پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں صاحبزادہ مبشر علی صدیقی
ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے اردگرد بسنے والے لوگوں کے عیوب جاننے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔
کسی کا عیب معلوم ہوجائے تو اس کی خوب تشہیر کرتے ہیں مزے لے لے کر اسے بیان کرتے ہیں اور خوب محظوظ ہوتے ہیں ہم دوسروں کے عیوب تلاش کرتے وقت یہ دیکھیں کہ کیا ہم بے عیب ہیں ؟ کوئ ہمارے عیوب کو جاننے کی کوشش کرے تو کیا ہم پسند کریں گے ؟ اگر کوئی ہمارے عیوب کی تشہیر کرے ہم
اسے پسند کریں گے ؟
یقیننا ہم میں سے کوئی بے عیب نہیں ہم اپنے عیوب کی طرف دیکھنے کے بجائے ہمیشہ دوسروں کے کردار پہ انگلیاں اٹھاتے ہیں ۔
نبی کریم صلى الله عليه وسلم نصیحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا
إذا أردت ان تذكر عيوب غيرك فاذكر عيوب نفسك
جب تو دوسرے کے عیب بیان کرنا چاہیے تو اپنے عیبوں کو یاد کر
کسی نے شاعر خوب منظر کشی کی کہا
ہمیں جب تک نہ تھی اپنے حال کی خبر
رہے دیکھتے دوسروں کے عیب و ہنر جب پڑی اپنے گناہوں پہ نظر تو نگاہ میں کوئ برا نہ رہا
پنجابی کا ایک شاعر یوں گویا ہوا
برے بندے نوں میں لبھن ٹریا تے برا نہ لبھیا کوئ
جد میں اندر جھاتی پائ تے میتھوں برا نہ کوئ
عربی کا ایک مشہور مقولہ ہے
الدار ثم الجار
پہلے اپنے گھر کی خبر لو پھر دوسروں کی طرف دیکھو
ہمیں وہ آدمی از حد برا لگتا ہے جو ہمارے عیبوں کی تلاش میں رہے یا ہماری خامیوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرے ہم غور کریں جب ہم کسی کی غیبت کرتے ہیں کسی کی خامیوں کی بلا خوف و خطر تشہیر کرتے ہیں تو اس انسان کے جزبات کو بھی ویسے ہی ٹھیس پہنچ رہی ہوتی جیسا کہ مذکورہ افعال میں ہمیں پہنچتی ہے ۔
محسن انسانیت جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
احب للناس ما تحب لنفسك
لوگوں کے لیے وہی پسند کر
جو تو اپنے لیے پسند کرے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مخلصانہ طور پہ ہم کسی کی غلطیاں دیکھ کر اس کی اصلاح چاہتے ہیں جو غلطیاں ہمارے اندر موجود نہیں تو بغیر دل دکھائے کیسے اصلاح کی جائے ؟
آئیے ہم وہ طریقہ سیکھیں
جن چند اصولوں کو اپنانے سے ہم بغیر کسی کے جزبات کو ٹھیس پہنچائے اس کی اصلاح کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
اصول نمبر 1
سخت الفاظ سے اجتناب کریں اپنے لہجے اور الفاظ میں مٹھاس پیدا کی جیے کیونکہ میٹھے بول جادوئی اثر رکھتے ہیں ۔
اصول نمبر 2
اپنی بات دوسرے شخص کی خوبیوں سے شروع کریں
اس کی پرخلوص تعریف و تحسین کیجئے
اصول نمبر 3
دوسرے آدمی کو احساس دلائیے کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں اس کے خیرخواہ ہیں
اصول نمبر 4
اپنی غلطیوں کا ذکر کیجئے کہ کس طرح آپ نے اپنی غلطیوں کو درست کیا
اصول نمبر 5
تنقید سے پرہیز کیجئے تنقید سے کسی کو کوئ بات دل سے ہرگز نہیں منوائی جاسکتی ہاں وقتی طور پر چپ ضرور کروایا جاسکتا ہے
اصول نمبر 6
شرمندگی سے بچائیے غلطی کو قابل اصلاح باور کروائیے
مثلا یوں کہیے میرے بہت پیارے بھائی یا بیٹے جو رشتہ مناسب ہو وہ لگا لیجئے آپ میں اللہ نے بہت سی صلاحتیں رکھی ہیں آپ ان کو مزید بہتر استعمال سے بہتر سے بہترین بن سکتے ہیں میں آپ سے محبت رکھتا ہوں میری یہ خواہش ہے کہ چند ایک چیزوں پہ آپ خاص توجہ دیں تاکہ آپ عظیم ترین انسان بن سکیں معاشرے کے ایسے افراد کی مثالیں پیش کریں کہ کیسے انہوں نے اپنی ایسی غلطیوں کی اصلاح کی آپ کسی سے کم نہیں ہیں آپ ان جیسے بن سکتے ہیں بلکہ ہوسکتا ہے آپ ان سے بھی عظیم مرتبہ حاصل کرلیں ۔ (جاری ہے )
پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کالم نگار مبشر علی صدیقی۔۔۔۔۔۔ کے قلم سے
956












