مقامی سیاست کا قابل فخرچہرہ۔عملی خدمت کی منفرد داستان کا روشن نام۔نذرخان سیال۔علی امجد چودھری کے قلم سے۔۔سٹار نیوز پر۔

اس نوجوان سے میری ملاقات گارڈن ٹاؤن لاہور میں گزشتہ برس کے اواخر میں ایک دوست کی رہائش گاہ پر ہوئی تھی اپنے دوست جنید بٹ کے ڈرائنگ روم میں یہ نوجوان بھی ناچیز کے سامنے والے صوفے پر موجود تھا جنید خان کے تعارف پر کہ یہ ممتاز ہے میرے بھتیجے زبیر سعید بٹ کا کلاس فیلو اور یہ آپ کے ضلع جھنگ سے ہی ہے یہ لاہور میں سی اے کر رہا ہے
ضلع جھنگ سے تعلق اور سی اے کی ڈگری نوجوان میں ناچیز کا تعلق تجسس بڑھ چکا تھا سی اے کے اخراجات اور لاہور کا رہن سہن نوجوان سے ناچیز کا پہلا سوال یہی تھا کہ زمیندار ہو ؟خلاف توقع جواب اثبات کی بجائے نفی میں تھا خاندانی پس منظر کاروباری ہے ؟دوسرے سوال کا جواب بھی نفی میں تھا تو پھر یہ سی جیسی منگی ترین ڈگری کے حصول کی کوشش ؟؟؟؟؟؟؟
سوال ابھی ادھورا ہی تھا کہ نوجوان نے پہلو بدلا اور بولا اور مخصوص پنجابی لہجے میں بولا “”
سر جی کیہں سجنڑ دی مہربانی اے میرا پیو تے سئیکل تے کباڑ ویچیندا اے (یعنی سر جی یہ تو کسی مخلص کی مہربانی ہے وگرنہ میں باپ تو سائیکل پر کباڑ بیچتا ہے ) نوجوان کے جواب نے اب کی بار تجسس میں بے تحاشا اضافہ کر دیا تھا کہ ایسا کون ہے جو کسی سائیکل پر کباڑ کا کام کرنے والے یونین کونسل دری گوندل کے رہائشی شخص کے ہونہار صاحبزادے پر سی اے جیسی مہنگی ترین تعلیم کے لیئے اتنے اخراجات کر دے جواب نوجوان بھی شاید نہیں دینا چاہتا تھا اسی لیئے اس نے اجازت لینے کی کوشش بھی کی مگر اس کو جانے کی اجازت نہ دینے کے لیئے جنید بٹ ان بھتیجے زبیر سعید بٹ کے ساتھ ناچیز کا سر بھی نفی میں ہلتا گیا اور یوں تحصیل احمد پور سیال کی یونین کونسل دری گوندل کے اس نوجوان کو نہ چاہتے ہوئے بھی رکنا پڑا گیا
اس دوران اس نے اپنی جو داستان سنائی وہ سیاستدانوں کے روایتی چہرے سے قدرے مختلف تھی ممتاز کے مطابق گزشتہ برس عام انتخابات کے کوئی پچاس روز بعد اس کا انٹرمیڈیٹ کا نتیجہ تھا اور اس نے A+ گریڈ تھا وہ C a کے لیئے aspirant تھا مگر والد کی روازنہ آمدنی روزانہ پیٹ کی آگ بجھانے پر صرف ہو جاتی تھی اس لیئے لیئے آگے بڑھنے کے راستے تقریبآ ختم ہو چکے تھے اور وہ ایک پٹرول پمپ پر ملازمت کے لیئے رابطے میں تھا کہ ایک دوست نے قومی اسمبلی کے سابق امیدوار حاجی نذر عباس سیال سے رابطے کا مشورہ دیا مگر وہ رابطہ کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھا اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ اس سے کوئی دو ماہ قبل حاجی نذر عباس عام انتخابات میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے مگر کسی مہربان کے حوصلہ دلانے پر واٹس ایپ کال کی یہ اسوقت سعودی عرب میں تھے اور چند دنوں بعد پاکستان آنے والے تھے بس یہ ملاقات ہونی تھی اور پھر لاہور اس کی منزل تھا یہ انگشتاف ناچیز کے لیئے خاصا حیران کن تھا عمومی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حاجی نذر سیال انتخابات کے بعد اپنے حلقے سے غائب ہیں مگر ممتاز کی داستاں سن کر یہ اب اٹل حقیقت ہے کہ وہ اپنے حلقے میں خاموشی سے سرایت کر چکے ہیں اور خاموشی سے سرایت کرنے والے اچانک کامیاب بن کر سامنے آجاتے ہیں

والسلام دعاوں کا طلبگار علی امجد چوہدری صدر نیشنل یونین آف جرنلسٹس ضلع جھنگ واٹس ایپ 03036559570