ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے طاعون عمواس میں وفات پائی۔ (یہ تمام تفصیل کنز العمال جلد اول صفحہ 281 میں ہے اور اصل روایت طبقات ابن سعد کی ہے )۔ لیکن ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت تک زندہ اور دمشق میں مقیم رہے۔

*تعلیم قرآن کا طریقہ:*

حضرت ابو درداء کی تعلیم کا طریقہ جیسا کہ علامہ ذہبی نے طبقات القراء میں لکھا ہے ، یہ تھا کہ صبح کی نماز پڑھ کر جامع مسجد میں بیٹھ جاتے تھے۔ گرد قرآن پڑھنے والوں کا ہجوم ہوتا تھا۔ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ دس آدمیوں کی الگ الگ جماعت کر دیتے تھے اور ہر جماعت پر ایک قاری کو مقرر کرتے تھے۔ کہ ان کو قرآن پڑھائے۔ خود ٹہلتے جاتے تھے اور پڑھنے والوں پر کان لگائے رہتے تھے۔ جب کوئی طالب علم پورا قرآن یاد کر لیتا تھا تو ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود اس کو اپنی شاگردی میں لے لیتے تھے۔

ایک دن ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شمار کرایا تو سولہ سو طالب علم ان کے حلقہ درس میں موجود تھے۔

==================> جاری ہے ۔۔۔