زراعت پرتوجہ کی ضرورت ہے
تحریر:اللہ نوازخان
گندم کی فصل بونے کا موسم شروع ہے۔کھاد جوگندم کے لیے ضروری خیال کی جاتی ہے،اس کے ریٹ بڑھ چکے ہیں۔حکومتی دعوے کہ کھاد مناسب قیمت پر دستیاب ہوگی، دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔اس سال کھاد کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔فصل کے لیے ایک اور ضروری جزو ہل چلانا ہوتا ہے،ہل ٹریکٹروں کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور تیل کی قیمتیں بڑھنے سے فی گھنٹہ ٹریکٹر مالکان نے بھی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔اس کے علاوہ دیہاتوں میں ٹیوب ویلوں کے ذریعے زمینوں کو سیراب کیا جاتا ہے۔کسان حضرات فی گھنٹہ کے حساب سے اپنی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں۔اب مہنگی بجلی ہونے کے سبب فی گھنٹہ ریٹ بڑھ چکے ہیں اورباقی ٹیوب ویل مالکان نے من مانی کرتے ہوۓ قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ٹیوب ویل مالکان کو بھی اچھی طرح علم ہے کہ ان سے پوچھنے والا کون ہے؟بلکہ نہ تو ٹیوب ویل مالکان کو کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ کھاد کے ڈیلروں کو اور نہ ہی ہل چلانے والے ٹریکٹر مالکان کو کہ اپ کس حساب سے فی گھنٹہ رقم وصول کر رہے ہیں؟کسان پریشان ہے کہ اس کے مسئلے کس طرح حل ہوں گے؟مہنگائی نے پہلے بھی تگنی کا ناچ نچایا ہوا ہے اور مزید مہنگائی بڑھ رہی ہے۔گندم جوبنیادی ضروریات میں شمار ہوتی ہے،اس پر بھاری اخراجات آرہے ہیں۔کئی زمیندار حضرات نے تو گندم کی بجائے کچھ اور اجناس کاشت کرنا شروع کر دی ہیں۔کئی زرعی زمینیں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں،جس کا خمیازہ موجودہ نسلوں کو توبھگتنا پڑ رہا ہے،لیکن آنے والی نسلیں اس کا خمیازہ کئی گنا بڑھ کر ادا بھگتیں گی۔پاکستان کی زرعی زمینیں کافی تھیں،مگرکسانوں کو مجبور کیاجا رہا ہے کہ گندم کے فصلیں نہ اگائیں۔حکومت کو چاہیے تھا کہ زراعت کے لیے سبسڈی دیتی،الٹا مہنگائی کر کے کسانوں کو پریشان کیا جا رہا ہے۔پاکستان زراعت کے لحاظ سے خود کفیل ہو سکتا تھااورخریدنے کی بجائے بیچنے والا ملک ہو سکتا تھا اگر زراعت پر توجہ دی جاتی۔اب بھی اگر توجہ دی جائے تو پاکستان گندم درآمد کرنے کی بجائے برآمد کر سکتا ہے۔پیداوار میں کمی کی ایک اور وجہ بھی ہے کہ کسانوں کو صاف بیج مہیا نہیں ہوتا جس کی وجہ سے وہ فی کنال یافی ایکڑکم پیدوارزیادہ نہیں حاصل کر پاتے ہیں جس کا نقصان پہلے تو کسان اٹھاتے ہیں،پھرقومی سطح پر بھی ہوتا ہے۔گندم کی قلت کی وجہ سے آٹےکی قلت ہو جاتی ہے اور حکومت مہنگے داموں دوسرے ممالک سے گندم خریدنے پر مجبور ہوتی ہے۔اگر وہی اخراجات گندم کاشت کرتے وقت کسانوں کو ادا کر دیے جائیں تو پاکستان گندم میں خود کفیل ہو سکتا ہے۔
گندم کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے جدید تحقیق کی بھی ضرورت ہے۔پوری دنیا میں نئی نئی تحقیقات سامنےآرہی ہیں جس کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے،مگر پاکستان میں ابھی تک وہی پرانے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔نئی تحقیقات بھی ہونی چاہیے،لیکن کھاد اور دوسری ضروری چیزیں بھی سستی دستیاب ہوں تاکہ کسان آسانی سے اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔بجلی اور کھادوں میں سبسڈی لازمی دینی چاہیے کیونکہ کسان بھاری اخراجات ادا کرنے سے قاصر ہےاورکھاد مہنگی ہونےکی وجہ سے کسان کم کھاد ڈالنے پر مجبور ہوتے ہیں اور پانی مہنگا ہونے کی وجہ سے کم پانی لگاتے ہیں جس کی وجہ سے پیداوار میں غیر معمولی کمی آجاتی ہے۔