بھارت کیا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔
(بکھری سوچیں)
کالم نگار غلام شبیر منہاس
کہا جاتا ھے کہ دنیا میں “ہمسائے” کا ایک ایسا رشتہ یا تعلق ہوتا ھے جس کو کبھی بھی بدلا نہیں جاسکتا۔ آپ کا ہمسایہ کیسا ھے یہ آپ کی قسمت ھے۔ مگر اس کو بدلنا آپ کے بس میں نہیں ھے۔ آپکو اس کی تمام تر خوبیوں یا برایئوں سمیت اس سے کھلے دل سے تسلیم کرنا پڑتا ھے۔ اسلام چونکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ھے اور اس میں زندگی کے ہر پہلو پہ روشنی ڈالی گئی ھے۔ اس آفاقی مذہب نے ہمسائیوں کے حقوق کے بارے میں بہت تلقین موجود ھے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پہ فرمایا تھا کہ مجھے ہمسایوں کے حقوق پہ اتنا کچھ کہا گیا کہ مجھے لگا وہ وراثت میں بھی حقدار قرار دے دیئے جایئں گے۔ اس سب کے باوجود خواہش اور دعا یہی ہونی چایئے کہ گھر، گلی اور محلے سے لے کر ملکوں تک آپ کا ہمسایہ اچھا ہو۔
ھمیں جس ہمسائے سے پچھلے 72 سال سے واسطہ ھے وہ بدقسمتی سے نہ تو اچھا ملک ھے۔نہ اچھا معاشرہ اور نہ ہی اچھا ہمسایہ۔ اور یہ بات اگر صرف ھم کریں تو شاید اس میں اتنا وزن نہ ہو کیونکہ ھم نے اس سے آزادی لی ہوئی ھے۔ اور ھمارے اور اس کے درمیان دیرینہ تصفیہ طلب کئی ایک مسائل ہیں جو حل نہیں ہو پارھے۔ مگر یہ بات اگر بنگلہ دیش بھی کرے۔۔یہی بات اگر نیپال بھی کرے۔ اسی بات کو اگر چین بھی دہرائے اور یہی بات اگر سری لنکا بھی کرے تو پھر دنیا کو اندازہ ھوجانا چایئے کہ یہ کس قسم اور کس نسل کا ہمسایہ ھے جس کو ھم بھگت رھے ہیں۔
بھارت بلاشبہ ایک بڑا ملک ھے۔ اس کی کئی ریاستیں ہیں اور اس کا عالمی منڈی میں اپنا ایک اثرورسوخ ھے۔ کیونکہ سوداگروں کو اپنا مال بیچنے سے غرض ہوتی ھے۔ انھیں اس ملک کی اخلاقی اقدار سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ مگر یہ ایک تلخ اور نہ جھٹلا سکنے والی حقیقت ھے کہ بھارت میں غربت آج کی دنیا سے کہیں زیادہ ھے۔ وہاں اس جدید اور تعلیم یافتہ دور میں بھی رنگ نسل اور علاقائی تقسیم عام ھے۔ نیچ زات کے دلت ہندو آج بھی وہاں کوئی انسانی مقام حاصل نہیں کرپائے ہیں۔ آج بھی عام سوسائٹی کو ایک طرف کریں مندر تک میں تفریق ھے۔ اور ایک عام ہندو خاص مندر میں جانے کی جرات نہیں کرسکتا۔ آج بھی گائے کو ماتا کا درجہ حاصل ھے اور محض گائے کا زبیحہ کرنے کا شک پڑنے پر آپ گاوں کے گاوں اجاڑ سکتے ہیں۔ اصل مسلہ ہندوستان کا اندرونی ھے۔ اس کے اندر کئی ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ اور جب سے مودی سرکار نے حکومت بنائی ھے تب سے آئے روز بھارت میں احساس محرومی بڑھتا جارھا ھے۔ لاقانونیت اپنی انتہاء پہ ھے۔ ھر آئے روز وسائل کے مقابلہ میں مسائل بڑھ رھے ہیں جو حکومتی اراکین کیلئے باعث تشویش ہیں اب ہونا تو یہ چایئے تھا کہ ہندوستان اپنے ان داخلی مسائل پہ پوری توجہ مرکوز کرتا۔ مگر اس نے اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے اور ان کے جذبات ابھارنے کیلئے پاکستان سے اپنے تعلقات انتہاء درجے کے خراب کرلئیے۔ کشمیر میں کرفیو لگا دیا۔ مزید فوج اتار دی اور پاکستان سے سرحدی جھڑپوں کا آغاز کردیا۔ کچھ عرصہ تو یہ چورن بکتا رھا مگر جلد ہی عوام اس سین سے اکتا گئی تو پھر دراندازی کا شوشہ چھوڑ کر کچھ وقت کیلئے مذید اپنی عوام کو گمراہ اور خود کو حقیقی دنیا سے فرار کا جال بنا گیا۔ جب اس پہ بھی سوال اٹھنے لگے تو لوگوں کو یقین دلانے کیلئے اپنے جہاز سرحد پار بجھوادیئے۔ مانسہرہ کے قریب جنگل میں بم گرائے مگر جلد ہی اپنے دو طیارے تباہ اور ایک پائلٹ گرفتار کروا لیا۔ اس سارے کھیل میں خراب قسمت بے چارے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کی رہی کہ جنھیں بھارت نے اپنی اس ناکامی اور جھنجھلاہٹ کاشکار بنایا اور ان پر ظلم وستم کے پہاڑ گرادیئے۔ مگر یہ گیم بھی زیادہ دیر تک نہ چلی۔ اور خود بھارت کے اندر سے اس کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گیئں۔ یہ وہ موقعہ تھا جب انڈیا کے عسکری ادارے اور حکومتی تھینک ٹینک بہت مایوس ہوئے۔ کیونکہ اب تک کی جانے والی ہر تدبیر الٹی پڑ رہی تھی۔ مثال کے طور پہ RAW جوکہ افغانستان اور ایران کو بطور بیس کیمپ استعمال کررہی تھی اور اربوں کی انویسٹمیںٹ کر رکھی تھی اس کے ساتھ بھی ہاتھ ہوگیا۔ کلبھوشن کے پکڑے جانے پہ ایران اور بلوچستان میں ان کا پورا نیٹ ورک درھم برھم ھوگیا۔اور ایران نے بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں بھارت کو باور کرایا کہ ھماری سرزمیں اتنی بے احتیاطی سے استعمال کریں گے تو ھم بھی مسائل کا شکار ہوں گے۔دوسری طرف افغانستان میں طالبان کی واپسی بھی بھارت کیلئے نیک شگون نہ تھی۔ طالبان نے انھیں وارننگ دی کہ پاکستانی سرحد کے قریب بنائے گئے اپنے قونصلیٹ سے اپنا سامان سمیٹنا شروع کردیں۔ ادھر مقبوضہ کشمیر کی عوام بھارتی فوج کے سامنے ڈٹ کے ایسی کھڑی ہوگئی کہ انھوں نے عزیمت کی ایک نئی مثال قائم کردی۔ اب ہندوستان نے سوچا کہ اس دائرہ سے باھر نکلا جائے۔ یہ منجن اب زیادہ دیر بکنے والا نہیں۔ مگر آپ جتنی بھی پلاننگ کریں ایک زات اوپر بھی بیٹھی ھے۔ انھوں نے عوام کو ایک نیا لولی پاپ دینے کیلئے لداخ میں چین کے ساتھ جاکے پنگا لے لیا۔ اور وہ ایسا ان کے گلے پڑھا کہ اب یہ کمبل کو چھوڑنا چاہتے ہیں مگر کمبل ان کی جان نہیں چھوڑ رھا۔ ابھی آج یعنی 16 جون کو لداخ کے سیکٹر پر چین کے ساتھ بھارت کی بڑی جھڑپ ہوئی ھے۔ جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق بھارت کا ایک کرنل اور دو جوان موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں اور اگر یہ جھڑپیں جاری رہتی ہیں تو لوگ پچھلی ویڈیوز بھول جایئں گے جس میں چینی بھارتیوں کی پٹائی کرتے نظر آتے ہیں۔
بھارت ایک عجیب الخلق ملک ھے۔ اس کا شاید موٹو یہی ھے کہ نہ جیئں گے اور نہ جینے دیں گے۔ اتنے سارے محاذ کھول کے بھی اس کو سکون نہیں آرھا اور اس نے نیپال کیساتھ بھی سرحدی تنازعہ شروع کردیا ھے۔ ابھی تین دن پہلے نیپالی پارلیمنٹ نے اپنے ملک کا ایک نیا نقشہ منظور کیا ھے جس میں سرحدی تنازعہ والے علاقوں کو نیپال نے اپنے اندر ضم کیا ھے۔جس کو جہاں عوام میں زبردست پذیرائی ملی ھے وھیں بھارت سے چیخوں کی آوازین بھی بہت دور تک گئی ہیں۔ سری لنکا بھی بھارت کے احسانات کبھی نہیں بھولے گا خاص کر تامل ناڈو والے معاملہ میں جو کردار ھندوستان نے ادا کیا تھا وہ بھی سری لنکن نسلیں اپنے اوپر قرض سمجھتی ہیں۔
اصل میں بھارت اپنے مصنوعی بڑے پن اور اکھنڈ میں اتنا غرق ھوچکا ھے کہ اس کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ وہ کر کیا رھا ھے۔ دنیا کو آپ سے تجارتی معاملات میں مطلب ھو گا۔ مگر ہمسائے کبھی بھی اپنی ایک انچ زمین آپکو نہیں دیں گے اور نہ اس رویہ کیساتھ آپکو بڑا تسلیم کریں گے۔ آپ جو چاہتے ہیں اور جن راستوں پہ چل نکلے ہیں اس پہ دنیا بہت تجربات کرچکی ھے۔ یہ ناکامی و رسوائی کا راستہ ھے۔ اس لئیے آپ بجائے دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کا گھیراو کرنے کے۔۔بجائے سفارتکاروں کو بطور جاسوس استعمال کرنے کے اور بجائے انسانیت کا ننگا ناچ کرنے کے اپنے داخلی معاملات کو سدھارنے پہ توجہ دیں۔ ورنہ دنیا میں آج کل جس تیزی سے مجسمے گر اور ٹوٹ رھے ہیں ایسا نہ ہو کہ بھارت میں کوئی بت بھی باقی نہ رھے۔











