سلطان الزاکرین سید خادم حسین شاہ( چک 38)
تحریر۔۔ندیم عباس شہانی ضلع بھکر۔۔
سلطان الزاکرین ذاکر سید خادم حسین شاہ قصبہ مہر شاہ والی ضلع میانوالی میں 1928 میں پیدا ہوئے
بعد میں آپ چکنمب 38 ضلع خانیوال منتقل ہو گئے کیونکہ وہاں آپکی وراثتی وسیع جائیداد تھی اور اپکا خاندان بھی وہیں آباد تھا
چک 38 میں استاذالعلماء علامہ قبلہ سید محمد باقر شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے دینی تعلیم کا سلسلہ جاری کیا ہوا تھا سید خادم حسین شاہ نے قبلہ محمد باقر کے پاس قرآن مجید با ترجمہ اور ضروری فقہی مسائل کی تعلیم حاصل کی شاہ صاحب کا رجحان زاکری کی طرف ہوا تو 1942 میں زاکری شروع کر دی اور زاکری میں معروف ذاکر سید ریاض حسین شاہ موچھ شہید کے بھائ ذاکر سید الطاف حسین شاہ کی شاگردی اختیار کی اور بہت کم عرصہ میں مک کے نامور ذاکر بن گئے اور اپنے چک 38 کی طرف منسوب ہوگئے اور 38 والا آپکی پہچان بن گئ
آپ کا طرز بیان مختلف تھا آپ اپنے منفرد انداز میں عربی زبان میں مخصوص خطبہ سے مجلس کا آغاز کرتے خطبہ کے بعد ایک مخصوص مسدس پڑھتے
مقدور ہمیں کب ہے تیری وصفوں کی رقم کا۔۔۔
اور آخری شعر فارسی زبان میں اپنے منفرد انداز اور سریلی میٹھی آواز میں پڑھتے تو سامعین کی داد تحسین اور نعرہ حیدری سے فضاء گونج اٹھتی اور خطبہ و مسدس ساری زندگی لوگ بہت توجہ دلچسپی سے سنتے جو آپ زاکری کے پہلے دن سے آخری مجلس میں کم و بیش 60سال تک پڑھتے رہےمسدس کے بعد بند پڑھتے پھر قصیدے اور پھر مصائب پڑھتے تھے
سید خادم حسین شاہ کو خدا نے میٹھی سریلی رس گھولتی آواز سے نوازا ۔۔میں نے کسی کتاب میں دیکھا کہ ایک خطیب ذاکر کے لئے خوش گلو ہونے کے ساتھ خوش شکل ہونا بھی ضروری ہے تو یہ دونوں نعمتیں شاہ صاحب مرحوم میں پائ جاتی تھیں دراز قد سفید داڑھی سر لمبے بزرگوں والے بال جنھیں سرائیکی میں ۔۔چونڑیں وال۔۔کہتے ہیں سر پر بڑی پگ ہاتھ میں عصا بہت سی دجھ سے منبر پر تشریف لاتے تو مجمع کی نظریں شاہ صاحب پر جم جاتیں۔
ویسے لوگوں سے بھی سنا اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سج دھج اور نوابانہ انداز میں بیٹھنا اور منبر پر آنا دو ذاکرین کا ہی انداز تھا ایک سید خادم حسین شاہ چک 38اور دوسرے مولوی ذاکر مرید عباس لنگاہ مرحوم۔ آف بھکر
سید خادم حسین شاہ مرحوم پر قبلہ علامہ سید محمد باقر کی صحبت کا اثر تھا کہ کبھی منبر پر دوران مجلس غیر ضروری بات کی نہ کبھی کسی کے مسلک کو چھیڑا بس خطبہ فضائل و مصائب پڑھا ساری زندگی نہ کبھی کسی ذاکر پر تنقید کی نہ کسی عالم پر نہ اپنے پر نہ پرائے پر ۔۔
شاہ صاحب کی دوران مجلس ہلکی مسکراہٹ اپکا ایک منفرد انداز تھا آپ پورے ملک میں مشہور و مقبول اور بلا تفریق ہر پسند ذاکر تھے
ذاکر غلام شبیر ناصر تونسوی مرحوم ایک مجلس میں بتاتے ہیں کہ سید خادم حسین شاہ اور میں ہم عصر ہیں اور اکٹھے ہی زاکری شروع کی
سلطان الذاکرین احمد بخش بھٹی کی وفات کے بعد خادم حسین شاہ کو ۔۔سلطان الذاکرین ۔۔کا خطاب متفقہ طور پر دیا گیا آپ کی ہر ادا منفرد تھی
آپ نے جنوبی پنجاب علاقہ ۔۔کچھی۔۔میں بہت محرم پڑھے
ہمارے گاؤں نوانی اور قصر زینب بھکر شہر میں آپ نے 1992میں محرم پڑھا قصر زینب بھکر رات کو پڑھتے اپکے ساتھ بزرگ عالم دین آیتہ اللہ العظمی علامہ الشیخ محمد حسین نجفی ڈھکو صاحب قبلہ مرحوم نے محرم پڑھا شاہ صاحب علامہ ڈھکو صاحب مرحوم کی ساری تقریر پورا محرم منبر پر بیٹھ کر سنتے فرمایا کہ ہم ایک ہی استاد کے شاگرد ہیں ۔۔آہ۔۔۔کیا ہی وقت تھا جو اللہ کرے ایک بار پھر آ جائے
شاہ صاحب ایک نیک سیرت باکردار پابند عوام و صلوت تھے سید خادم حسین شاہ نے 1960میں چک 38 سے ہجرت کرکے ساندہ کلاں لاہور میں مستقل رہائش اختیار کر لی
آپکی زاکری کے جب پچاس سال مکمل ہوئے تو ذاکر سید ریاض حسین شاہ رتووال اور ذاکر سید مزمل حسین شاہ نے منڈی بہاوالدین میں گولڈن جوبلی منائی اور شاہ صاحب کو پچاس سالہ زاکری پر شیلڈ بھی پیش کیا
سید خادم حسین شاہ چک 38 نے 22اکتوبر 2000 کو اپنی رہائش گاہ ساندہ کلاں لاہور میں وفات پائ اور دوسرے دن چک 22ضلع خانیوال کے امام بارگاہ میں سپرد خاک ہوئے اللہ تعالی شفاعت سرکار سیدالشہداء سرکار امام حسین علیہ السلام نصیب فرمائے
آیتہ اللہ علامہ محمد حسین نجفی ڈھکو مرحوم اپنے ماہانہ رسالہ دقائق اسلام ۔سرگودھا کے ایک شمارہ میں سید خادم حسین شاہ کے سانحہ ارتحال پر لکھتے ہیں کہ۔۔ذاکر سید خادم حسین شاہ صاحب مرحوم پچاس سال سے زیادہ عرصہ تک آسمان زاکری پر شمس و قمر بن کر چمکتے رہے ۔
تحریر۔۔ندیم عباس شہانی ضلع بھکر۔۔
03471022403