حکومت کھاد اور پانی سستے داموں مہیا کرے تو پیداوار میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔اس کے علاوہ فصلات کو سپرے کرنے والی ادویات میں بھی سبسڈی دینی چاہیے،کیونکہ سپرے کرنے والی ادویات مہنگی ہونے کی وجہ سے کسان سپرے نہیں کر پاتا یا سپرے کرتا بھی ہے توزرعی ماہرین کی ہدایات کے مطابق نہیں ہوتی،جس کی وجہ سے فصلیں بیماری کا شکار ہو کر کم پیداوارکا سبب بن جاتی ہیں۔زراعت کا کام دیہاتوں میں زیادہ ہوتا ہے اور کسان حضرات کی معلومات کم ہوتی ہیں جس کی وجہ سے کم پیداوار حاصل ہوتی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ پورے ملک میں زرعی ماہرین کی ہدایات کے مطابق فصل اگانے کی تجاویز دینی چاہیے۔پاکستان میں جہاں تک دریاؤں کا پانی پہنچ سکتا ہے وہاں نہروں کے ذریعے پانی بھی پہنچایا جائے۔جہاں دریاؤں کا پانی نہیں پہنچ سکتا وہاں ٹیوب ویلوں کے ذریعے پانی پہنچانے کا بندوبست کیا جائے۔پانی کھاد سے بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ پانی کے ذریعے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔پاکستان میں آٹا بنیادی ضروریات میں شمار ہوتا ہے۔اگر گھر میں آٹا موجود ہو توچٹنی کے ساتھ بھی پیٹ بھرا جا سکتا ہے،بلکہ صرف روٹی کھا کربھی بھوک سے توپیٹ بھرا جا سکتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں آٹے کی قلت ہو جاتی ہےاورغریب آدمی کو دو وقت کھانے کے لیے آٹا لائنوں میں لگ کر خریدنا پڑتا ہے اور بعض اوقات آٹا بھی نایاب ہو جاتا ہے۔
پاکستان اگرٹیکنالوجی میں پیچھے ہے اورٹیکنالوجی میں ترقی کرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے لیکن زراعت کی طرف توجہ دے کرآگے بڑھا جا سکتا ہے۔یہ بھی درست ہے کہ اجناس کی پیداوار میں مشینری(ٹیکنالوجی) اہم کردار ادا کرتی ہے مگر یہی مشینری دوسرے ممالک سے درآمد کر کے پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔پاکستان میں اگر زراعت پر توجہ دی جائے تو پاکستان اپنی ضروریات باآسانی پوری کر سکتا ہے بلکہ دوسرے ممالک کو بیچ کرزرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔حکومت کو ان زمینوں پر بھی توجہ دینی چاہیے جو ویران اور غیرآباد پڑی ہیں۔حکومت اگر کوئی ایسی سکیم شروع کر دے کہ غیرآبادزمین کوآباد کرنے والے کو سبسڈی دی جائے گی تو یقینا کئی گنا زیادہ زمینیں آباد ہو جائیں گی۔فصل کے لیے تیار زمینیں پیداوار میں اضافہ کریں گی،جس کی وجہ سے غربت میں کمی آسکتی ہے۔ایک اور طرف بھی توجہ دینی چاہیے کہ سیلاب اوربارشوں کی وجہ سے کئی زمینیں خراب ہو چکی ہیں ان کو بھی حکومتی توجہ سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔غیرآباد زمینوں کوآباد کرنے کے لیے حکومت غیر سودی قرضے بھی دےتاکہ کسان آسانی سے اپنی زمینوں کوآباد کر سکیں۔زرعی لحاظ سے خود کفیل پاکستان ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔زراعت میں اگر پاکستان پیچھے رہ گیاتوپھر پاکستانی قوم مزید تنزلی کا شکار ہو جائے گی۔کسانوں کے مسائل کو حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگااور زراعت پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔










