خون مسلم کی ارزانی

تحریر:اللہ نوازخان

فلسطینی مسلمان دو وجوہات کی وجہ سے مار کھا رہے ہیں،ایک تو وہ مسلمان ہیں اور دوسرا وہ کمزور ہیں۔مسلمان ہونا اور کمزور ہونا ان کے لیے وبال جان بن چکا ہے۔اسلام اللہ تعالی کی بہترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اور دین و دنیا انسان کی سنوار دیتا ہے۔اسلام لانے والوں کو آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے جس طرح فلسطینی مسلمان ان آزمائشوں سے گزر رہے ہیں۔اگر فلسطین میں غیر مسلم رہتے تومغربی دنیاتو چھوڑیے پوری دنیا میں بھونچال آگیا ہوتا۔انسانی حقوق کی دھائی دی جاتی اورجنگ کبھی کی ختم بھی ہو جاتی۔اب فلسطینی مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہو رہے ہیں،ان پر گولہ وبارودٹنوں کے حساب سے پھینکا جا رہا ہے۔اسرائیلی جارحیت کے سامنے نہ تو ہسپتال محفوظ ہیں اور نہ سکول،نہ تو مساجد محفوظ ہیں اور نہ کوئی ایسا علاقہ محفوظ ہے جہاں اسرائیلیوں نے بمباری نہ کی ہو۔المیہ یہ ہے کہ اسرائیل کا ساتھ امریکہ سمیت کئی سپر پاورز دے رہی ہیں۔اسرائیل صرف اکیلا غزہ پر بمباری نہیں کر رہا بلکہ امریکہ سمیت کئی ممالک کے ایف 16 اور دوسری لڑا کا طیارے رات دن بمباری کر رہے ہیں۔ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں۔ایک اطلاع کے مطابق گیارہ ہزارافراد سےزیادہ شہید ہو چکے ہیں جن میں کافی تعدادبچوں کی بھی ہے۔ستاٸیس ہزارسے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں اور ان زخمیوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو عمر بھر کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔فلسطینی مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ان مسلمانوں کا خون اتناارزاں ہو چکا ہے کہ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔خون مسلم کی ارزانی صرف فلسطین میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔امت مسلمہ کے حکمران عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ میں بھی ایک قراردادپیش کی جا چکی ہے جس میں اسرائیل اور فلسطین کی جنگ بندی کی منظوری دی گئی ہے مگر اس قرارداد کو اسرائیل نے جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے جنگ بندی سے انکار کر دیا ہے۔اسرائیل کا وحشیانہ پن پوری طرح بیدار ہے۔جنگ کوشروع ہوئے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔فلسطینی مسلمانوں کا مسکن ”فلسطین“ ایک ”قبرستان“ بن چکا ہے۔لاکھوں افراداپنی جان بچانے کے لیے دوسرے ممالک کی طرف بھاگ رہے ہیں۔غزہ کاعمارتی ڈھانچہ تقریبا تباہ ہو چکا ہے۔عمارتیں اور گھر بمباری کا شکار ہو کرتباہ وبرباد ہو چکی ہیں۔جنگ اگر رک بھی گئی تو فلسطینی مسلمانوں کو آباد ہونے میں کئی سال لگ جائیں گے۔فلسطینی مسلمانوں کی بیچارگی آسمانوں کا سینہ چیر رہی ہے۔وہ صرف جنگ کا شکار ہو کر شہیداور زخمی نہیں ہو رہے بلکہ بھوک سے بھی بلبلا رہے ہیں۔سکول ویران ہو چکے ہیں کیونکہ بچے شہید ہورہے ہیں۔جب بچے ہی نہ رہیں گے تو سکول کہاں آباد ہوں گے؟
