عوامی خدمت کا بلاتفریق سفر
تحریر انجینئر حبیب الرحمن حاصلہ
آئیے آپ کولیے چلتا ہوں ستمبر 2011 کی ایک شام میں ،
ضلع جھنگ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک معمولی سا نوجوان جس پر اپنے باپ کا سایا بھی موجود نہیں کی دعوت پر بغیر کسی بھی مسلکی/لسانی بنیاد کے کوئی چالیس یا پچاس لوگ اکٹھے ہوتے ہیں
ان چالیس پچاس لوگوں پر مشتمل یہ کارواں ایک اٹھائیس انتیس سالہ نوجوان کی زیر قیادت ایک سیاسی سفر کا آغاز کرتا ہے سفر بھی اس جگہ پر جہاں نسل درنسل سیاسی جاگیردار اپنا اچھا خاصہ ووٹ بینک رکھے ہوتے ہیں ، جن کو اس نوجوان کا یہ سیاسی قافلہ پہلے دن سے ہی ہضم نہیں ہوتا اور اس پہلی میٹنگ کے تیسرے روز ہی ڈاکوؤں اور پبلک کے مقابلے کے دوران شہید ہونے والے راہگیر کی ایف آئی آر میں اس نوجوان کو نامزد ملزم بنوا دیا جاتاہے پھر آگے چل کر مسلسل 295 اے ،188 ت پ ،16MPO جیسی کئی ایف آئی آر درج کروادی جاتی ہیں پھر بھی یہ مختصر سا قافلہ جس کو شروع دن سے ہی underestimate کیا جاتا رہا ہے 2013 کے عام انتخابات میں تیسرا بڑا امیدوار ثابت ہوتا ہے اور ان دوسالوں کی محنت اور حلقے میں لگن سے کانٹے دار مقابلے میں تقریباً 37000 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے
یہ نوجوان ہمت نہیں ہارتا اسی پہلے ہی جیسی لگن،محبت اور جنون کے ساتھ حلقے میں ہمہ وقت عوامی خدمت جاری رکھتا ہے
اس نوجوان کے سیاسی سفر میں 2015 میں مزید روڑے اٹکائے جاتے ہیں لیکن یہ نوجوان بلا تفریق سب کی خوشی غمی میں شریک رہتا ہے اور اپنی بساط کے مطابق ہارے ہونے کے باوجود لوگوں کے کام کرنے کروانے کی اپنے تئیں مکمل محنت جاری رکھتا ہے اس نوجوان کی محنت اور لگن مخالف حلقوں میں بھی سنائی دینے لگتی ہے راقم کے پاس کافی مثالیں ہیں جس میں مخالف مسلک کے لوگ اس نوجوان کی بلا تفریق محنت اور کام کرنے کی لگن کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں پھر عام الیکشن 2018 قریب آ پہنچتا ہے
اس نوجوان کو ایک بار پھر سیاسی دھڑے underestimate کرتے ہیں اور یہ کہتے ہوے سنے جاتے ہیں کہ یہ نوجوان اپنی ضمانت بھی گنوا بیٹھے گا لیکن یہ نوجوان ہمت نہیں ہارتا اپنی محنت جاری رکھتا ہے
اور عام انتخابات میں حلقہ این اے 116 میں مخالفین کی نیندیں حرام کرتے الیکشن میں دوسرا بڑا امیدوارثابت ہوتے ہوے تقریباً 72000 ووٹ لینے میں کامیاب ہوجاتا ہے
یعنی 2013 سے 2018 تک اپنے حلقہ احباب میں یہ دُگنا اضافہ کرتا ہے اور 2013 میں لیے گئے ووٹوں کا دُگنا 2018 میں لے لیتا ہے
ہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اس نوجوان کی الیکشن کمپین کسی بھی مسلکی بنیاد پہ نہیں ہوتی رہی بلکہ اکثر جماعتی احباب اس نوجوان کی مخالفت کرتے نظر آتے رہے ہیں پھر بھی یہ نوجوان اپنی محنت اور کوشش سے ایک اچھا خاصا ووٹ بینک بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے
اب اس نوجوان کا حلقے میں پہلے سے زیادہ محنت اور کام دکھائی دے رہاہے ، اندرون خانہ جماعتی اختلافات کے باوجود حلقہ احباب میں اضافہ ہوا ہے
تو یہ نوجوان مخالفین کی مزید نیندیں حرام کرنے کا باعث بنتے جارہے ہیں
اس وقت چند لوگوں کی طرف سے پہلے کی طرح بے معنی اور انتشار پر مبنی اشتہارات اس نوجوان کی عوام میں مقبولیت پر ذرا برابر بھی اثر انداز نہیں ہوسکتے بلکہ میرا خیال ہے انکی مقبولیت میں مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں کیونکہ
اب انکی سوچ پورے ضلع جھنگ میں سرایت کرچکی ہے
محترم قارئین ! آپکی وساطت سے میں ان تمام دوستوں سے ملتمس ہوں کہ
برائے مہربانی بلاوجہ کا انتشار نا پھیلائیں،
ہمارے ان حلقہ جات کی سیاست کبھی بھی مذہبی بنیاد پر نہیں ہوتی تو خدارا اس میں مذہب کو شامل کر کے بدمزگی پیدا نا کریں
اور انتظار کریں کہ آنیوالے بلدیاتی انتخابات اور پھر عام انتخابات میں یہ نوجوان کیسے اپ سیٹ کرسکتا ہے
یہ حقائق کی روشنی میں میرا ذاتی تجزیہ ہے آپکا متفق ہونا یا نا ہونا ضروری نہیں ہے
آپکی رائے کا دلی احترام
والسلام انجینئر حبیب الرحمٰن حاصلہ










