دہلی کمیشن رپورٹ اور اقلیتوں کے حقوق؟
{منیارہ نور }
کالم نگار نوید مسعود ہاشمی

رواں سال فروری کے مہینے میں نئی دہلی میں مسلمانوں پر مودی کے ہندو شدت پسندوں نے جو فسادات مسلط کیے تھے … ان کی انکوائری کے لئے دہلی اقلیتی کمیشن نے مارچ میں دس رکنی کمیٹی قائم کی تھی … جس کی رپورٹ کے مطابق ”نئی دہلی فسادا ت مسلمانوں کے خلا ف منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوئے اور مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ ان کی املاک کو نقصان پہنچانے میں دہلی پولیس بھی فسادی ہندوئوں کے ساتھ شامل رہی۔
رپورٹ کے مطابق دہلی فسادات میں مسلمانوں کے گھروں، دوکانوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 11 مساجد،5 مدارس، ایک درگاہ اور قبرستان پر بھی حملہ کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے نام پر مسلمان اکثریتی علاقوں میں تعینات کیا گیا تھا لیکن فسادات کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور پولیس نے فسادات کے بعد ”انتہا پسندوں” کو علاقوں سے نکلنے میں مدد فراہم کی… رپورٹ کے مطابق پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا اور تاخیری حربے استعمال کیے۔
اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ پاکستانی قوم یہاں بسنے والی اقلیتوں کی محافظ قوم ہے … پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کچھ بھی ایسا نہیں ہو رہا کہ جیسا کچھ نریندر مودی حکومت اور ہندو قوم بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کے ساتھ کر رہی ہے … پاکستان میں آباد اقلیتوں کو آئین میں موجود تمام حقوق حاصل ہیں … پاکستان کے مسلمان سمجھتے ہیں کہ غیر مسلم جو اسلام اور مسلمان سے برسر پیکار نہ ہوں اور نہ ان کے خلاف کسی سازشی سرگرمیوں کا حصہ ہوں… قرآن پاک میں ان غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک، مروت و مودت اور خیر خواہی کی ہد ایت دی گئی ہے۔
پاکستانی قوم سمجھتی ہے کہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کو عقیدہ، مذہب، جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت حاصل ہوگی … وہ انسانی بنیاد پر شہری آزادی اور بنیادی حقوق میں مسلمانوں کے ساتھ برابرکے شریک ہیں ، قانون کی نظر میں سب کے ساتھ یکساں معاملہ کیا جائے گا … بحیثیت انسان کسی کے ساتھ کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔
پاکستانی قوم کے علم میں ہے کہ یہاں جس طرح مسلمان کی جان قیمتی ہے بالکل اسی طرح اقلیتی برادریوں سے وابستہ افراد کی جانیں بھی قیمتی ہیں، جس طرح مسلمان کی عزت و آبرو، عصمت و عفت کو تحفظ حاصل ہے بالکل اسی طرح اقلیتوں سے وابستہ غیر مسلم افراد کی عزت و آبرو ، عصمت و عفت کو تحفظ حاصل ہے۔
اسلامی ریاست میں کسی بھی شہری کی توہین و تذلیل کی اجازت نہیں ہوتی … پاکستان میں اقلیتوں کی عزت پر حملہ کرنا، اس کی ذاتی و شخصی زندگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا، اسے بلاجواز مارنا، پیٹنا، گالی دینا، قطعاً ناجائز اور حرام ہے، پاکستانی قوم اس بات پر بھی یقین رکھتی ہے کہ یہاں بسنے والی اقلیتوں کو اعتقادات اور عبادات اور اپنی مذہبی رسوم کی ادائیگی میں مکمل آزادی حاصل ہے… ان کے کنائس، گرجوں، مندروں وغیرہ کو منہدم نہیں کیا جائے گا، الحمدللہ، الحمد للہ پاکستان کے عوام اس سرزمین پر بسنے والی اقلیتوں کے ان تمام حقوق کا نہ صرف یہ کہ احترام کرتے ہیں بلکہ ان کی ادائیگی کی بھی مقدور بھر کوشش کرتے ہیں … بھارت کے مقابلے میں پاکستان اقلیتوں کے لئے نہایت پرامن اور پرسکون ملک ہے ، اس لئے میری یہاں بسنے والی اقلیتی برادریوں کے ذمہ داران اور لیڈروں سے بھی گزارش ہے کہ وہ ڈ الر خور این جی اوز اور موم بتی مافیا کے ہرکاروں کے پھیلائے ہوئے دام فریب سے بچنے کی کوشش کیا کریں… اگر امریکہ یا یورپی دنیا کو ”اقلیتوں” کے حقوق کی پاسداری کی ذرا برابر بھی فکر ہوتی تو نئی دہلی کمیشن رپورٹ سامنے آنے کے بعد وہ بھارت کا بائیکاٹ کرچکے ہوتے …بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے جرم میں بھارت پر اقتصادی پالیسیاں عائد کرچکے ہوتے … لیکن دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ ”نریندر مودی” اُن سب کا آج بھی منظور نظر ہے۔
جس کا مطلب بڑا واضح ہے کہ امریکہ ہو، لندن ہو ، فرانس ہو یا دیگر مغربی ممالک … انہیں بھارتی فورسز کی زیر نگرانی وہاں بسنے والی اقلیتوں کے قتل عام اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے ظالمانہ سلوک کی ذرہ برابر بھی فکر نہیں۔
پاکستان کو اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کے بھاشن دینے والے ممالک خود اس قدر اخلاقی بحران کا شکار ہیں کہ دہلی کے اقلیتی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد بھی … ”مودی” کے ظلم کی مذمت کرنے سے بھی معذور ہیں … اس لئے پاکستان کے عوام بجاطور پر یہ صحیح سمجھتے ہیں کہ یہاں موم بتی مافیا ہو، یا ڈالر خور این جی اوز انہوں نے ”اقلیتوں” کے حقوق کا نعرہ فقط ”پیٹ پوجا” کے لئے لگایا ہوا ہے یا پھر اس نعرے کی آڑ میں یہ پاک سرزمین پر غیر ملکی آقائوں کے گندے کھیل کو کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں، ہمیں اقلیتوں کے حقوق کیلئے امریکہ اور یورپ کے کسی غلام کے بھاشن کی ضرورت نہیں ہے، اقلیتوں کے حقوق بتانے کیلئے رب کا قرآن، آقاء مولیٰۖ کا فرمان اور آئین پاکستان ہمارے لئے کافی ہے۔