شہباز، زرداری اور مولانا فضل الرحمن کی گرفتاری کا خدشہ؟

{منیارہ نور }
کالم نگار مسعود ہاشمی

بہت جلد میاں شہباز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو گرفتار کرلیا جائے گا، ”مولانا” کے خلاف کرپشن کے ٹھوس ثبوت جمع کئے جارہے ہیں … اگر عمران خان ان تینوں سیاست دانوں کو مضبوط بنیادوں پر گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اور عوام بھی سڑکوں پر نہ آئے تو پھر ان کی حکومت پانچ سال پورے کر جائے گی۔
وزیراعظم عمران خان جانتے ہیں کہ کشمیر بغیر جنگ کے آزاد نہیں ہوسکتا،14 اگست کے دن معروف حریت پسند بزرگ راہنما سید علی گیلانی کو پاکستان کا اعلیٰ ترین ایوارڈ عطا کرنے کا اعلان کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے، کون نہیں جانتا کہ عمران خان کی حکومت کے دو سال گڈ گورننس کے اعتبار سے بدترین تھے، کسے معلوم نہیں ہے کہ اس حکومت میں معیشت کا بالکل ہی بھٹہ بیٹھ گیا… لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ ن ہو، پیپلز پارٹی ہو یا دیگر اپوزیشن پارٹیاں ان کی ”سیاست” سے حکومت کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں ہے… رہ گئے مولانا فضل الرحمن، عمران خان کے خلاف ان کی آواز تو جاندار لیکن پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے بغیر وہ تنہا پرواز کرکے کبھی بھی اتنا آگے نہیں بڑھیں گے کہ جن میں ان کے کارکنوں کو جیلوں، ہتھکڑوں یا گولیوں کا سامناکرنا پڑے۔
ن لیگ او ر پیپلز پارٹی ”سیاست” کم اور ڈنگ ٹپائو پالیسی پر زیادہ گامزن ہیں … اپوزیشن کی یہ دونوں بڑی پارٹیاں اقتدار کے مزے لوٹتی چلی آرہی ہیں … انہوں نے طے کررکھا ہے کہ اس مرتبہ عمران خان حکومت میں عوام بھی ”ترقی” کے مز ے لوٹ لیں، ان جماعتوں کے لیڈران کبھی بھی عوام کے لئے سڑکوں پر ڈنڈے کھانے نہیں نکلیں گے، ن لیگ اور زرداری پارٹی اپنے اپنے قائدین کو مقدمات سے بچانے کیلئے ”ڈیل” کی سیاست کو ”ثواب” سمجھ کر جاری رکھیں گے ، ادویات ہوں، اشیائے خوردنوش ہوں یا پٹرولیم مصنوعات ، بجلی کی قیمتیں ہوں یا گیس کی قیمتیں … ان میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا ۔
تقریباً15 دن پہلے میری اسلام آباد میں ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے محتاط انداز میں میرے سوالوں کے جواب میں جو کچھ فرمایا … اس کا لب لباب میں نے اوپر عرض کر دیا، انہوں نے دنیا دیکھ رکھی ہے، اسلام آباد کے حکومتی حلقے ہوں، صحافتی حلقے ہوں یا سماجی حلقے … ان کا سب میں ہی سرگرم کردار رہتا ہے، ”دنیا” دیکھنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ کامیابی صرف اور صرف محبت رسولۖ اور دین اسلام کو سمجھ کر مان لینے میں ہی ہے، پہلے اس خاکسار کی اسلام آباد میں تقریباً یومیہ بنیادوں پر ملاقات رہتی تھی لیکن اس مرتبہ ملاقات میں15 دن کا وقفہ آگیا۔
پیر کی شام جب انہوں نے حالات کا تجزیہ کیا تو میں نے پوچھا کہ ”مولانا” کے خلاف اگر کوئی کرپشن یا لوٹ مار کے ثبوت ہوتے تو ان دو سالوں میں ان پر ہاتھ ڈالا جاچکا ہوتا … وہ مسکرائے اور کہا کہ دو سال ہوں یا تین سال جب ٹھوس شواہد اسی حکومت میں سامنے آئیں گے تو یہ کارنامہ بھی عمران خان کا ہی تصور ہوگا، لیکن عوام نہیں مانیں گے … میں نے جلدی سے کہا، یکدم ان کے چہرے پر سنجیدگی طاری ہوگئی … اور انہوں نے جیسے بچوں کو سمجھایا جاتا ہے، مجھے بھی سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ”زرداری کے گھوڑے مربع جات اور بادام کھایا کرتے تھے … کیا عوام میں سے کسی نے زرداری کے گھوڑوں کو یہ سب کھاتے ہوئے کبھی دیکھا تھا”؟ میں نے کہا کہ حکومت اور میڈیا نے بتایا تھا، انہوں نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور کہا کہ جب حکومت ٹھوس ثبوت سامنے لائے گی اور میڈیا بڑے جوش و خروش کے ساتھ عوام کو مولانا فضل الرحمن کے خلاف حکومت کے پیش کردہ ثبوت دکھائے اور بتائے گا… تو ”عوام” کو یقین کرنا ہی پڑے گا، میں نے یہ سب سمجھتے ہوئے بھی نہ سمجھنے کے انداز میں ایک اور سوال داغ دیا، تو کیا مولانا فضل الرحمن کے خلاف کسی گمنام کرپشن کے ثبوتوں کو گھڑ کر ”بھٹی” میں ٹھوس بنایا جارہا ہے؟ وہ بے ساختہ مسکرائے اور کہا کہ پھر بندہ بشر سے بھول چوک تو ہو ہی جاتی ہے … ممکن ہے کہ مولانا کی کوئی بھول چوک ، ”ان” کی نظروں میں بھی آچکی ہو؟
جب تک ”مولانا” جیل میں نہیں جاتے … اس وقت تک عمران خان کو اپنی حکومتی طاقت کا مزہ نہیں آئے گا… اچھا تو یہ سب کچھ ”مزہ” لینے کے لئے ہوگا؟ تو اور کس کے لئے؟ اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ مولانا ملک بھر میں دندناتے پھریں اور عمران خان پر کبھی کشمیر کو فروخت کرنے اور کبھی یہودی ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کے الزامات عائد کرتے پھریں۔