او۔آٸ۔سی کابھی ایک اجلاس ہوا ہے،جس کو ڈرامہ کہنا درست ہے۔یہ اجلاس بھی تقریبا جنگ کے 33 دن بعد ہوا ہے۔اس اجلاس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی مذمت کی جاتی ہے۔مذمت بھی پتہ نہیں کس طرح کی گئی ہوگی،کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کا خوف ان کو بے چین کیےرکھتا ہے۔صرف ایران کے صدر نے یہ منصوبہ بیان کیا ہے کہ اسرائیل کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔معاشی طور پر کمزور اسرائیل فلسطینیوں کے لیے اتنا دہشت کا سبب نہیں بنے گا۔اب اسرائیل کو ان کے مذمتی بیانات کی پرواہ ہی نہیں،بلکہ ایک اسرائیلی صحافی کا کہنا ہے کہ او۔آٸ۔ سی کے اجلاس میں جوبیانیہ یش کیا گیا ہے وہ بھی ہم نے لکھا ہے۔ظاہر بات ہے کہ اسرائیل کو اگر عرب ممالک یا اسلامی ممالک سےکوٸ خطرہ محسوس ہوتا تو فلسطین پر قبضہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتا،قبضہ کے بعد کم ازکم مزیدحملہ کرنے کی جرات تک نہ ہوتی۔اسرائیل کو اب کسی قسم کا خوف نہیں اس لیے مسلمانوں کا خون بہانے سے نہیں رک رہا۔ایک حدیث کے مطابق مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے اور بھائی کافرض ہے کہ دوسرے بھائی کی مدد کرے۔ایک اور حدیث کے مطابق تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اگر جسم کے کسی ایک حصہ میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کا درد پورا جسم محسوس کرتا ہے۔لیکن فلسطین کے مسلمان شدید تکلیف میں ہیں اور امت مسلمہ کی خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔مسلمانوں کا بہتا خون شکوہ کناں ہے کہ اس کی مدد کو کوئی پہنچ کیوں نہیں رہا؟صرف مذمت کر کے بری الذمہ نہیں ہواجا سکتا،بلکہ فلسطینی مسلمانوں کو مدد کی ضرورت ہے۔فلسطینی مسلمان کڑے امتحان میں گزر رہے ہیں۔عزت ماب خواتین کی عزتیں پامال ہو رہی ہیں۔معصوم بچے گوشت کے لوتھڑوں میں تقسیم ہو رہے ہیں۔جوان اپنی جوانیوں کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملانے کا وقت ہے۔مزمتی بیان کے علاوہ فلسطینی مسلمانوں کو خوراک کی ضرورت ہے۔ان کو ادویات کی ضرورت ہے۔ان کی ڈھارس بندھانی ہے۔ان کے کندھے اور پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر کہنا ہے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔فلسطینی مسلمانوں کو بتانا ہے کہ خون مسلم اتنا ارزاں نہیں،جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔مذمت تو کرنی ہے،ساتھ یہ بھی کہنا ہے کہ یہ جنگ تمہاری نہیں بلکہ ہماری بھی ہے۔
مغربی ممالک میں بھی انسان دوست افراداحتجاج کر رہے ہیں،یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔دنیا میں کئی امن پسند یہودی بھی احتجاج کر رہے ہیں کہ ان کے نام پرمظلوم انسانوں کا قتل عام بند کیا جائے۔جب تک مسلمان بیدار نہیں ہوں گے اور متحد نہیں ہوں گے اس وقت تک مسلم کے خون کی ارزانی جاری رہے گی۔خون مسلم بہتا رہے گا جب تک مسلمان جرات نہیں کریں گے۔مسلمان جب تک بزدلی کا مظاہرہ کریں گے اس وقت تک ان کوذلیل و خوار کیا جاتا رہے گا۔اج اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پرظلم کے پہاڑڈھا رہا ہے کل کوکوئی اورظالم ٹولہ کسی اورخطے کے مسلمانوں پر ظلم ڈھانا شروع کر دے گا۔کشمیر پر انڈیاظلم ڈھا رہا ہے۔مسلمانوں کواپنی پہچان کرنی ہوگی اور اخوت کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ امت مسلمہ پھر نشاط ثانیہ حاصل کر سکے۔