(کالم نگار کاایک روز قبل مرسلہ کالم۔۔کالم نگار آج مورخہ 24.5.2020دروان ادائیگی نمازعیدالفطر دوسری رکعت میں اللہ سبحانہ کے حضور ہمیشہ کیلیے سجدہ ریز ہو گئے۔ قارئین سے ان کی مغفرت اور بلندی درجات کیلیے خصوصی دعا کی درخواست ہے۔امتیازرحمانی) . . . . . . . . . .
۔ مرتد واجب القتل ہے احمدی قادیانی مرزائی اور لاہوری فرقہ کو 1973ءکے آئین میں بشیر کوکب ترابی کاشمیری۔

مرتد واجب القتل ہے احمدی قادیانی مرزائی اور لاہوری فرقہ کو 1973ءکے آئین میں غیرمسلم قرار دے کر جان بخشی کرکے امان اور پناہ دی گئی وگرنہ مرتد کی سزا قتل ہے۔
ناموس رسالت کی توہین اور گستاخ کی سزا بھی قتل ہے۔۔۔
(تحریر: بشیرکوکب ترابی کاشمیری)

شریعت اسلامیہ میں اللہ اور اس کے نبی محمد رسول اللہ کے فیصلوں اور قرآن و سنت کی روشنی میں پہلے سے قائم دائم کے اسلام چھوڑنے یا کسی نئے شخص کے اسلام قبول کر کے اسلام چھوڑنے اور کوئی دوسرا مذہب بنانے یا کوئی دوسرا مذہب اختیار کرنے والا مرتد ہے جس کی سزا قتل ہے۔ ناموس رسالت کی توہین اور گستاخ رسول کی سزا بھی قتل ہے۔۔۔

مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان دو قومی نظریئے کی بنیاد پر لاکھوں مسلمانوں کی جانوں کے مقدس لہو اور مال جائیداد عزت آبرو ناموس کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم کیا گیا جس میں کروڑوں مسلمانوں نے ہجرت کی یہ ملک اور اسلامی ریاست فقط دین اسلام کے نظام عدل اجتماعی کے نفاذ کے لیئے بنایا گیا تھا جس کی وجہ سے لاکھوں ہندوؤں اور سکھوں نے بھی اپنی مذہبی ریاست بھارت کے لیئے اپنی جائیدادیں چھوڑیں اور بھارت منتقل ہوئے۔

دنیائے انسانیت کی سب سے بڑی ہجرت اور نقل مکانی کی بنیاد دو قومی نظریہ تھا زمینوں اور جائیدادوں کی بندر بانٹ نہ تھی اور نہ ہی کسی اور کھلواڑ کے لیئے اتنی قربانیاں دینے کی چنداں ضرورت نہ تھی۔۔۔

مملکت خداداد پاکستان صرف مسلمانوں اور غیر مسلموں بھائیوں کا مشترکہ وطن ہے جس میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مساوی شہری حقوق اور مذہبی آزادیاں ہیں۔

مرتد، بے دین، بے مذہب، لبرلز، سیکولر فتنہ پرور دھشت گردوں کے لیئے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں وہ اسلام قبول کریں یا پھر دنیا کے سب سے بڑے سیکولر اور بے مذہبوں کے ملک پیا دیس بھارت کوچ کر جائیں۔۔۔

پاکستان دوقومی نظریئے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا جس میں غیر مسلم ذمی بھائی ہیں جنھیں آئینی مسلمانوں کے مساوی اور عین برابر شہری ہیں ملکی اور قومی ذمی داریاں اور مساوی آئینی حقوق ہیں اور اسلامی ریاست کی دینی اور اسلامی زمہ داری ہے کہ وہ پرامن غیر مسلم ذمی شہریوں اور بھائیوں کی جان مال عزت آبرو کی حفاظت کرے اور انھیں پورا احترام اور مذہبی آزادی دے۔۔۔

