پٹرولنگ پولیس کے افسران کی بے حسی
تحریرو اہتمام۔مظہر حسین باٹی,بارہ میل
ڈسٹرکٹ خانیوال پٹرولنگ پولیس کے ملازم محمد حسین مرالی دوران ملازمت سال 2014ء میں فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے کی بعد شہید ہوگئے تھے
کچھ ہی ماہ بعد مرحوم کی بیوہ نے اپنے خاوند کی پنشن اور گزارہ الاؤنس کے لیے پٹرولنگ پولیس کے دفاتر سے رابطہ کیا لیکن مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا محکمہ پٹرولنگ پولیس کے کلریکل سٹاف نے صرف بیوہ خاتون کو دفاتر میں دھکوں کے علاوہ کوئی ریلیف فنڈز نہ دیا گزراہ الاؤنس کی رقم بھی ہڑپ گئے
محکمہ پٹرولنگ پولیس کے افسران اور کلرک اتنے ظالم ہیں کہ وہ بیوہ خاتون سمیت کئی دوسروں کے بھی پہلے تو بغیر رشوت کام نہیں کرتے یا کرتے ہیں تو بھاری رشوت وصول کرتے ہیں اگر کبھی کبھار کوئی سائل اعلی افسران کو شکایت بھی کرے تو ان کو بڑی چالاکی کے ساتھ مطمئن کردیتے ہیں رشوت دینے والوں کے کام فوری اور نہ دینے والوں کو دھکے دیئے جاتے ہیں بالاآخر سائل مجبور ہوکر گھر بیٹھ جاتے ہیں
اے سی رومز میں بیٹھنے والے کیا جانیں کہ کیسے غریب شخص اپنے گھر کا گزر بسر کرتا ہے سرکاری ملازم جو کہ دوران سروس وفات پا جاتے ہیں ان کو حکومت کی طرف سے مکمل سہولیات دی جاتی ہیں لیکن یہاں ماجرا عجیب سامنے آیا ہےکہ بیوہ خاتون کو گزارہ الاؤئنس تک نہیں دیا گیا
مرحوم پٹرولنگ پولیس ملازم کی بیوہ خاتون نے بتایا کہ میرے شوہر کی وفات کے بعد مجھے محکمہ کی طرف سے کچھ نہیں دیا گیا گزارہ الاؤنس کی رقم کے حصول کے لیےدر بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں چھ سال گزرنے کے باوجود محکمہ کے کرپٹ کلریکل سٹاف اور افسران نے تاحال میرے مرحوم خاوند کا گزارہ الاؤنس منظور نہیں کیا ہمارے گھر کے حالات خراب ہیں محکمہ پٹرولنگ پولیس کے اعلی افسران کو متعدد درخواستیں بھی دے چکی ہوں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی،غریب و مظلوم لوگوں کی آہیں عرش کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں لیکن ان فسران کو تو روزانہ کی بنیاد پرعوام گالیاں بھی دیتی ہیں اور بدعائیں بھی دیتی ہیں ان ا فسران و کلریکل سٹاف کو اب شرم کرنا چاہیے کہ کم از کم تم لوگوں نے بھی خاک میں ملنا ہے مرحوم لوگوں کی بیوگان کو تو گزارہ الاؤنس سمیت دیگر سہولیات مہیا کی جائیں
تاہم بیوہ خاتون زیب النساء نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان،وزیر اعلی پنجاب عثمان بزداراور ایڈیشنل آئی جی پٹرولنگ پنجاب سے التجا کی ہے کہ میرے مرحوم خاوند کا گزارہ الاؤنس ودیگر سہولیات کو جاری کیا جائے تاکہ میں اپنے بچوں کی تعلیم تربیت سمیت گھر کا گزر بسر بہتر انداز میں کر سکوں






