پنجاب اسمبلی کا کارنامہ…پرویز الٰہی کے لئے خصوصی دعائیں

(مینارہ نور )کالم نگار
نوید مسعود ہاشمی

12جون کا جمعتہ المبارک اس خاکسار نے راولپنڈی کی ایک بڑی مسجد میں ادا کیا۔۔۔ نماز کی ادائیگی کے بعد امام صاحب نے جو دعا کروائی اس میں خاص طور پر سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کا بھی ذکر تھا…دعا کے الفاظ کچھ یوں تھے ”اے اللہ چوہدری پرویز الٰہی کی کوششوں سے حضرت محمد کریمۖ’ امہات المومنین اور صحابہ کرام کی شان میں گستاخی روکنے کا جو بل منظور ہوا ہے۔۔۔ اس پر چوہدری صاحب اور پنجاب اسمبلی کے بل کے حامی تمام اراکین کی بخشش فرما’ امام صاحب کی مانگی ہوئی اس دعا پر میرے سمیت مسجد میں موجود سینکڑوں نمازیوں نے پورے صمیم قلب سے امین کہا۔۔۔ مسجد سے نکلتے ہوئے میں نے سوچا کہ واقعی نیکی کبھی مرتی نہیں ہے’ تقریباً چھیالیس سال قبل ذوالفقار علی بھٹو شہید کی قومی اسمبلی نے منکرین ختم نبوتۖ یعنی قادیانی’ لاہوری گروہ کو کافر قرار دے۔۔۔ کر خاتم النبیینۖ سے جس محبت کا ثبوت دیا تھا۔ پھر اسی کا نتیجہ ہے کہ تختہ دار پر لٹکنے کے واقعہ کو چار دہائیاں بیت گئیں…مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ”بھٹو” کا نام آج بھی گونج رہا ہے۔۔۔ کوئی مت سمجھے کہ بھٹو مرحوم کے نام کو زرداری یا بلاول نے زندہ رکھا ہوا ہے…ہرگز نہیں پھانسی کی چار دہائیوں بعد بھی بھٹو کا نام اگر زندہ ہے تو اسے اس ”نیکی” نے زندہ رکھا ہوا ہے جو دشمنان ختم نبوت قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی۔۔۔ صورت میں کی گئی تھی’ پنجاب اسمبلی نے تاریخی قانون سازی کرتے ہوئے پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بورڈ کے ترمیمی بل کی مشترکہ طور پر جو منظوری دی ہے۔۔۔ اس کے تحت پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ تمام دینی کتب اور مذہبی مواد پہلے۔۔۔ متحدہ علماء بورڈ سے تصدیق کرائے گا..۔ اس بل کی منظوری کے بعد گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ ”آئے روز دین کے خلاف جو سازشیں ہوتی ہیں…بالخصوص سکولوں میں ہمارے بچوں اور بچیوں کو جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔۔۔ ان کے معصوم ذہنوں میں دین اسلام’ خلفائے راشدین ‘ اہل بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کے خلاف نفرت انگیزی اور شکوک و شبہات پیدا کئے جاتے ہیں …اب وقت آگیا ہے کہ ان شاء اللہ اس شر کے دروازے کو ہمیشہ کیلئے بند کر دیں۔
”واہ چوہدری پرویز الٰہی واہ…تینوں تے تیری پوری اسمبلی نوں رب دیاں رکھاں” ناموس رسالتۖ و ناموس صحابہ و اہل بیت کے تحفظ کے لئے نصاب سازی کے قانون میں ترمیمی بل۔۔۔ متفقہ طور پر منظور کرکے تکفیریت اور منافرت کے راستے میں جو بندھ باندھنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔ یہ ایک ایسی قیمتی ”نیکی” ہے کہ جو پرویز الٰہی’ محترمہ خدیجہ عمر ‘حافظ یاسر عمار’ مولانا معاویہ اعظم اور پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر۔۔۔ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور بل کے حامی ان کے ساتھیوں کے۔۔۔ ناموں کو تاریخ ہمیشہ زندہ رکھے گی۔
