پہلے دور کے بزرگ ٹھیک کرتے تھے

تحریر

شاہدرشید

بچپن میں ناناابو گھر میں کوئی لڑکی زیادہ شیشہ دیکھتی تو اس کو روکتے کوئی ڈوپٹہ نہ لیتی تو اس کو ڈانٹتے گھر میں کوئی غیر مرد آجاتا تو اسکو الگ کمرے میں بیٹھایا جاتا تھوڑا بڑا ہوا تو محسوس کیا کہ وہ ٹھیک تھے ان کا روکنا
ٹھیک تھا آج کل موبائل کا دور ہے انٹرنٹ کے خوبیوں اور فائدوں سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انٹرنٹ کی سوشل میڈیا ویب سائٹس فحاشی اور بے ہودگی کی آماجگاہ بن گئی ہیں. کیونکہ مخرِب اخلاق اور گندی چیزیں انٹرنٹ کی مختلف ویب سائٹس پر اسطرح آتی ہیں جو بڑی شرمناک اور انسانی تہذیب کے لئے تباہ کن ثابت ہورہی ہیں. بعض مناظر تو ایسے فحش ہوتے ہیں جن سے نوجوان پود دن بدن اخلاقی پستی کا شکار ہوتی جارہی ہیں. مخرِب اخلاق اور انتہائی فحش سوشل میڈیا ویب سائٹس سے نئی نسل کو اخلاقی طور تباہ کیا جارہا ہیں. کیونکہ انٹرنٹ کی فحش بھری ویب سائٹس کے ذریعے کمائی کے لئے عورت کا عریاں جسم بہت مؤثر ثابت ہورہا ہے ٹک ٹاک پر بےغیرتی کرتے ہوئے لڑکے لڑکیوں کو دیکھا یہ دیکھ کر ذہن میں فٹ سے یہ جملہ آگیا نانا ابو ٹھیک کرتے تھے آپ یقین مانیں ابھی میں نے آنکھ بند کی تو مجھے نانا ابو نظر نیچے کرکے گہری سوچ میں سوچتے ہوۓ نظر آۓ اور وہ کہ رہے تھے ہمارا زمانہ ٹھیک تھا