اسلام میں جبری طور پر کسی دوسرے غیر مسلم کو مسلمان بنانے اور کلمہ پڑھانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور ایک انسان کو اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جب کہ مسلمانوں کی زمہ داری ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو غیر مسلم بھائیوں کے سامنے اسلام کی حقیقی دعوت اور اپنے اعلی اخلاق اور کردار کا عملی نمونہ پیش کریں تاکہ غیر مسلم بھائی اخلاق و کردار سے متاثر اسلام قبول کری لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی آزادی مرضی سے اسلام قبول کرنے کے بعد کسی پرانے مسلمان یا نئے مسلمان کسی کو اسلام کا کھلواڑ بنا کر مذہب اسلام چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور فتنہ شروفساد کی بیش کنی کر کے اس حوالے سے ایک شرانگیزی اور فتنہ پروری کا سدباب کر دیا گیا ہے اور اس کی سزا کا قرآن پاک اور سنت رسول میں دوٹوک پکا اور دائمی فیصلہ سنا دیا گیا ہے جس میں تبدیلی اور کمزوری دکھانے کا کسی صورت کوئی علاج نہیں ہے۔۔۔
اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام چھوڑنے یا پہلے سے کسی مسلمان کے اسلام چھوڑنے والے مرتد کی سزا قرآن و سنت میں اللہ اور اس کے نبی آخر زماں پیغمبر اسلام امام الانبیاء ختم المرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نے خود مقرر کی ہے اور اسلام کی سب سے پہلی مملکت خداداداد مدینہ منورہ میں اس پر دوٹوک اور بے رحم فیصلہ اور عمل کر کے دکھایا ہے اسی طرح ناموس رسالت کے قانون کی سزا بھی قتل ہے۔۔۔
مرتد کی سزا قتل ہے 1973ء کے بعد احمدیت قادیانیت مرزائیت اور لاہوری گروپ اختیار کرنے والے مرتد اور قانونی طور پر واجب القتل ہیں

ہم تمام عیسائی، سکھ، ھندو، بودھ، مجوسی پارسی وغیرہ دیگر مزاہب کے تمام غیر مسلم ذمی برادری اور دوسرے تمام مذاہبِ کے غیر مسلم برادری کو پرامن آئینی حدود میں رہنے پر اور ملک وقوم کی تعمیر میں حصہ لینے پر خوش آمدید کہتے ہیں سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور پر امن شہری کے طور پر ان کا احترام کرتے ہیں کیونکہ وہ الگ سے ہی ہندو ، سکھ، عیسائی، یہودی، بودھ، مجوسی، پارسی وغیرہ ایک دوسرے مذہب کے ماننے والے اور پیروکار ہیں جب کہ احمدی قادیانی مرزائی اور لاہوری گروپ کا معاملہ ان سے مختلف ہے کیوں کہ احمدیوں قادیانیوں مرزائیوں اور لاہوریوں نے پیغمبر اسلام امام الانبیاء و المرسلین خاتم النبین رحمتہ العالمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام چھوڑ کر نبوت کا دعویٰ کرنے والے ایک جھوٹے دجال اور کذاب غلام احمد قادیانی کو پہلے امام مہدی، پھر مسیح موعود، پھر مسیح پھر ذیلی نبی اور اس کے بعد آخری نبی ماننے کا دعویٰ کیا ہے اور جو غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا غلام احمد قادیانی اسے بھی کافر کہتا ہے اور اس جھوٹے کذاب دجال کو مہدی، مسیح موعود، مسیح، ذیلی نبی اور نبی نہ ماننے والے کو بھی کافر کہتے ہیں۔ جب کہ مسلمان بھی غلام احمد قادیانی کو کافر کہتے ہیں اور جو غلام احمد قادیانی کو کافر نہ مانے مسلمان اسے بھی کہتے ہیں اور شریعت اسلامی میں قرآن و سنت کی رو سے اور اللہ اور اس کے آخری نبی محمد رسول اللہ کے فیصلے کے مطابق ان کو مرتد اور قانون کے فیصلے کے مطابق واجب القتل سمجھتے ہیں اور جو ان کے کافر ہونے میں ذرا برابر بھی شک و شائبہ محسوس کرے اسے بھی کافر مرتد اور قانون کے مطابق اس مرتد کی سزاء کو آئینی طور پر واجب القتل سمجھتے ہیں ۔۔۔
پاکستان مسلمانوں اور غیر مسلموں کا وطن عزیز مملکت خداداد ہے پاکستان تمام غیر مسلم بھائیوں عیسائیوں، سکھوں، ہندووں، پارسیوں مجوسیوں بدھوں وغیرہ سب کا مشترکہ وطن ہے اور اس وطن عزیز میں امن و امان قائم کرنا اور برقرار اور اس کی تعمیر وترقی میں حصہ لینا اسے خوشحال بنانا مسلمانوں اور غیر مسلموں سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری اور قومی فریضہ ہے جس کی ادائیگی پر ہم سب کو بجا طور پر فخر ہے۔۔۔

