چنیوٹ کی تحصیل بھوآنہ ۔۔۔ #نو_گو_ایریا*تحریر: #محمد_عمر_وقار_اعوان*
سنا تھا کہ جہاں جرائم پیشہ افراد رہتے ہوں تو مارے ڈر کے وہ نو گو ایریا بن جاتا ہے، جہاں ہائی پروفائل لوگ رہتے ہوں وہ نو گو ایریا بن جاتا ہے، جہاں دوسرے ممالک کے سفارتخانے ہوں وہ عام پبلک کے لیئے نو گو ایریا بن جاتا ہے، جہاں اعلیٰ حکومتی عمارتیں ہوں وہ علاقہ عام عوام کے لیئے نو گو ایریا بن جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کراچی کے کچھ علاقے نو گو ایریا بن گئے تھے اور عوام کے لیئے دہشت کا مقام تھے۔ پھر آج سے کچھ عرصہ پہلے راجن پور کے قریب چھوٹو گینگ کی وجہ سے سارا علاقہ نو گو ایریا ڈیکلیئر تھا۔ خیر اب ذکر کرتے ہیں اسی تصویر کے دوسرے رخ کا، ان سب نو گو ایریاز سے ہٹ کر پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوآنہ بھی گزشتہ کئی سالوں سے مسائل کا شکار ہے مگر گزشتہ دو سے تین ماہ سے بھوآنہ شہر باقاعدہ طور پر نو گو ایریا بن چکا ہے۔ نہ تو یہاں ڈاکو راج ہے، نا یہاں بہت خطرناک جرائم پیشہ افراد رہتے ہیں، نا یہاں کوئی ہائی پروفائل شخصیت رہتی ہے، نا یہاں کوئی سفارتخانے ہیں، نا یہاں کوئی حکومتی اعلیٰ دفاتر ہیں اور نا ہی یہاں کوئی آرمی کا کینٹ ایریا ہے جس کی وجہ سے بھوآنہ نو گو ایریا بنے؟ تو آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ بھوآنہ نو گو ایریا بن چکا ہے؟ جی قارئین صرف ایک وجہ ایسی ہے جو بھوآنہ کو نو گو ایریا بناتی ہے اور وہ ہے بھوآنہ کے ہر داخلی اور خارجی راستے پر صدیوں سے کھڑا گندہ، سبزی مائل سیوریج کا بدبودار پانی۔ پھر اسی پانی کا سڑک پہ کھڑے ہو ہو کر سڑک کا بیٹھ جانا اور جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا۔ ٹھٹھہ موسیٰ سے بجانب شہر سڑک مکمل طور پر غائب ہو چکی ہے۔ جگہ جگہ دو سے تین فٹ کے گہرے کھڈے پڑ چکے ہیں۔ سولنگ سٹاپ سے بلال مسجد سکول نمبر 1 مرکزی جھنگ چنیوٹ شاہراہ کی ایک سائیڈ اب استعمال کے قابل نہیں رہی۔ اکثر بیشتر گاڑیاں روڈ پہ الٹ جاتی ہیں جس سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ سامان سے لوڈ ہیوی ٹرالر اور ٹرک جو قیمتی ساز و سامان لیکر ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہیں وہ جب اس مخصوص سڑک سے گزرتے ہیں تو ضرور الٹ جاتے ہیں اور ٹنوں نقصان ہوتا ہے۔ بدبودار پانی کئی کئی دن کھڑا رہتا ہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔ سولنگ سٹاپ کو محلہ ارشاد سے ملانے والا روڈ جو صدیوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اور میری عمر 31 سال ہو چکی ہے میں نے اپنی 31 سالہ زندگی میں اس روڈ پہ کبھی بھول کر بھی کام ہوتے نہیں دیکھا۔ قارئین آپ ہی فیصلہ کریں کہ بھوآنہ نو گو ایریا ہے یا نہیں۔ اب حالات میں کون بھوآنہ کو اہمیت دے گا؟ کون بھوآنہ کو اپنا سمجھے گا؟ کون بھوآنہ کے حالات پہ رحم کھائے گا؟ یہی وہ سڑک ہے جس سے تمام وزیر مشیر بھی گزرتے ہیں اور تمام منتخب نمائندے بھی یہیں سے ہو کر جاتے ہیں۔ یہی وہ سڑک ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے اے سی، ڈی سی، ڈی پی او وغیرہ ادھر ادھر جاتے ہیں۔ لیکن پتا نہیں بھوآنہ کو کیوں اہمیت نہیں دی جا رہی؟ کیوں بھوآنہ کو منتخب نمائندے نہیں دیکھ رہے؟ بجٹ آتے رہتے ہیں بھوآنہ جوں کا توں رہتا ہے۔ چار سال سے سیوریج ڈالنے کے نام سے بھوآنہ کی عوام کو سابقہ اور موجودہ حکومت میٹھی گولی دیئے جا رہی ہیں مگر حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ بھوآنہ باقاعدہ طور پر نو گو ایریا بن چکا ہے۔ شہر کی بجائے لوگوں نے بائی پاس استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور لاواث شہر اپنے وارث ڈھونڈ رہا ہے۔ کاش میٹھی گولی ہی کام کر جائے اور بھوآنہ کی قسمت بدلے۔