صحابہ ‘ صحابہ پیارے صحابہ

{ منیارہ نور }
کالم نگار نوید مسعود ہاشمی

”جو لوگ ایمان لائے اور گھر چھوڑے اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے’ اللہ کے ہاں ان کے لئے بڑا درجہ ہے اور وہی لوگ کامیاب ہیں انہیں ان کا رب اپنی طرف سے مہربانی اور رضا مندی اور باغوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں انہیں ہمیشہ کا آرام ہوگا’ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے’ یقینی طور پر اللہ کے ہاں ان کے لئے بڑا ثواب ہے۔” (پارہ نمبر10سورہ توبہ)
حضرت اقدس مولانا احمد علی لاہوری لکھتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو رحمت’ رضا مندی اور منقبت کی مبارکبادیں مل رہی ہیں’ مندرجہ بالا آیات مبارکہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چند انعامات سے نوازا گیا ہے۔
-1 اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا بڑا درجہ ہے -2یہ لوگ کامیاب ہیں دنیا اور آخرت میں’ -3صحابہ کرام پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہیں-4اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہے-5صحابہ کرام جنتی ہیں-6ان انعامات میں صحابہ کرام ہمیشہ رہیں گے-7اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لئے اجر عظیم ہے۔
سورہ توبہ میں ہی ارشاد خداوندی ہے کہ ترجمہ: اور وہ لوگ جو ہیں پہلے ہجرت کرنے والوں اور مدد دینے والوں میں سے اور وہ لوگ جو نیکی میں ان کی پیروی کرنے والے ہیں’ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے’ ان کے لئے ایسے باغ تیار کئے ہیں۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں’ اس میں ہمیشہ رہیں گے’ یہ بڑی کامیابی ہے۔”
حضرت مولانا احمد علی لاہوری نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار بار گاہ الٰہی کی مقبول جماعت ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو معیار حق قرار دیا جس طرح صحابہ کرام سے اللہ تعالیٰ راضی سے ہے’ اسی طرح صحابہ کرام کی جو تابعداری کرے گا اللہ تعالیٰ ان سے بھی راضی ہوگا۔
خاتم النبیین محمد کریمۖ ارشاد فرماتے ہیں کہ ” جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کرام پر گالم گلوچ و طعن و تشنیع کرتے ہیں تو تم کہو… اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو تمہاری بری گفتگو پر (ترمذی’ مشکوٰة شریف)
جس بدنسل گروہ پر خاتم النبیننۖ خود لعنت بھیجیں اس گروہ کی بدنسلی’ گمراہی اور بدبختی میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے۔
ارشاد نبویۖ ہے کہ ”میری امت میں سب سے بہتر میری جماعت ہے (یعنی صحابہ کرام) پھر وہ لوگ جو ان کے پیچھے آئیں (یعنی تابعین عظام) پھر وہ لوگ جو ان کے پیچھے آئیں(یعنی تبع تابعین) حضرت عبداللہ بن مفقل فرماتے ہیں کہ حضورۖ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو’ اللہ سے ڈرتے رہو’ میرے صحابہ کرام کے بارے میں ان کو میرے بعد اعتراض وطعن کا نشانہ نہ بنانا… کیونکہ جس نے ان کے ساتھ محبت کی تو حقیقتاً میرے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے محبت رکھی’ جس نے ان کے ساتھ بغض رکھا تو میرے ساتھ بعض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھا’ جس نے ان کو تکلیف پہنچائی … تو گویا اس نے مجھے تکلیف پہنچائی’ اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی’ گویا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی’ پس قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسکو پکڑلے گا۔” (مشکوٰة شریف جلد 2)
ان کے علاوہ بھی بہت سی آیات ربانی اور احادیث نبویۖ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت و فضیلت ثابت ہے’ صحابہ کرام میں خلفائے راشدین ہوں’ ازواج مطہرات ہوں… بنات رسولۖ ہوں’ اہل بیت عظام ہوں… غرضیکہ ایک لاکھ 24ہزار یا کم و بیش ایک لاکھ چوالیس ہزار صحابہ کرام سب کے سب برحق’ ہدایت کے ستارے اور معیار حق ہیں…خلیفہ اول حضرت سیدنا ابوبکرصدیق ‘ خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق’ خلیفہ سوئم سیدنا عثمان غنی’ خلیفہ چہارم سیدنا علی المرتضیٰ’ شید الشہداء حضرت سیدنا امیر حمزہ’ سسر رسول حضرت سیدنا ابوسفیان’ حضرت سیدنا ابوہریرہ’ حضرت سیدنا امیر معاویہ بن ابی سفیان’ حضرت سیدنا حسن بن علی’ سیدنا حسین ابن علی’ سیدنا عبداللہ بن عمر سمیت دیگر تمام صحابہ کرام’ آپس میں شیر و شکر’ ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے کا احترام کرنے والے’ ایک دوسر ے کی بات ماننے والے تھے’ صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کے آپس کے پیار اور محبت کی گواہی قرآن پاک نے رحماء بینہم کہہ کر دی ہے ‘ کسی بھی صحابی کی گستاخی جہنم کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہوتی ہے’ جیسے صحابہ کرام کو خاتم النبیینۖ سے پیار تھا اور خاتم النبیینۖ کو اپنے سارے جانثار صحابہ پیارے تھے… بالکل اسی طرح قیامت تک آنے والے ہر مسلمان کو صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار سے پیار کرنا پڑے گا’ جس دل میں صدیق اکبر’ فاروق و عثمان و علی و معاویہ’ ابوسفیان و حسن و حسین’ طیبہ عائشہ و سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا کی کدورت موجود ہے’ وہ دل کسی مسلمان کا نہیں بلکہ منافق کا ہے… صحابہ سے کدورت اور اسلام سے محبت ایک دل میں سماہی نہیں سکتی۔
اسلام کے پہلے گواہ اور شارح صحابہ ہیں’ خاتم النبیین کی نشست و برخاست کے عینی شاہد صحابہ ہیں’ آقا و مولیۖ کے اشارہ ابرو پر جانیں نچھاور کرنے والے صحابہ ہیں… دین کے لئے اپنی جانیں اور مال لٹانے والے صحابہ ہیں… قرآن و سنت کی خاطر اپنے بچوں کو ذبح کروانے والے صحابہ ہیں۔
صحابہ کا غدار اسلام کا وفادار کیسے ہوسکتا ہے؟ صحابہ کرام سے دشمنی دین سے دشمنی کے مترادف ہے… صحابہ کرام کی گستاخی’ اسلام کی توہین ہے… جو صحابہ کا نہیں’ وہ ہمارا بھی نہیں ہوسکتا’ اگر کوئی صحابہ کرام کو نہیں ماننا چاہتا نہ مانے… صحابہ کی عظمت و فضائل کا تو ابوجہل بھی منکر تھا… لیکن صحابہ کرام کی گستاخی کی اجازت کسی کو بھی نہیں ہونی چاہیے۔

کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں( ادارہ)