24 مئی 1944
یومِ شہادت مولانا محمد گل شیر شہید(ملہووالی اٹک)
شمالی پنجاب علاقے ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب کے گاؤں ملہووالی جہاں مولانا محمد گل شیر شہید 1899ء میں پیدا ہوئے۔اس دور میں دینی تعلیم کا ماجودہ نظام تو ماجود نہیں تھا جہاں کسی ایک علم میں دسترس رکھنے والے عالم دین طلباء کو درس دیتے۔عربی،فارسی،کلام،منطق،فقہ،حدیث اور تفسیر کی تحصیل علم کے لیے طلباء کو مختلف اساتذہ سے رجوع کرنا ہوتا تب جا کر کہیں مکمل درس نظامی اور علوم دینیہ کی تکمیل ہوتی۔دستور زمانہ کے مطابق مولانا گل شیر شہید نے بھی مختلف مقامات پر اہل علم سے رجوع کرتے ہوئے علم دین کی تکمیل کی۔ حصول علم کے بعد 1925ء میں 26 سالہ نوجوان عالم دین،تدریس و تبلیغ کے لیے ہندوستان کے مشہور شہر بمبئی چلے گئے جہاں (جامنیر )کے مقام پر ایک مسجد امامت و خطابت شروع کر دی۔ 20 صدی کے اوائل بھی مسلمانوں کے لیے جان کنی کا دور تھا۔سیاسی طور پر انگریز کی غلامی مسلط تھی تو معاشی طور پر ہندوؤں نے شکنجہ کسا ہوا تھا۔انگریز کی مسلم دشمن پالیسیاں نے مسلمانوں کو زبوں حالی کا شکار کر دیا اور معاشی طور پر ہندوؤں نے مسلمانوں کو اپنے زیر اثر کر رکھا تھا۔مولانا محمد گل شیر شہید اِس صورت حال کو برداشت نہ کر سکے اور ہندوؤں کے دام و فریب کو ناکام بنانے کے لیے علاقے میں واپس آ گئے ہندوؤں کی نفسیات کا مولانا نے بخوبی مشاہدہ کیا۔ہندوؤں کی شازش کو بے نقاب کیا ۔اس وقت سید عطا اللہ شاہ بُخاری،ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور مولانا ظفر علی خان نے قابل قدر کردار ادا کیا۔ 1928ء سے 1938ء دس برس مسلمانوں کو استحالی نظام سے نجات دلانے کے لیے سر توڑ کوشش کرتے رھے۔،،انجمن اصلاح المسلمین،، کی صورت میں اصلاح احوال انصار المسلمین کے فورم سے باطل کی سر کوبی اور فوج محمدی کے نام سے جذبہ جہاد بیدار کرتے ہوئے مفلوک الحال مسلمانوں کو حیات نو کے لیے سرفروشانہ کردار ادا کیا 1939 میں میں مولانا نے حج کی سعادت حاصل کی۔ حج سے پہلے مولانا احرار کے بہت بڑے ناقد تھے۔مولانا فرماتے ہیں کہ جب میں مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سویا ہوا تھا تو خواب میں حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا گل شیر اگر اسلام کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہو تو جاؤ ہندوستان میں احرار کے ساتھ تعاون کرو۔حج سے واپسی پر احرار کے مرکزی دفتر لاہور میں اپنے خواب کا واقعہ بیان کیا اور حکم نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکمیل میں آیندہ کے لیے اپنی خدمات مجلس احرار کو پیش کر دی۔ 1942میں مولانا سید حسن احمد مدنی سے بیعت ہوئے آپ کی شعلہ بیان خطابت نے انگریزوں کے محلوں میں آگ لگا دی یہ علاقہ انگریزی فوج میں بھرتی دینے میں مشہور تھا آپ نے فوجی بھرتی بائیکاٹ مہم چلائ۔لوگوں کے دل و دماغ سے انگریزوں کا رعب و دبدبہ نکال باھر کیا۔آپ نے سرگودھا،شاہ پور،اٹک،روال پنڈی،جہلم،گجرات،چکوال،خوشاب اور میانوالی کے اضلاع میں پے در پے دورے کر کے آزادی کے قافلے کو تیز کیا آپ کو بار ہا بار قید و بند کی صعوبتوں برداشت کرنی پڑی۔لیکن آپ ان تمام آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلے۔ مولانا گل شیر شہید جن قوتوں کے خلاف برسر پیکار تھے وہ ان کی جان کے دشمن تھے لیکن آپ کے پائے استقلال میں ذرہ بھر بھی خوف نہیں آیا۔آخر کار 24 مئی 1944 کو رات کی تاریکی میں انگریزوں کے پروردہ نواب نے آپ کو شہید کر دیا انا للہ و انا الیہ راجعون ۔۔
مولانا صاحب میں جذبہ جہاد کی ایک جھلک ،،ذاتی معاملات پر مر مٹنے والو دین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مٹنے کا جذبہ پیدا کرو۔اگر اس جہاد میں تم میرا ساتھ نہ دو گے تو کیا میں اپنے عزائم سے ھٹ جاؤں گا؟ تم بھی مجھے اچھی طرح جانتے ہو میں راہ حق میں آگے بڑھائے قدموں کو پچھے ہٹا لینے سے پہلے موت کے قبول کر لینے کو افضل سمجھتا ہوں
24 مئی 1944 یومِ شہادت مولانا محمد گل شیر شہید(ملہووالی اٹک)
1034












