نسل نو کی آبیاری اور ہماری ذمہ داریاں
تحریر ، محمد توصیف خالد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللھم اتنی بفضلک افضل ما توتی من عبادک الصالحین
کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارومدار اس کے افراد کی ذہن سازی،کردار سازی اور شعور سازی پر ہوتا ہے- افراد کی تیاری میں نسل نو کا اہم اور کلیدی کردار ہے- عموماً سن بلوغ سے قبل افراد کے رجحانات و ترجیحات کا تعین ہوتا ہے- نسل نو کی بہتر تربیت و تعلیم سے ہی مستقبل کے شہسوار کی امید رکھی جاسکتی ہے- عہد طفلی میں کردار اور افکار پختہ اور راسخ ہوجاتے ہیں، گرچہ ان کا اظہار سن بلوغ کے بعد ہو-
ابتدا میں ہی بچہ ہر قول و فعل کو اپنی محفوظ یاداشت بنانا شروع کردیتا ہے- زبان سیکھنے کا تیز ترین وقت بھی دور_ طفلی ہے- حس قدر سن بلوغ سے قبل الفاظ سیکھے جاتے ہیں،اسی نسبت و رفتار سے سیکھنے کا عمل جوانی میں نہیں ہوسکتا- بچپن کی تربیت دیرپا اور مؤثر ہوا کرتی ہے- بچہ ہماری تمام حرکات و سکنات پر کڑی و گہری نگاہ رکھتا ہے- ابتدا میں عموماً بچہ ہر قول و فعل کو سرانجام دینے سے جھجھکتا اور ڈرتا ہے- اعمال و افعال کی صحت کو ہمارے رویوں سے ہی پرکھا جاتا ہے- اگر كسی بات پر ہم ناگواری کا اظہار کریں تو آئندہ ایسے فعل پر احتیاط کرے گا ، اس کے برعکس اگر ہم حوصلہ افزائی کے کلمات کہیں تو بچہ آئندہ ایسا فعل سرانجام دینے میں کوئی عار یا شرم محسوس نہیں کرے گا۔ آج کل بچے کو سمجھانے کی بات پر والدین کا ردعمل کچھ یوں ہوتا ہے : “ابھی بچہ ہے نا! رفتہ رفتہ سیکھ جائے گا۔” موجب حیرت ہے کہ” بچہ ہے ” حالاں کہ سیکھنے کا عمل بچپن میں ہی ہوتا ہے ، بلوغت کے بعد تو سیکھی ہوئی چیز میں پختگی پیدا ہوتی ہے، دوسری بات کہ رفتہ رفتہ سیکھے گا تبھی جب سکھایا جائے ، لیکن جب ٹال مٹول سے کام لیا جائے تو نتیجہ بےسود ہوگا۔
عموما بچہ والدین کے ہی سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، اسی بناء پر بچہ کے دل میں والدین کے لیےالفت و محبت کے جذبات و احساسات کا ابھرنا امر یقینی ہے۔ اولاد اپنے والدین کو آئیڈیل تصور کرکے ان کی ہر ادا کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجتا اولاد اپنے والدین کا عکس بن جاتی ہیں. اولاد کو درست سمت پر قائم رکھنے کے لیے والدین کے لیے خود “احتسابی” کا عمل ناگزیر ہے۔
~ یہ فیضان نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
جدید ٹیکنالوجی کا اثر، شہرت کا حصول، پیسے کی دوڑ، دامن کا ضرورت سے زیادہ پھیلاؤ اورمصروفیات کی بہتات نے والدین کو بچوں سے بیگانہ کردیا۔ اسی بناء پر وہ بری صحبت اختیار کرکے غلط روش پر چل پڑتا ہے۔
بچہ اپنے جذبات و احساسات و خیالات اور خواہشات کا برملا اظہار کرنے سے کنی کتراتا ہے۔ جس کا خمیازہ زیادتی، اغوا اور قتل جیسے سنگین نتائج کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔
سمارٹ موبائلز نے جہاں ہر عام و خاص کو اپنی گرفت میں لے لیا، وہاں اس کے مضر اثرات سے بچہ بھی محفوظ نہیں رہ سکا۔ سمارٹ فون جہاں بہت سی روحانی بیماریوں کا موجب ہے وہاں جسمانی بیماریوں کا بھی پیش خیمہ ہے۔ مسلسل سکرین دیکھنے سے بینائی کمزور ہوجاتی ہے، دماغ منجمد ہوکر نئی سوچ اور نئے خیالات سے محروم ہوجاتا ہے۔ نسل نو کے لیے موبائل فون دینی و اخلاقی لحاظ سے بہت زیادہ نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
ماں کی گود بچے کی تربیت کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔ جب مائیں بچوں کو دودھ پلاتے وقت قرآن کی تلاوت کیا کرتی تھیں ، انبیاء کرام و صحابہ کرام کی شجاعت و بہادری کے قصص بیان کرتی تھیں ، تو ماؤں کے بطن سے محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد جیسے مرد قلندر پیدا ہوا کرتے تھے، لیکن اگر بچے کی پیدائش ہی گھنگھروں کی چھنکار اور گانوں کی آواز پر ہو تو ایسے بچوں سے معاذ اور معوذ جیسے دلیر اور نڈر نوجوانوں کی امیدیں وابستہ کرنا سعی لا حاصل ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور عین فطرت دین ہے۔اسلام نے اولاد کی تربیت پر خصوصی زور دیا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد کی تربیت کے متعلق ارشاد فرمایا:
“مروا اولادکم بالصلاۃ وھم ابناء سبع سنین واضربوھم علیھا وھم ابناء عشر سنین، و فرقوا بین المضاجع. ” ترجمہ :
“اپنی اولادوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، دس سال کی عمر میں انہیں اس پر (نماز نہ پڑھنے پر ) مارو، اور ان کے بیٹھنے کی جگہ الگ الگ کردو۔ ”
(ابوداود)
اس حدیث کی بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند حکیمانہ باتیں ارشاد فرمائیں، جو اولاد کی تربیت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
1. سات سال کی عمر میں نماز کا حکم بھی نہ دیں، بچے کو خود سے مانوس کریں.
2. سات سال کی عمر میں نماز جیسے ضروری احکامات کی تلقین کریں ، لیکن محبت و پیار کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیے. تاکہ نماز کی خود بخود عادت پڑ جائے.
3. جب بچے دس سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو تلقین کے ساتھ تادیب بھی کریں ، تاکہ نماز کی اہمیت اس کے اندر رچ بس جائے.
4. دس سال کی عمر میں بچوں کے بستر بالکل علیحدہ کردیں تاکہ غیر محسوس طریقے سے غلط حرکات کے مرتکب نہ ہو.
5. بچوں کی ہر حرکت پر کڑی و گہری نظر رکھیے.
نسل نو ہمارا مستقبل اور قیمتی سرمایہ ہے. اس گراں قدر اثاثے کی بہتر رہنمائی کریں تاکہ بعد الموت ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنے۔ ان کے اعمال و اخلاق کی درستگی کے لیے کمر بستہ ہوجائیے۔ ان کے ذہنوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بہادری و شجاعت، ایثار و ہمدردی، اخوت و بھائی چارگی کے قصص بیان کیجیے، تاکہ ان کے اندر دینی و اخلاقی جوہر حقیقی پیدا ہو اور معاشرے میں ملک و ملت کے لیے کردار ادا کریں۔ ان کے لیے دعائے نیم شبی اور آہ_ سحر گاہی کا خصوصی اہتمام کیجیے۔