کاش کہ باقی صوبوں کی اسمبلیاں اور وفاق بھی اسی طرح کی قانون سازی کرلیں… تو یہاں پائی جانے والی ” تکفیری” ذہنیت کی مکمل بیخ کنی کی طرف یہ اہم پیش رفت ہوسکتی ہے’ سچی بات ہے کہ کسی بھی مسلمان کے لئے ناموس رسالتۖ’ ناموس صحابہ و اہل بیت اور ناموس امہات المومنین سے بڑھ کر دنیا کی کوئی دوسری چیز نہیں ہے…غیر ملکی دستر خوان کے بعض شدت پسند تکفیری راتب خور…جب خلفائے راشدین ‘ امہات المومنین’ اہل بیت اطہار کے خلاف اپنے باطل نظریات کی سڑاند۔۔۔ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے معاشرے میں فساد پھیل جاتا ہے ۔۔۔چوہدیری پرویز الٰہی کی کوششوں اور پنجاب اسمبلی کے تعاون سے منظور ہونے والا یہ بل تکفیری ذہنیت کے پیدا کردہ فساد کو روکنے۔۔۔ میں بھی انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔تکفیری فتہ ہو’ خارجہ فتنہ ہو یا تبرائی فتنہ…ان فتنوں کا راستہ مئوثر قانون سازی اور پھر قانون کی عملداری کے ذریعے ہی روکا جاسکتا ہے۔
پنجاب اسمبلی نے خاتم الانبیائۖ’ امہات المومنین اور صحابہ کرام کی شان میں گستاخی روکنے کے لئے جو قانون سازی کی ہے اگر اس قانون پر عمل۔۔۔ شروع ہوگیا تو اس سے نہ صرف یہ کہ مذہبی منافرت پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔۔۔۔ بلکہ ملک میں امن و امان کے مستقل قیام میں بھی مدد ملے گی۔
کون نہیں جانتا کہ ہمارا نصاب تعلیم موم بتی مافیا۔۔۔ غیر ملکی این جی اوز اور سکولر شدت پسندی کے بوجھ تلے دبتا چلا جارہا ہے’ نصابی کتب میں اسلام کی مقدس ترین شخصیات کے حوالے سے بھی متنازعہ باتیں شامل کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا۔۔۔ نائن الیون کے بعد تو یہود و نصاریٰ’ ہنودومجوس تو کھل’ کھلا کر دین اسلام کی مقدس شخصیات’ اسلامی احکامات’ اسلامی شعائر اور مسلمانوں کے خلاف ہر سطح پر مخالفت پر اتر آئے۔۔۔ امریکہ اور اس کے حواریوں نے اگر عسکری اعتبار سے صلیبی کروسیڈی جنگ شروع کی۔۔۔ تو دوسری طرف مسلمانوں کے خلاف تہذیبی جنگ کا بھی آغاز کیا۔۔۔ اس کے ذیل میں بہت سی تفصیلات ہیں جو پھر کبھی سہی’ آج کے کالم میں تو صرف یہی کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی خاندانی سیاست دان ہیں۔۔۔ وہ پانچ سال تک پنجاب کے وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں…ان کے بھائی چوہدری شجاعت حسین ملک کے نگران وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں۔ نائن الیون کے بعد’ جب عالمی طاغوتی قوتیں اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے دینی مدارس کے خلاف دہشت گردی اور شدت پسندی کا شوروغوغا برپا کئے ہوئے تھیں۔۔۔ تو چوہدری شجاعت حسین ہی تھے کہ جنہوں نے اسلام آباد کنونشن سینٹر میں وفاق المدارس کے ایک بڑے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”وہ ملک کے وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں…اور ہم نے تمام دینی مدارس کو بڑی باریک بینی سے چیک کیا تھا۔۔۔ مگر کسی مدرسے میں نہ تو اسلحہ پایا گیا اور نہ ہی کوئی دہشت گرد، چوہدری شجاعت حسین نے کہا تھا کہ دینی مدارس پہ گھٹیا الزام تراشی کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔
اللہ کی مرضی’ اللہ جس سے چاہے اپنے دین کا کام لے لے’ اگر اللہ, چوہدری پرویز الٰہی اور پنجاب اسمبلی کے دیگر اراکین کے ذریعے ختم نبوت’ ناموس رسالت, تحفظ ناموس صحابہ’ امہات المومنین اور تحفظ ناموس اہل بیت اطہار کا کام لینا چاہتا ہے… تو اس کی مرضی’ ہم تو تکفیری’ خارجی اور تبرائی ذہنیت کی منجی ٹھونکنے پر چوہدری پرویز الٰہی… اور ان کے قانون ساز ساتھیوں کو مبارکباد ہی پیش کر سکتے ہیں۔
(وما توفیقی الاباللہ)