ملک وقوم کے لیئے اس مشکل گھڑی میں ہم اپنے مسلمان بھائیوں اور غیر مسلم بھائیوں یعنی ذمی بھائیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور سلام پیش کرتے ہیں کہ اس قومی امتحان اور شدید ترین آزمائش کی اس مشکل ترین گھڑی میں اپنی خدمات سر انجام دینے پر بھی دلی طور پر سراہتے ہیں خراج تحسین اور ایک بار پھر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔۔۔

ایک بار پھر واضح کرتے چلیں کہ بطور ایک پرامن پاکستانی شہری ذمیوں یعنی غیر مسلم شہریوں کے بھی ہم مسلمانوں کی طرح کے مساوی اور برابر کے پاکستانی شہری ہیں اور ہماری طرح تمام بنیادی انسانی اور مساوی شہری حقوق آئینی طور پر رکھتے ہیں ہم جنھیں پوری طرح تسلیم کرتے ہیں اور ان کے حقوق کے پشتی بان نگہبان اور محافظ ہیں۔۔۔

ایک اسلامی ریاست مملکت خداداد اور مسلمان عوام ان کی جان مال عزت آبرو کے محافظ ہیں، اور الحمدللہ ہم نے یہ زمہ داری ادا کی ہے اور یہ فرض نبھایا ہے اور اس کی پاداش میں ہر طرح کی قربانی دی ہے اور آئیندہ بھی یہ اسلامی ملی اور قومی ذمہ داری اور آئینی فریضہ بدرجہ اتم ادا کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ ادا کرتے رہیں گے ان شاءاللہ۔۔۔

بد امنی، فتنہ، قتل و غارت گری، دہشت گردی، پیچیدہ مسائل اور ناقابل اشکال وہاں پیدا ہوتے ہیں جب کوئی فتنہ پرور شرپسند دہشت گرد کلبھوشن یادیو کی صورت اپنی اصل مذہبی نام اور اپنی شناخت چھپا کر ایک دوسرا اسلامی نام استعمال کر کے ایک مسلمان اور پاکستانی کے طور پر غیر قانونی اور جعلی پاسپورٹ غیر قانونی طور پر بنواتا ہے اور پھر اس پر غیر قانونی طور پر اپنا اصل نام اور مذہب چھپا کر ایک جعلی اور نام نہاد مسلمان کا نام لکھوا کر ایک مسلمان کے طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے اور ایک مسلمان اور پاکستانی کے طور پر سفر کر کے پروٹوکول حاصل کرتا ہے اور واضح طور قانون شکنی اور توہین کرتا ہے اور پھر نتیجہ اس کے سامنے ظاہر ہے۔۔۔

بنا بریں اسی طرح احمدی قادیانی مرزائی یا لاہوری یا کوئی اور ذمی یا غیر مسلم برادری جن کے آئینی حقوق تسلیم شدہ ہیں جن پر کبھی بھی کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی ہے لیکن جب یہ احمدی قادیانی مرزائی غیر مسلم برادری اپنی اصل شناخت چھپا کر ایک مسلمان کے طور پر پاکستان کے اندر میں یا پاکستان سے باہر اور جہاں کہیں بھی یہ احمدی قادیانی یا مرزائی اپنی اصلیت کو چھپا کر دروغ گوئی اور جھوٹ سے کام لیتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہلواتے ہیں اسلامی اور ملی شعائر کا استعمال کرتے ہیں پاکستان میں اپنے ساتھ ہونے والے آئینی جدا گانہ تشخص کے خاتمے یا آئین میں ترمیم کرنے اور مسلمان کہلوانے اور اسلامی شعائر کے استعمال کا مطالبہ کرتے ہیں۔۔۔
جیسا کہ ابھی حال ہی میں احمدیوں قادیانیوں مرزائیوں نے بھی کرونا وبائی متعدی امراض کے خلاف اذان دینے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے جو سراسر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جس سے خدشہ ہے کہ کل کلاں امن و امان کے مسائل پیدا ہونے کے قومی اور بھیانک امکانات پیدا ہو سکتے ہیں جن کی تمام تر زمہ داری احمدی قادیانی مرزائی برادری کی ہو گی۔۔۔

حکومت اور مقامی انتظامیہ کو ہر سطح جس کے تدارک کے لیئے مسلمانوں اور تمام ذمیوں یعنی غیر مسلموں شہریوں کے آئینی حقوق اور زمہ داریوں بارے جان کاری دلائے جانے کے لیئے مناسب احکامات اور اشتہارات وقتا فوقتا جاری کرنے از بس ضروری ہیں جن کی پابندی بلا تحصیص مسلم غیر مسلم تمام پاکستانیوں اور ہم وطنوں کی یکساں ذمہ داری اور قومی فریضہ ہے۔جب تک کماحقہ ائینی قانونی اور مذہبی طور پر اسے ادا نہیں کریں گے تحفظات پیش نظر رہیں گے۔پھر۔کسی کے لیئے بھی امن و امان کے دورس نتائج پیدا ہو سکتے۔ہیں اور کوئی ایسا۔م لاوا پھوٹ سکتا ہے جو شرپسندوں کے ساتھ ساتھ شریف لوگوں کے لیئے بھی مسائل پیدا کرے جس کا مداوا پھر کسی کے بس کی بات نہ ہو اس لیئے ضروری ہے کہ جب تک احمدیوں قادیانیوں مرزائیوں اور لاہوریوں کو اس وقت 1973ء کے آئین کے مطابق احمدیوں قادیانیوں مرزائیوں لاہوریوں اور مسلمانوں کے درمیان مناظرے کے بعد حقیقت حال کھل جانے کے بعد احمدیوں قادیانیوں مرزائیوں اور لاہوریوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ سنایا گیا اس اجتہاد کے نتیجے میں انھیں جو ذرا سی جان بخشی آئینی طور پر جو تحفظ حاصل ہے اس پر شادیانے اور امن و چین کی بانسری بجائیں اس کی رو سے 1973ء سے پہلے والے احمدی قادیانی مرزائی لاہوری غیر مسلم قرار پائیں گے اور وہ نہ ہی اپنے آپ کو مسلمان کہلا سکیں گے اور نہ ہی اسلامی شعائر استعمال کر سکیں گے۔۔۔
جب کہ 1973ء کے بعد مذہب اسلام چھوڑ کر کوئی نیا مذہب بنانے یا کوئی دوسرا مذہب اختیار کرنے والا مرتد ہے اور قانون شریعت کی رو سے آئینی طور پر واجب القتل ہے۔۔۔
تاکید مزید کے طور پر ایک بار پھر باور ہو کہ شریعت اسلامیہ کے مطابق اسلام چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب بنانے یا کوئی دوسرا مذہب اختیار کرنے والے کو مرتد کہا جاتا ہے شریعت اسلامی کی رو سے مرتد کی سزا قتل ہے۔۔۔
(تحریر:
سید بشیر کوکب ترابی کاشمیری،
القرآن ایجوکیشنل ٹرسٹ رجسٹرڈ، اسلام آباد ۔ قرار دے کر جان بخشی کرکے امان اور پناہ دی گئی وگرنہ مرتد کی سزا قتل ہے۔
ناموس رسالت کی توہین اور گستاخ کی سزا بھی قتل ہے۔۔۔
(تحریر: بشیرکوکب ترابی کاشمیری)
شریعت اسلامیہ میں اللہ اور اس کے نبی محمد رسول اللہ کے فیصلوں اور قرآن و سنت کی روشنی میں پہلے سے قائم دائم کے اسلام چھوڑنے یا کسی نئے شخص کے اسلام قبول کر کے اسلام چھوڑنے اور کوئی دوسرا مذہب بنانے یا کوئی دوسرا مذہب اختیار کرنے والا مرتد ہے جس کی سزا قتل ہے۔ ناموس رسالت کی توہین اور گستاخ رسول کی سزا بھی قتل ہے۔۔۔

مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان دو قومی نظریئے کی بنیاد پر لاکھوں مسلمانوں کی جانوں کے مقدس لہو اور مال جائیداد عزت آبرو ناموس کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم کیا گیا جس میں کروڑوں مسلمانوں نے ہجرت کی یہ ملک اور اسلامی ریاست فقط دین اسلام کے نظام عدل اجتماعی کے نفاذ کے لیئے بنایا گیا تھا جس کی وجہ سے لاکھوں ہندوؤں اور سکھوں نے بھی اپنی مذہبی ریاست بھارت کے لیئے اپنی جائیدادیں چھوڑیں اور بھارت منتقل ہوئے۔

دنیائے انسانیت کی سب سے بڑی ہجرت اور نقل مکانی کی بنیاد دو قومی نظریہ تھا زمینوں اور جائیدادوں کی بندر بانٹ نہ تھی اور نہ ہی کسی اور کھلواڑ کے لیئے اتنی قربانیاں دینے کی چنداں ضرورت نہ تھی۔۔۔

مملکت خداداد پاکستان صرف مسلمانوں اور غیر مسلموں بھائیوں کا مشترکہ وطن ہے جس میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مساوی شہری حقوق اور مذہبی آزادیاں ہیں۔

مرتد، بے دین، بے مذہب، لبرلز، سیکولر فتنہ پرور دھشت گردوں کے لیئے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں وہ اسلام قبول کریں یا پھر دنیا کے سب سے بڑے سیکولر اور بے مذہبوں کے ملک پیا دیس بھارت کوچ کر جائیں۔۔۔

پاکستان دوقومی نظریئے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا جس میں غیر مسلم ذمی بھائی ہیں جنھیں آئینی مسلمانوں کے مساوی اور عین برابر شہری ہیں ملکی اور قومی ذمی داریاں اور مساوی آئینی حقوق ہیں اور اسلامی ریاست کی دینی اور اسلامی زمہ داری ہے کہ وہ پرامن غیر مسلم ذمی شہریوں اور بھائیوں کی جان مال عزت آبرو کی حفاظت کرے اور انھیں پورا احترام اور مذہبی آزادی دے۔۔۔

