تحصیل شورکوٹ کی ممکنہ بلدیاتی صورتحال
{ پارٹ 1}

تجزیہ نگار علی امجد چوہدری

جھنگ کی دوسری بڑی تحصیل شورکوٹ سیاست میں ایک اہم مقام رکھتی ہے ماضی میں اس تحصیل کا اقتدار زیادہ تر صاحبزادہ گروپ کے پاس رہا ہے تاہم بھروانہ خاندان بھی کچھ زیادہ پیچھے نہیں رہا سابقہ ایم این اے محترمہ صائمہ اختر بھروانہ کی ہیٹ ٹرک اور سابق صوبائی وزیر مہر اختر عباس بھروانہ کی وزارت نے اس خاندان کی تحصیل شورکوٹ میں اہمیت کو مسلمہ رکھا ہے کاٹھیہ خاندان جنجیانہ فیملی کے علاوہ جزوی طور پر حویلی بہادر کے قریشی اور مہر خالد سرگانہ بھی تحصیل کے سیاسی اتار چڑھاؤ کا حصہ رہے ہیں تاہم عوامی خدمت پارٹی کے چیئرمین مولانا آصف معاویہ سیال کے سیاسی کیریئر کے آغاز نے تحصیل شورکوٹ کی سیاسی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے 2013 کے عام انتخابات سے قبل برابر کی کسی تیسری سیاسی قوت کے امکان کو بھی مضحکہ خیز سمجھا جاتا تھا لیکن عوامی خدمت پارٹی کے چیئرمین مولانا آصف معاویہ سیال کی غیر متوقع مستقل مزاجی نے انہیں تحصیل شورکوٹ کے دوسرے بڑے کردار کے طور پر لا کھڑا کیا ہے مولانا آصف معاویہ سیال کو کس حد تک underestimate کیا گیا اس حوالے سے ایک واقعہ ہی کافی ہوگا گزشتہ عام انتخابات سے کوئی دو تین ہفتے قبل کا واقعہ ہے سابق تحصیل نائب ناظم احمد پور سیال منصور خان سیال کے ڈیرے پر مزاکرات کے لیئے سابق وزیر خارجہ صاحبزادہ نزیر سلطان اور مہر غلام قاسم سرگانہ پہنچے غیر رسمی گفتگو کے دوران منصور خان سیال کے کزن کی طرف سے مولانا آصف معاویہ سیال کی پوزیشن کے بارے سوال کے جواب میں صاحبزادہ نزیر سلطان صاحب کا کہنا تھا کہ مولانا آصف معاویہ سیال 2013 میں حاصل کیئے گئے 38000 ووٹس کا بمشکل نصف ہی حاصل کر سکیں گے یعنی بمشکل 19000 ووٹ صاحبزادہ نزیر سلطان صاحب کا خیال تھا کہ چوہدری شہباز تگہ گروپ کی مولانا آصف معاویہ سیال سے علیدگی کے بعد مولانا خاصے کمزور ہو چکے تھے تاہم حتمی نتائج میں مولانا تقریبا چار گنا زیادہ ووٹ یعنی تقریبآ 73000 ووٹ حاصل کر چکے تھے یوں کہا جاسکتا ہے کہ تحصیل شورکوٹ کی عوام کی سوچ کے حوالے سے حتمی رائے قائم کرنا خاصا مشکل ہے اب آتے ہیں تحصیل شورکوٹ کی ممکنہ بلدیاتی صورتحال کی طرف تحصیل شورکوٹ میں تحصیل ناظم کے لیئے تین سے چار گروپ سامنے آ سکتے ہیں پہلا گروپ صاحبزاہ گروپ جس کے تحصیل ناظم کے ممکنہ امیدوار میاں حاکم کاٹھیا نواب طاہر سربانہ مخدوم عادل قریشی اور علی عباس کملانہ ہو سکتے ہیں تحصیل ناظم کا عہدہ غیر معمولی طاقتور ہونے کی وجہ سے صاحبزادہ گروپ اپنے انتہائی وفادار کا انتخاب کرے گا اگر صاحبزاہ گروپ کے ماضی کو مدنظر رکھا جائے تو صاحبزادہ گروپ یہ عہدہ صاحبزادگان کو ہی دینے کے خواہشمند ہونگے گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں صاحبزادہ گروپ چیئرمین ضلع کونسل جھنگ کا عہدہ اپنے جزوقتی اتحادی مخدوم اسد حیات کو دے کر انتخابات جیت سکتا تھا مگر صاحبزادہ گروپ کے یقنی شکست کے کے باوجود ایسا نہیں کیا اور صاحبزادہ حبیب سلطان ہی میدان میں رہے اب دیکھتے ہیں کہ صاحبزادہ گروپ یہاں کسی صاحبزادہ کو انتخابات کا حصہ بناتا ہے یا پھر پرانے وفاداروں سے انتخاب ہوتا ہے پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز علی عباس کملانہ کو تحصیل ناظم کے عہدے پر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ صاحبزادہ گروپ کے لیئے کڑوی گولی ہو سکتی ہے کیونکہ گزشتہ عام انتخابات میں صاحبزادہ گروپ کے امیدوار میاں آصف کاٹھیا کے مدمقابل انتخاب لڑنے کے بعد اگرچہ علی عباس کملانہ صاحبزادہ گروپ کا حصہ بن چکے ہیں مگر صاحبزادہ گروپ کے کی پلیئرز انہیں ابھی بھی مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں تاہم یہاں پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز مزاحمت کر سکتے ہیں اور شاید ہائی کمان مداخلت کر لے ایسی صورت میں قرعہ علی عباس کملانہ کے نام نکل سکتا ہے نواب طاہر سربانہ اور مخدوم عادل قریشی بھی فیورٹ امیدواران میں شامل ہیں لیکن ان دونوں کے علاقہ کا کم حصہ تحصیل شورکوٹ میں شامل ہے جو ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے صاحبزادہ گروپ کی طرف سے میاں حاکم کاٹھیا مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آنے کے قوی امکانات موجود ہیں اگرچہ میاں آصف کاٹھیا کی صورت میں صوبائی اسمبلی کی نشست میاں حاکم علی کا ٹھیا کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے تاہم اگر مولانا آصف معاویہ سیال چوہدری خالد غنی اور میاں مادھولال کے اتحاد کی طرف سے مضبوط امیدوار سامنے آتا ہے تو ایسی صورت میں میاں حاکم کاٹھیا کو تحصیل ناظم کے امیدوار کے طور پر سامنے لایا جا سکتا ہے تاہم یہاں دیکھنا ہوگا کہ کیا مخدوم عادل قریشی نواب طاہر سربانہ اور علی عباس کملانہ اس پر متفق ہوتے ہیں یا نہیں تحصیل ناظم کے امیدوار کے لیئے فیصلہ صاحبزادہ گروپ کے لیئے بہت مشکل فیصلہ ہوگا سیاسی مبصرین کے مطابق تحصیل ناظم کے امیدوار کا فیصلہ صاحںبزادہ گروپ کے آئندہ عام انتخابات پر بھی بہت اثر کرے گا کیونکہ آئندہ عام انتخابات میں این اے 116 میں تقریبا دو بڑے امیدوار پہلی بار میدان میں کودیں گے
تحصیل شورکوٹ کا دوسرا بڑا گروپ مولانا آصف معاویہ سیال کا ہوگا جس میں ———-شامل ہو سکتے ہیں
کالم کا دوسرا حصہ کل انشاء اللہ

والسلام علی امجد چوہدری صدر نیشنل یونین آف جرنلسٹس ضلع جھنگ واٹس ایپ 03036559570