پاکستان میں جرائم کی بڑھتی شرح پر کیسے قابو پایا جائے ؟
صاحبزادہ مبشر علی صدیقی۔۔۔
پاکستان میں جرائم کی شرح دن بدن بے قابو ہوتی جارہی ہے ۔
اب جس قدر پاکستان میں اسلامی حدود کے نفاذ کی ضرورت پیش آ رہی ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی جرائم کے اس بڑھتے طوفان کو روکنے کے لیے از حد ضروری ہے کہ اسلامی حدود کا نفاذ کیا جائے آئین پاکستان مکمل طور پر اسلامی قوانین کو بنیاد فراہم کرتا ہے ۔
آئین کے آرٹیکل 2 کے مطابق ریاست کا مذہب اسلام ہے ۔
آئین کے آرٹیکل 2 اے کے مطابق قرارداد مقاصد آئین کا لازمی حصہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر خود کو اسلامی تعلیمات کے مطابق جو قرآن و سنت میں متعین تربیت دے سکیں ۔
آئین کے آرٹیکل نمبر 227 میں درج ہے کہ تمام موجودہ قوانین کو قرآن وسنت کے مطابق بنایا جائے گا جن کا اس حصے میں بطور اسلامی احکام حوالہ دیا گیا ہے اور ایسا کوئ قانون نہیں بنایا جائے گا جو مذکورہ احکام کے منافی ہو ۔
آئین کے آرٹیکل 228 کے مطابق ایک ادارہ اسلامی نظریاتی کونسل تشکیل دیا گیا جس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پاکستان میں رائج قوانین کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرے کہ وہ اسلام کے مطابق ہیں یا نہیں ۔ البتہ پاکستان کی پارلیمنٹ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کی پابند نہیں ہے ۔
آئین پاکستان کی روح کے مطابق قرآن و سنت کو قوانین کا مرکز و محور ہونا چاہیے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عملی طور پر ایسا نہیں ہو رہا کائنات کے خالق نے کائنات میں امن کے لیے جو ہمیں قوانین دیے ہیں ان سے روگردانی کرکے ہم امن کے ساتھ زندگی گزارنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں کرسکتے ۔
بصڈ افسوس کہ پاکستان کے حکمران قرآن و سنت سے رہنمائی لینے کے بجائے ہمیشہ مغرب کی طرف دیکھتے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ گزشتہ 73 سالوں میں مجرموں کو سخت سزائیں نہیں دی گئیں جس کا نتیجہ نہایت بھیانک صورت میں نکلا ہے لہذا عبرت ناک سزائیں دے کر بھی ان کے معاشرے پر اثرات کو دیکھ لیا جائے پاکستان میں بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام کے لیے قانون کی حکمرانی ناگزیر ہو چکی ہے مجرموں کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں تاکہ پاکستان میں امن و سکون قائم ہوسکے اور معصوم بچوں اور عورتوں کو انسان نما درندوں کی وحشت اور بر بریت سے بچایا جاسکے ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں ۔
پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے الگ قانون کا تاثر ختم کیا جائے یہاں فیصلے کیس دیکھ کر کیے جائیں نہ کہ فیس دیکھ کر ۔
اسلامی حدود کے نفاذ میں تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور امید ہے کہ وزیراعظم پاکستان ان تمام رکاوٹوں کو دور کریں گے ۔
دنیا کے کئ ممالک بہت سے جرائم پر سزاء موت دیتے ہیں جن میں چین ، سعودی عرب اور ایران سر فہرست ہیں ۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے کم جرائم سعودی عرب میں ہوتے ہیں کیونکہ ان کے قاضی ایک ہفتہ کے اندر فیصلہ کرتے ہیں اور نماز جمعہ کے بعد سب کے سامنے سزا دی جاتی ہے تاکہ دوسروں کو اس سے عبرت حاصل ہو اس لیے سعودی عرب دنیا میں کم جرائم کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے جبکہ چین اور ایران دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک بڑھتی جرائم کی شرح سے پریشان ہو کر مجبوراً اسلامی حدود میں سے کچھ نہ کچھ سزائیں نافذ کر رہے ہیں
گزشتہ سالوں امریکہ نے سزائے موت پر کئی سالوں سے عائد پابندی کو ہٹاکر ملک میں سزائے موت کا دوبارہ نفاذ کر دیا ۔
ہم آئندہ دنوں انشاء اللہ
اسلامی حدود کے نفاذ اور خصوصیات پہ تفصیلا روشنی ڈالیں گے