اسلام میں جبری طور پر کسی دوسرے غیر مسلم کو مسلمان بنانے اور کلمہ پڑھانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور ایک انسان کو اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جب کہ مسلمانوں کی زمہ داری ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو غیر مسلم بھائیوں کے سامنے اسلام کی حقیقی دعوت اور اپنے اعلی اخلاق اور کردار کا عملی نمونہ پیش کریں تاکہ غیر مسلم بھائی اخلاق و کردار سے متاثر اسلام قبول کری لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی آزادی مرضی سے اسلام قبول کرنے کے بعد کسی پرانے مسلمان یا نئے مسلمان کسی کو اسلام کا کھلواڑ بنا کر مذہب اسلام چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور فتنہ شروفساد کی بیش کنی کر کے اس حوالے سے ایک شرانگیزی اور فتنہ پروری کا سدباب کر دیا گیا ہے اور اس کی سزا کا قرآن پاک اور سنت رسول میں دوٹوک پکا اور دائمی فیصلہ سنا دیا گیا ہے جس میں تبدیلی اور کمزوری دکھانے کا کسی صورت کوئی علاج نہیں ہے۔۔۔
اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام چھوڑنے یا پہلے سے کسی مسلمان کے اسلام چھوڑنے والے مرتد کی سزا قرآن و سنت میں اللہ اور اس کے نبی آخر زماں پیغمبر اسلام امام الانبیاء ختم المرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نے خود مقرر کی ہے اور اسلام کی سب سے پہلی مملکت خداداداد مدینہ منورہ میں اس پر دوٹوک اور بے رحم فیصلہ اور عمل کر کے دکھایا ہے اسی طرح ناموس رسالت کے قانون کی سزا بھی قتل ہے۔۔۔
مرتد کی سزا قتل ہے 1973ء کے بعد احمدیت قادیانیت مرزائیت اور لاہوری گروپ اختیار کرنے والے مرتد اور قانونی طور پر واجب القتل ہیں

ہم تمام عیسائی، سکھ، ھندو، بودھ، مجوسی پارسی وغیرہ دیگر مزاہب کے تمام غیر مسلم ذمی برادری اور دوسرے تمام مذاہبِ کے غیر مسلم برادری کو پرامن آئینی حدود میں رہنے پر اور ملک وقوم کی تعمیر میں حصہ لینے پر خوش آمدید کہتے ہیں سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور پر امن شہری کے طور پر ان کا احترام کرتے ہیں کیونکہ وہ الگ سے ہی ہندو ، سکھ، عیسائی، یہودی، بودھ، مجوسی، پارسی وغیرہ ایک دوسرے مذہب کے ماننے والے اور پیروکار ہیں جب کہ احمدی قادیانی مرزائی اور لاہوری گروپ کا معاملہ ان سے مختلف ہے کیوں کہ احمدیوں قادیانیوں مرزائیوں اور لاہوریوں نے پیغمبر اسلام امام الانبیاء و المرسلین خاتم النبین رحمتہ العالمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام چھوڑ کر نبوت کا دعویٰ کرنے والے ایک جھوٹے دجال اور کذاب غلام احمد قادیانی کو پہلے امام مہدی، پھر مسیح موعود، پھر مسیح پھر ذیلی نبی اور اس کے بعد آخری نبی ماننے کا دعویٰ کیا ہے اور جو غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا غلام احمد قادیانی اسے بھی کافر کہتا ہے اور اس جھوٹے کذاب دجال کو مہدی، مسیح موعود، مسیح، ذیلی نبی اور نبی نہ ماننے والے کو بھی کافر کہتے ہیں۔ جب کہ مسلمان بھی غلام احمد قادیانی کو کافر کہتے ہیں اور جو غلام احمد قادیانی کو کافر نہ مانے مسلمان اسے بھی کہتے ہیں اور شریعت اسلامی میں قرآن و سنت کی رو سے اور اللہ اور اس کے آخری نبی محمد رسول اللہ کے فیصلے کے مطابق ان کو مرتد اور قانون کے فیصلے کے مطابق واجب القتل سمجھتے ہیں اور جو ان کے کافر ہونے میں ذرا برابر بھی شک و شائبہ محسوس کرے اسے بھی کافر مرتد اور قانون کے مطابق اس مرتد کی سزاء کو آئینی طور پر واجب القتل سمجھتے ہیں ۔۔۔
پاکستان مسلمانوں اور غیر مسلموں کا وطن عزیز مملکت خداداد ہے پاکستان تمام غیر مسلم بھائیوں عیسائیوں، سکھوں، ہندووں، پارسیوں مجوسیوں بدھوں وغیرہ سب کا مشترکہ وطن ہے اور اس وطن عزیز میں امن و امان قائم کرنا اور برقرار اور اس کی تعمیر وترقی میں حصہ لینا اسے خوشحال بنانا مسلمانوں اور غیر مسلموں سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری اور قومی فریضہ ہے جس کی ادائیگی پر ہم سب کو بجا طور پر فخر ہے۔۔۔

