موجودہ انتشار سے نکلنے کا حل
تحریر، محمد توصیف خالد
دنیا میں دو منصب ( نبوت و صحابیت ) ایسے ہیں، جو محض عطائے خداوندی ہیں۔ کوئی بھی شخص اپنی جدو جہد اور تگ و دو سے ان مناصب مقدسہ کو نہیں پا سکتا، اللہ تعالی نے انسانیت کی تکمیل کے لیے اپنے چند برگزیدہ بندوں کا چناؤ کیا۔ ہر نبی و رسول کسی خاص بستی، قبیلہ، علاقہ یا قوم کے لیے مختص تھے لیکن ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جہانوں کے لیے سراپا رحمت و کامل نمونہ بن کر تشریف لائے۔ آپ نے عالمگیر و ابدی پیغام دنیا کے سامنے پیش کیا۔
رب کائنات نے اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق، عادات اور محاسن کو محفوظ رکھنے لے لیے ان مقدس شخصیات کا انتخاب کیا جن کے قلوب کو انبیاءکرام علیھم السلام کے بعد سب سے زیادہ مطہر و مزکی پایا۔ تہامہ کی چوٹیوں سے بلند ہونے والی مبارک صدائے توحید پر ان حضرات نے بلا خوف و خطر لبیک کہتے ہوئے اپنا تن، من دھن نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم پر نچھاور کردیا۔
نبوت کی انتھک محنت سے سیراب ہونے والے اس گلشن کے ہر اک پھول کی مہکتی ہوئی خوشبو سے پوری کائنات معطر ہوگئی۔ نبوت کی ہر اک ادا کا عکسِ مکرم، گلشن نبوی کے گلوں میں نمایاں تھا۔
☆ اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی
نقش ہے صفحہ_ ہستی پہ صداقت ان کی
اس منتخب شدہ جماعت نے انبیاء کرام کے مقدس ترین فریضہ کو اپنا کر انسانیت کی کامل و اجمل رہنمائی فرمائی۔ رب لم یزل نے اس جماعت کو لاریب کتاب میں جا بجا خوبصورت القابات سے نوازتے ہوئے خصوصی انعامات و احسانات کا تذکرہ کیا جو ان حضرات کی کامیابی و عمدگی پر پختہ دلیل ہے۔
اس مقدس جماعت نے جان نثاری، غم گساری ، وفا شعاری ، ایثار و ہمدردی، اخوت و بھائی چارگی کی ایسی لازوال داستانیں تاریخ پر رقم کیں کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئ۔ قاصد_ قیصر روم نے جب ان اہل محبت کو دیکھا تو بے اختیار یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ؛ ”میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار دیکھے، بڑے بڑے مذہبی پیشواؤں کے پیروکاروں کو دیکھا ، مگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھیوں سے بڑھ کر کسی مذہبی پیشوا سے اس طور پر محبت کرنے والے نہ دیکھے“۔
اس جماعت میں شامل ہر ایک فرد، معاشرے کی کامل رہنمائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ معلم اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے شاگردوں کے متعلق واضح طور پر فرمادیا : ”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، جس کی بھی اتباع کروگے ہدایت پا جاو گے“۔
رب لم یزل نے ان مقدس شخصیات کے قلوب کو دولت ایمان سے مزین کرکے پرکشش و پرنور بنایا ، اور کفر و عصیان سے کراہت و تنفر پیدا کرکے سراپا اطاعت و فرمانبرداری بنادیا۔
لاریب کتاب کے اولین مصداق ہی یاران محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔نجات یافتہ جماعت ہی قابل اتباع ہے۔ انھی حضرات سے وابستگی ہی کامیابی و کامرانی کا زینہ ہے۔ گلشن نبوی کا ہر ایک پھول نرالا ، منفرد اور انوکھا مقام رکھتا ہے۔ ان حضرات کا انتخاب خود رب العلمین نے کیا اور مزکی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قلوب کا تزکیہ اور نفوس کی اصلاح کی جس کی وجہ سے وہ تمام انسانوں پر فائق و فائز رہے۔
کوئ بھی قوم یا فرد طریق صحابہؓ اختیار کیے بغیر اصل کامیابی و کامرانی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔ امت مسلمہ کے لیےموجودہ انتشار و فرقہ واریت سے نکلنے کا واحد حل طریق صحابہؓ و اہلبیت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سیرت صحابہؓ کا سیر حاصل مطالعہ کریں اور اس کی روشنی میں ظلمتوں و تاریکیوں سے نکل کر معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔











