وزیراعظم “رائے منظور ناصر صاحب” کو بحال کریں .
تحریر. مبشر نور کامیانہ. 
…
قومیں کیسے بنتی اور کیسے بگڑتی ہیں ؟ کوئی بھی قوم اس وقت پھلتی پھولتی ہے، ترقی و عروج پاتی ہے. جب اسکو اچھا حکمران مل جائے. ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے والے ایماندار اور محب وطن منتظمین مل جائیں تو وہ قوم عظیم قوم بننے کی جانب گامزن ہو جاتی ہے. تو جب کسی قوم کو کرپٹ، بےایمان، پیسے کے پجاری، دولت و اقتدار کے لالچی منتظمین مل جائیں تو وہ قوم فناہ ہو جاتی ہے.
آج ہم اپنے حالات پر نظر دوڑائیں تو سوائے پشیمانی کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا. 73 برس بیت گئے ہم کو آزاد ہوئے. آج بھی وہی ترقی پذیر، وہی نظام، وہی حکمران، وہی طریقہ و سلیقہ، سرکاری اداروں میں کام کا طریقہ وہی پرانا، نظام میں کچھ بھی تبدیلی نہیں آئی.
اگر کوئی اچھا آفیسر کام کرنے لگتا تو اسکو کام سے روک دیا جاتا. اسکو یا تو ضلع بدر کر دیا جاتا یا پھر عہدے سے ہٹا کر نچلے درجے پر تعینات کر دیا جاتا. بس یہی چوہے ، بلی کا کھیل چل رہا پاکستان کے سرکاری اداروں میں رعایا کے ساتھ اور ایسا ہی چلتا رہے گا.
یہاں ازل سے 2 چیزیں چل رہیں. 1 پیسہ، 2 اقتدار. یہاں پیسہ لگا کر عوام سے ووٹ لیا اور اسمبلی میں جا کر بیٹھ گیا. بس پھر “ہر شاخ پہ الو” بیٹھا والی بات ہو گئی. جس کے پاس تعلیم نہیں، شعور نہیں، عقل و دماغ نہیں، خوف خدا نہیں، اپنے ملک اور عوام کا احساس نہیں. وہ اسمبلی میں گھس کر بیٹھ جاتا. “بندر کیا جانے ادرک کا سواد” والی بات ہو گئی. ایسے لوگوں کو کیا پتہ قومیں کیسے بنتی ہیں. خیر.
آپ دیکھیں 23 جولائی 2020 کو “پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ” کے” مینجنگ ڈائریکٹر” (رائے منظور ناصر صاحب) نے پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں اور تمام بک پبلشرز کے کالے کرتوتوں کا بھانڈا پھوڑا.
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا سلیبس جھوٹ، فحاشی، برائی، غلاظت پر مبنی ہے. تمام پبلشرز کی کتب اور تعلیمی اداروں میں پڑھایا جانے والا سلیبس غلط ہے. جس میں “قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، سر سید احمد، تاریخ پاکستان، تاریخ اسلام، اصحابہ اکرام، نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم” کے بارے سب کچھ غلط سلیبس پڑھایا جا رہا. ہمارے قائد کی جگہ گاندھی کے اقوال شامل کیے گئے ہیں. “حضور پاک کے دور مبارک میں لڑی گئی جنگوں کی تاریخ غلط پڑھائی جا رہی، اصحابہ اکرام کے بارے غلط خیالات شامل کیے گئے”.” انگریزی سلیبس میں سیکس پر مضامین پڑھائے جا رہے” . وغیرہ، وغیرہ. یہ تو حالت ہے پاکستان کے تعلیمی نظام کی. تو عظیم قوم کا جو نعرہ ہم لگاتے ہیں. وہ عظیم قوم کسیے بنے گی؟ ذرا سوچئیے ؟.
شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے.
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا.
” رائے منظور ناصر صاحب” نے یہ سب کچھ دیکھ کر “پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ” کی جانب سے “31 بک پبلشرز” کی “100 کتب” پر پابندی لگا دی. مزید “10 ہزار کتب” کا مطالعہ کرنے کا حکم جاری کر دیا. تو ان کے ساتھ ہماری پنجاب حکومت اور صوبائی و وفاقی وزیر تعلیم نے کیا سلوک کیا ؟
اس شریف النفس، ایماندار، سچے پاکستانی آفیسر کو 10 اگست 2020 کو ایک واٹس ایپ میسج کے ذریعے اطلاع کر کے بغیر نوٹس جاری کیے، بغیر کسی پوچھ گچھ کیے “عہدے سے ہٹا” کر “او ایس ڈی” بیکار خاص آفیسر لگا دیا. یہ ہے پاکستان کا نظام حکومت. جس کی بنا پر ازل سے یہ خلقعت ذلیل و خوار ہوتی چلی آ رہی ہے. افسوس کا مقام ہے کہ حکومتی ارکان خود نچلی سطح پر اچھا کام کرنے والے آفیسرز کو عہدے سے ہٹا دیتے . اور پاکستان کی رعایا نظام میں بہتری کی امید لیے 73 برس گزار چکی. مرزا غالب نے کیا خوب فرمایا.
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب.
شرم تم کو مگر نہیں آتی.
جب عوام سے ووٹ لے کر پارلیمنٹ میں جا کر ایسا نظام بنانا ہے جس سے رعایا کی زندگی تکلیف دہ بن جائے تو ایسے نظام پہ سوائے لعن، طعن کرنے کے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا. جب انسانوں کی زندگی عذاب بنا دی جائے تو انسانیت ہی ختم ہو گئی. پھر بچا کیا ؟.