ملک وقوم کے لیئے اس مشکل گھڑی میں ہم اپنے مسلمان بھائیوں اور غیر مسلم بھائیوں یعنی ذمی بھائیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور سلام پیش کرتے ہیں کہ اس قومی امتحان اور شدید ترین آزمائش کی اس مشکل ترین گھڑی میں اپنی خدمات سر انجام دینے پر بھی دلی طور پر سراہتے ہیں خراج تحسین اور ایک بار پھر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔۔۔

ایک بار پھر واضح کرتے چلیں کہ بطور ایک پرامن پاکستانی شہری ذمیوں یعنی غیر مسلم شہریوں کے بھی ہم مسلمانوں کی طرح کے مساوی اور برابر کے پاکستانی شہری ہیں اور ہماری طرح تمام بنیادی انسانی اور مساوی شہری حقوق آئینی طور پر رکھتے ہیں ہم جنھیں پوری طرح تسلیم کرتے ہیں اور ان کے حقوق کے پشتی بان نگہبان اور محافظ ہیں۔۔۔

ایک اسلامی ریاست مملکت خداداد اور مسلمان عوام ان کی جان مال عزت آبرو کے محافظ ہیں، اور الحمدللہ ہم نے یہ زمہ داری ادا کی ہے اور یہ فرض نبھایا ہے اور اس کی پاداش میں ہر طرح کی قربانی دی ہے اور آئیندہ بھی یہ اسلامی ملی اور قومی ذمہ داری اور آئینی فریضہ بدرجہ اتم ادا کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ ادا کرتے رہیں گے ان شاءاللہ۔۔۔

بد امنی، فتنہ، قتل و غارت گری، دہشت گردی، پیچیدہ مسائل اور ناقابل اشکال وہاں پیدا ہوتے ہیں جب کوئی فتنہ پرور شرپسند دہشت گرد کلبھوشن یادیو کی صورت اپنی اصل مذہبی نام اور اپنی شناخت چھپا کر ایک دوسرا اسلامی نام استعمال کر کے ایک مسلمان اور پاکستانی کے طور پر غیر قانونی اور جعلی پاسپورٹ غیر قانونی طور پر بنواتا ہے اور پھر اس پر غیر قانونی طور پر اپنا اصل نام اور مذہب چھپا کر ایک جعلی اور نام نہاد مسلمان کا نام لکھوا کر ایک مسلمان کے طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے اور ایک مسلمان اور پاکستانی کے طور پر سفر کر کے پروٹوکول حاصل کرتا ہے اور واضح طور قانون شکنی اور توہین کرتا ہے اور پھر نتیجہ اس کے سامنے ظاہر ہے۔۔۔

