آئو سیدنا عمر کی چوکھٹ پر چلیں
{ مینارہ نور }
کالم نگار نوید مسعود ہاشمی
کوئی شک نہیں کہ عالم اسلام کو کسی ایسے لیڈر … ایسے حکمران کی ضرورت ہے کہ جو حضرت سیدنا عمر فاروق کا سچا پیروکار ہو… یاد رکھیئے کہ اگر ”پاکستان” دنیا کو لیڈ کرنا چاہتا ہے تو یہاں سے مغربی جمہوریت کے گند کو نکال کر نظام فاروقی یعنی اسلامی نظام کو عملاً نافذ کرنا پڑے گا … اگر پاکستان سے ظلم و جبر، ناانصافی کا خاتمہ چاہتے ہو تو عدل فاروقی کی طرف لوٹنا پڑے گا۔
سن لیجئے ”پاکستان” مسائل کے جس بھنور میں پھنسا دیا گیا ہے ، پاکستان کے خاندانی سسٹم، معیشت ، معاشرت، اخلاقیات، تہذیب و تمدن کو جس خطرناک ”سونامی” کا سامنا ہے … اگر اس سے بچانا چاہتے ہو تو ساڑھے22 لاکھ مربع میل کے انصاف پسند حکمران، خلیفہ دوئم سیدنا عمر بن خطاب کی طر ف رجوع کرنا پڑے گا… پاکستان سمیت کل عالم اسلام کے مسائل کا حل روس، امریکہ یا مغربی ممالک کے پاس نہیں ہے … بلکہ سیدنا فاروق اعظم کے پاس ہے، انسانوں کی فلاح و بہبود اور انسانیت کے لئے ”امن” کے حوالے سے خلفاء راشدین کے ادوار سب سے سنہرے ادوار ہیں … یہود و نصاریٰ سے غلامانہ دوستی کا دم بھرنے والے احساس کمتری کے مریضوں کو کوئی بتائے کہ ”انسانیت” آج بھی دور فاروقی پر نازاں ہے، صرف انسان ہی نہیں … تم ”نیل” کے پانیوں سے جاکر پوچھو کہ وہ اٹھکیلیاں کرتے ہوئے صدیوں سے رواں دواں کیوں ہے؟ دریائے نیل مسکراتے ہوئے جواب دے گا کہ میری ”روانی” میں حکم سیدنا عمر شامل ہے کہ … ”اگر تو اپنی مرضی سے چلتا ہے تو پھر ہمیں تیری کوئی ضرورت نہیں … لیکن اگر تو میرے رب کی مرضی اور منشاء کے مطابق چلتا ہے تو پھر مسلمانوں کو سیراب کر”
جس کا حکم پانی پہ چلے، جس کا حکم ہوائوں پہ چلے، وہ کہ جو زمین پر رائے دے … اللہ آسمانوں سے وحی بناکر جبرائیل امین کے ذریعے اپنے محبوبۖ پہ نازل فرما دے … اسے ہی تو خطاب کا بیٹا ”عمر” کہتے ہیں۔
جناب عمران خان! قوم کو لمبی لمبی تقریریں مت سنائیے … ادھر ، اُدھر ، چونکہ، چنانچہ میں مت الجھائیے… اگرچہ ، مگرچہ، اگلے، پچھلے قصے، کہانیوں کو دفع کیجئے … سچ سچ بتائیے کہ اگر ”ریاست مدینہ کا نعرہ دل سے نکلا تھا … تو پھر دو سالوں میں دور صدیقی، دور فاروقی ، دور عثمانی ، دور حیدری والا کوئی ایک بھی قانون نافذ نہیں کیا تو کیوں؟
ایف اے ٹی ایف کے حکم پر اپنے ہی شہریوں کے خلاف قانون بنانا اگر غلامانہ ذہنیت نہیں تو پھر کیا ہے؟ کہاں ریاست مدینہ کا نعرہ اور کہاں ایف اے ٹی ایف کے حکم پر قانون سازی؟ یہود و نصاریٰ کی غلامی زوال تو لاسکتی ہے … مگر ”عروج” کبھی نہیں، اگر نعرہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا ہے تو پھر سیدنا عمر فاروق کے دروازے پر جانے میں جھجک کیسی؟