اب “رائے منظور ناصر صاحب” نے تو قوم کو سچ بتا کر اپنا فرض ادا کر دیا اور اپنے اللہ و رسول کی بارگاہ میں سچے بن گئے. وہ اپنے طور پہ جو کچھ کر سکتے تھے کر دیا. اب ذمہ داری اوپر والے طبقے پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کے فرائض کس طرح سے سرانجام دے رہے ؟ . اللہ کے حضور انکی پکڑ ہو گی جنہوں نے سسٹم کو کسی لالچ میں آ کر جان بوجھ کر خراب کیا.
اللہ کے نبی کا فرمان عالیشان ہے کہ جس حکمران نے کسی ایسے شخص کو عالم یا حکام ٹھہرایا جو اس قابل بھی نہیں تھا اور اس سے زیادہ پڑھے لکھے افراد ملک میں فارغ پھر رہے ہوں تو اس حکمران نے اللہ و رسول سے دھوکہ کیا. روز قیامت اس سے سخت پوچھ گچھ کی جائے گی.
“رائے منظور ناصر زندہ باد” آپ نے قوم کو حقائق سے آگاہ کر کے اللہ کی بارگاہ میں خود کو سرخرو کر لیا. یہ عہدے، کرسیاں، شان و شوکت سب عارضی ہے. عقلمند آفیسر وہی ہوتا جو ایسی نوکری کو لات مار کے اپنے اللہ کے دیے گئے احکامات کی تعمیل پر عمل کرے. بہادر، شیر دل، ایماندار، مخلص، محب وطن آفیسر کو کسی عہدے کا لالچ نہیں ہوتا. وہ تو اللہ کی رضا کے لیے نوکری کرتا اور رعایا کی خدمت کرنے کے لیے خود کو پیش کر دیتا ہے. آگے مافیا اور حکومتی مشینری اسکو کام کرنے دے یا نہ. وہ ملکی سیاسی صورتحال پر منحصر ہے.
بہر حال. حکمرانی چار دن کی ہوتی. جس نے اچھا عمل کیا دنیا اسکو ہمیشہ دلوں میں یاد رکھتی . جس نے برا عمل کیا دنیا اسکو ہمیشہ گالیوں میں یاد رکھتی. اور اس سے اللہ و رسول اور فرشتے بھی دور ہو جاتے. علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا.
ملک اگر ہاتھوں سے جاتا ہے تو جائے.
احکام حق سے تُو نہ کر بے وفائی.
تاریخ سے تجھ کو نہیں آگہی کیا.
خلافت کی تُو کرنے لگا گدائی.
سچ تو یہ ہے کہ جب کسی ملک کا نظم و نسق تباہ و برباد کرنا ہو تو، کسی ملک کی عوام کو غلام بنانا ہو، کسی ملک پر حکمرانی کا تسلط قائم رکھنا ہو تو اس ملک کے ادارے تباہ کر دو. سرکاری اداروں میں نیک ایماندار آفیسرز بھرتی کرنے کی بجائے کرپٹ، بے ایمان نا اہل افراد کو بھرتی کر دو. ذمہ دار، منتظم، قابل آفیسرز کو نکال کے باہر پھینک دو. وہ ادارے تباہ ہو جائیں گے. ملک کا نظم و نسق برباد ہو جائے گا. اور یوں رعایا رُل کر ذہنی مریض بن کر حکمرانوں کے طابع ہو کر انکی غلام بن جائے گی. جیسا کہ پاکستان میں کرسیوں کے لالچ میں ازل سے ہو رہا ہے.
یہاں آج بھی ذمہ دار، قابل سرکاری آفیسرز کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا. اسکے پیچھے مافیاز بیٹھے ہیں جو حکومتی مشینری کا حصہ بھی ہیں اور نہیں بھی. لیکن اپنا ہر کام حکومت سے کروا لیتے.
اب جیسا کہ “رائے منظور ناصر صاحب” کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تو عوام کی نظر میں اسکے اصل ذمہ دار “محترم وزیراعظم عمران خان صاحب” بنتے ہیں. جو خود ایسے کاموں کے خلاف بات کیا کرتے تھے تو اب انکی حکومت میں ایک قابل، ذمہ دار، ایماندار آفیسر کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے تو خان صاحب کو اس ایشو پر سختی سے ایکشن لینا چاہیے تھا کہ سسٹم کو بہتر کرنے کی بجائے ویسا کا ویسا کیوں چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟. کس کے کہنے پر ایسا عمل کیا گیا ؟ بہت حیرت کی بات ہے. ایک قابل آفیسر کو کھڈے لائن لگا دیا گیا. اور وہ بھی جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا تو اسی کو پیچھے ہٹا دیا. نوجوان نسل جو ازل سے پاکستان کے نا سمجھ آنے والے تعلیمی نظام کے جھنجھٹ میں جکڑی ہوئی ہے. اب اس قوم کو ان مسائل سے نکالنے کا وقت تھا. اس شعبہ کو آسان بنانے کا وقت تھا. سیدھے راستے پر گامزن کرنے کا وقت تھا تو یہ شعبہ پھر سے اسی مافیا کے سپرد کر دیا. جو ازل سے قوم کا خون نچوڑ رہا. کتنے افسوس کی بات ہے ایک قابل آفیسر کو کام کرنے کا موقع دینے کی بجائے عہدے سے ہٹا دیا. میں بحیثیت ایک پاکستانی شہری اور بطور ایک طالب علم “وزیراعظم عمران خان صاحب” سے گزارش کرتا ہوں کہ “رائے منظور ناصر صاحب” کو عہدے پر دوبارہ بحال کر کے قوم کی توقعات پر پورا اترنے کی بھر پور کوشش کی جائے. شکریہ.
وزیراعظم “رائے منظور ناصر صاحب” کو بحال کریں . تحریر. مبشر نور کامیانہ.
1069