بنا بریں اسی طرح احمدی قادیانی مرزائی یا لاہوری یا کوئی اور ذمی یا غیر مسلم برادری جن کے آئینی حقوق تسلیم شدہ ہیں جن پر کبھی بھی کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی ہے لیکن جب یہ احمدی قادیانی مرزائی غیر مسلم برادری اپنی اصل شناخت چھپا کر ایک مسلمان کے طور پر پاکستان کے اندر میں یا پاکستان سے باہر اور جہاں کہیں بھی یہ احمدی قادیانی یا مرزائی اپنی اصلیت کو چھپا کر دروغ گوئی اور جھوٹ سے کام لیتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہلواتے ہیں اسلامی اور ملی شعائر کا استعمال کرتے ہیں پاکستان میں اپنے ساتھ ہونے والے آئینی جدا گانہ تشخص کے خاتمے یا آئین میں ترمیم کرنے اور مسلمان کہلوانے اور اسلامی شعائر کے استعمال کا مطالبہ کرتے ہیں۔۔۔
جیسا کہ ابھی حال ہی میں احمدیوں قادیانیوں مرزائیوں نے بھی کرونا وبائی متعدی امراض کے خلاف اذان دینے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے جو سراسر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جس سے خدشہ ہے کہ کل کلاں امن و امان کے مسائل پیدا ہونے کے قومی اور بھیانک امکانات پیدا ہو سکتے ہیں جن کی تمام تر زمہ داری احمدی قادیانی مرزائی برادری کی ہو گی۔۔۔

حکومت اور مقامی انتظامیہ کو ہر سطح جس کے تدارک کے لیئے مسلمانوں اور تمام ذمیوں یعنی غیر مسلموں شہریوں کے آئینی حقوق اور زمہ داریوں بارے جان کاری دلائے جانے کے لیئے مناسب احکامات اور اشتہارات وقتا فوقتا جاری کرنے از بس ضروری ہیں جن کی پابندی بلا تحصیص مسلم غیر مسلم تمام پاکستانیوں اور ہم وطنوں کی یکساں ذمہ داری اور قومی فریضہ ہے۔جب تک کماحقہ ائینی قانونی اور مذہبی طور پر اسے ادا نہیں کریں گے تحفظات پیش نظر رہیں گے۔پھر۔کسی کے لیئے بھی امن و امان کے دورس نتائج پیدا ہو سکتے۔ہیں اور کوئی ایسا۔م لاوا پھوٹ سکتا ہے جو شرپسندوں کے ساتھ ساتھ شریف لوگوں کے لیئے بھی مسائل پیدا کرے جس کا مداوا پھر کسی کے بس کی بات نہ ہو اس لیئے ضروری ہے کہ جب تک احمدیوں قادیانیوں مرزائیوں اور لاہوریوں کو اس وقت 1973ء کے آئین کے مطابق احمدیوں قادیانیوں مرزائیوں لاہوریوں اور مسلمانوں کے درمیان مناظرے کے بعد حقیقت حال کھل جانے کے بعد احمدیوں قادیانیوں مرزائیوں اور لاہوریوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ سنایا گیا اس اجتہاد کے نتیجے میں انھیں جو ذرا سی جان بخشی آئینی طور پر جو تحفظ حاصل ہے اس پر شادیانے اور امن و چین کی بانسری بجائیں اس کی رو سے 1973ء سے پہلے والے احمدی قادیانی مرزائی لاہوری غیر مسلم قرار پائیں گے اور وہ نہ ہی اپنے آپ کو مسلمان کہلا سکیں گے اور نہ ہی اسلامی شعائر استعمال کر سکیں گے۔۔۔
جب کہ 1973ء کے بعد مذہب اسلام چھوڑ کر کوئی نیا مذہب بنانے یا کوئی دوسرا مذہب اختیار کرنے والا مرتد ہے اور قانون شریعت کی رو سے آئینی طور پر واجب القتل ہے۔۔۔
تاکید مزید کے طور پر ایک بار پھر باور ہو کہ شریعت اسلامیہ کے مطابق اسلام چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب بنانے یا کوئی دوسرا مذہب اختیار کرنے والے کو مرتد کہا جاتا ہے شریعت اسلامی کی رو سے مرتد کی سزا قتل ہے۔۔۔
(تحریر:
سید بشیر کوکب ترابی کاشمیری،
القرآن ایجوکیشنل ٹرسٹ رجسٹرڈ، اسلام آباد ۔