رانا شہباز احمد خان کس جماعت میں جا رہے ہیں

تحریر شیخ فرحان اعجاز

آج طویل عرصے بعد سابق ایم پی اے و صوبائی پارلیمانی سیکرٹری رانا شہباز احمد سے چوھدری عبدالستار جٹ مرحوم کے ایصال ثواب کیلیے رکھے گئے تعزیتی پروگرام میں راہ چلتے ملاقات ہوئی رانا صاحب حسب معمول گرمجوشی سے ملے حال احوال پوچھا اپنے روایتی انداز میں ہور سب خیریت اے کہا
تو میں نے جواب میں شکریہ ادا کرتے ہی سوال جڑ دیا کے کون سی جماعت میں جا رہے ہیں
مضبوط اعصاب کے مالک اور اب تک سب سے مضبوط حالت میں تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے والے شخص کی ہمت کو داد نا دینا ناانصافی ہوگی

رانا شہباز احمد واقعی پکے راجپوت نئیں
رانا شہباز احمد کی بہت ساری باتوں ان کی طرز سیاست اقتدار کے دنوں میں مخلص ووٹر کی قدر نا کرنا جیسی خامیاں وفاداری جیسی خوبی پہ بھاری ہیں

اور گر اگلے الیکشن میں تحریک انصاف کو گراونڈ مل جاتا ہے تو رانا شہباز ان خوش قسمت سیاستدانوں میں ہوں گے جنہیں تحریک انصاف کا ووٹر فخر سے ووٹ دے کا
خیر اس دوران میرا دوسرا سوال پھر ان سے اندر کی بات اگلوانے کیلیے تھا کے آیا وہ کچھ کہیں پھر بھی ان کا کہنا تھا آج کے دن تک وہ تحریک انصاف میں کھڑے تھے اور کھڑے ہیں

اگلی جماعت تحریک استحکام یا ن لیگ کے جواب میں ان کا کہنا تھا گر کوئی دباو ہوا اور الیکشن نا لڑنے دیا گیا تو وہ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے

کیایہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کے گروپ کی مشاورت سے ہی حتمی فیصلہ ہوگا

آپ تو اکثر و بیشتر نظر آتے ہیں صاحبزادگان کہاں ہیں اس سوال میں بھی رانا صاحب نے بھرپور ذمہ داری دکھائی اور صاحبزادگان کی مجبوریاں بتائیں

اس تھوڑی سی ملاقات میں ڈھیر ساری باتیں ہوگئیں مگر بہت ساری باتیں رہ گئیں آج ان سے لمبی نشست کا ارادہ تھا مگر انہوں نے کہیں جانا تھا اور ان حالات میں روکنا نامناسب بھی
وہ آہستہ آہستہ باہر کی جانب چلنے لگے اور میں بھی آہستہ آہستہ ان کے ساتھ بات چیت کرتا چلتا رہا اور گلی تک ان کے ساتھ چلا گیا ایسے لگ رہا تھا جیسے میرے اندر مطیع اللہ جان کی روح آگئ ہے میں ان کے اندر سے وہ اگلوانا چاہ رہا تھا وہ کہنے کو تیار نا تھے

البتہ وہ جو کچھ کہہ رہے تھے لگ رہا موجودہ حالات میں پریشان تھے اور مستقبل کی پریشانی بھی ان کے چہرے پہ پڑھی جاسکتی تھی سیاست میں کل کیا ہوگا مجھے نہیں معلوم البتہ رانا شہباز احمد خاں کی جماعت کیلیے قربانی اور وفا کی مثالیں دی جایا کریں گی شائد جھنگ کی سیاست میں خان مظفر علی خان کے بعد گر کوئی شخص کسی سیاسی جماعت کے ساتھ مخلص رہا ہے تو اس کا نام رانا شہباز احمد ہے میں رانا شہباز احمد کا ناقد ہوکے ان کی اس خوبی کا معترف ہوں تو ان کے حامی ان پہ کتنا فخر کرتے ہوں گے،

کاش جھنگ کے سارے ہی سیاستدان ایسے ہی نظریاتی ہو جائیں اور اپنی اپنی سیاسی جماعت کے ساتھ کھڑا رہنا سیکھ لیں تو جماعتوں میں ان کا قد کاٹھ مزید اونچا ہوجائے گا سیاست میں دن بدلتے دیر نہیں لگتے کون سوچ سکتا تھا کے نوازشریف اسٹیبلشمنٹ سے لڑ کے چوتھی دفعہ بھی وزیراعظم بننے کی تیاریوں میں ہے؟