عمر ان خان ! چھوڑیئے… قیساریہ، جزیرہ خوزستان، شام، دمشق، حمص، انطاکیہ، ایران، فارس، کرمان، سیستان، مکران، خراسان، مصر، اسکندریہ سمیت22 لاکھ51 ہزار مربع میل سے زائد علاقوں کی۔۔۔ دور فاروقی میں ہونے والی فتوحات کو۔۔۔ انہیں تو چودہ صدیاں بیت چکیں۔
آپ دور مت جائیے … اہل یورپ سے ہی امام عدل و انصاف حضرت سیدنا فاروق اعظم کے بارے میں پوچھ لیجئے … ذرا ان سے ”عمر لاز” کے حوالے سے سوال کیجئے … اہل یورپ ایف اے ٹی ایف کے حکم پر قانون سازی کرنے والوں سے زیادہ سیدنا فاروق اعظم کو جانتے ہیں۔
اگر نعرہ ریاست مدینہ کا ہے تو پھر قانون بھی اسلام کا ہونا چاہیے، اگر دعویٰ ریاست مدینہ کا ہے تو پھر نظام بھی خلفائے راشدین والا ہونا چاہیے … اگر چاہت ریاست مدینہ کی ہے تو پھر پیروی سیدنا فاروق اعظم کی کرنا پڑے گی۔
اگر یورپ کے بعض ممالک میں ”عمر لاز” نافذ ہوسکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ شیطان اور شیطانی طاقتیں حضرت عمر فاروق کے مبارک نام سے بھاگ جانے میں ہی عافیت محسوس کرتی ہیں … کیوں؟ شائد اس لئے کہ شیطان جانتا ہے کہ جو حضورۖ کے فیصلے کو نہیں مانتا… اس کا فیصلہ پھر عمر کی تلوار کیا کرتی ہے، شیطان اور شیطانی طاقتیں یہ بھی جانتی ہیں کہ سیدنا عمر فاروق آج بھی اپنے محبوب پیغمبرۖ کے پہلو میں… محو استراحت ہیں، ایک سچے عاشق کا اپنے محبوب کے پہلو میں قیامت تک محو استراحت ہونا معمولی نہیں… بلکہ انتہائی غیر معمولی بات ہے۔
ایرانی مجوسی ابوفیروز لولو جہنمی نے تو… خنجر کے وار کرکے آپ کو گھائل کرنے کی کوشش کی تھی… لیکن پروردگار نے سیدنا عمر کو گنبد خضریٰ کا مکین بنا د یا۔
یعنی قیامت تک صدیق و فاروق گنبد خضریٰ کے پہریدار رہیں گے اور گنبد خضریٰ صدیق و فاروق کی عظمتوں کا گواہ … حضرت نزال فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم حضرت علی المرتضیٰ سے ملے … سیدنا علی المرتضی خوشی و مسرت کی حالت میں تھے … ہم نے عرض کیا اے امیر المومنین! حضرت عمر بن الخطاب سے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے، حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا نے ارشاد فرمایا کہ ”عمر بن الخطاب ایسے بزرگ تھے … جن کا نام اللہ کے رسولۖ نے فاروق (حق و باطل میں فرق کرنے والا) رکھا ہے، حضورۖ سے میں نے سنا ہے کہ آپۖ فرماتے تھے … اے اللہ عمر کے ذریعہ اسلام کو عزت اور غلبہ عطا فرما ، سیدنا فاروق اعظم کو علاقے فتح کرنے کا شوق نہ تھا … بلکہ وہ جانتے تھے کہ جن علاقوں میں بسنے والے ”انسان” کفر کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اگر ان علاقوں پر رب کی توحید اور محمد عربیۖ کی رسالتۖ کا پرچم نہ لہرایا تو انسانیت ہمیشہ شرمندگی محسوس کرے گی، کسی شاعر نے خوب کہا کہ
عمر تجھ سا زمانے نے کہیں عادل نہیں دیکھا
شجاعت کے مکانوں کا سدا تجھ کو مکین دیکھا
حیا تیری جبیں چومے، قدم تیرے زمین چومے
چلا لشکر جہاں تیرا تجھے نصرت قریں دیکھا









