پاکستان کا چینی بزرگ چاچا کھانا
تحریر۔۔۔امجد چوہدری
خان محمد موچی جسے ہم بچپن سے چاچا کھانا سنتے اور پکارتے آئے ہیں ان کی عمر نوے برس کے قریب ہے یہ اپنے چار بھائیوں سمیت جس جگہ مقیم ہے آج سے پچیس سال قبل یہ ایک بڑی کھائی تھی اور اس وقت پل نجف چوک جھال روڈ کی سڑک بھی تعمیر نہیں ہوئی تھی ان بھائیوں کے پاس تقریبا دو تین کنال کا پلاٹ تھا اور یہ پلاٹ نہر سے کوئی پندرہ فٹ نیچے تھا ہر کسی کا خیال تھا کہ یہ پلاٹ کبھی آباد نہیں ہو سکے گا کیونکہ دو تین کنال کے پندرہ فٹ نیچے پلاٹ کو نہر کے برابر لانا اور سیوریج کا انتظام کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن سمجھا جا رہا تھا کیونکہ سیوریج کے لیئے متبادل انتظام ناممکن تھا اور چاچا کھانا کے پاس وسائل میں صرف ایک گدھا تھا اسے دو چیلینجز کا سامنا تھا ایک بچوں کے پیٹ کی فکر اور دوسرا اس پلاٹ کی filling یہ صبح کے تین بجے اٹھتا سامنے نہر سے بھل سر پر اٹھا کر اس پلاٹ میں ڈالتا اور صبح سات آٹھ بجے مزدوری کے لیئے نکل جاتا اس کا یہ معمول کوئی 14 سال جاری رہا اور تقریباً 2011 کے اوائل میں یہ اس ناممکن کو ممکن کر چکا تھا اس پلاٹ پر اس کے اور اس کے بھائیوں کے گھر مکمل ہو چکے ہیں مگر یہ اب بھی اپنے معمول کو جاری رکھے ہوئے ہے یہ روزانہ صبح کے وقت اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہوتا ہے کھبی کسی چیز کو اکھاڑ رہا ہوتا ہے تو کبھی اسے ازسرنو بنا رہا ہوتا ہے مگر اس باہمت شخص کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں
اللہ چاچا کھان کو صحت اور تندرستی کے ساتھ عمر خضر عطاء فرمائے آمین
علی امجد چوہدری











