کنڈل کھوکھراں کے ہونہار طالب علم جابر علی
کا ٹاٹ والے سکول سے اکسفورڈ یونیورسٹی کا سفر

تحریر: حبیب منظر

جھنگ کی تحصیل احمدپورسیال کے نواحی گاؤں کنڈل کھوکھراں کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا طالب علم جابر علی اپنے عزم و ہمت سے آکسفورڈ یونیورسٹی پہنچ گیا

ابتدائی تعلیم کنڈل کھوکھراں کے سرکاری سکول میں ٹاٹوں پر بیٹھ کر حاصل کی

مگر علم کی پیاس اور پختہ ارادہ محنتی نوجوان کو آکسفورڈ یونیورسٹی تک لے آیا

ہر ذہن میں یہ سوال ہو گا ک پسماندہ اور مضافاتی گائوں کے رہائشی طالب علم نے کامیابی کا یہ سفر کیسے طے کیا

کنڈل کھوکھراں
تحصیل ہیڈ کوارٹر احمدپورسیال سے 25 کلومیٹر کی مسافت پر ایک مضافاتی گائوں ہے جو دربار سلطان العارفین حضرت سلطان باہو کی نگری میں خوشاب مظفر گڑھ روڈ پر جانب مغرب ضلع جھنگ اور ضلع لیہ کی بائونڈری لائن پر واقع ہے

شہر کے شور شرابے سے دور اس چھوٹے سے گائوں میں واہگہ فیملی کا ایک غریب گھرانہ ہے جہاں جابر علی پیدا ہوا

جابر علی سرکاری سکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد علم کی پیاس بجھانے کیلئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد پہنچا اور مائیکرو بیالوجی میں ماسٹرز اور ایم فل کی ڈگری حاصل کی

پی ایچ ڈی کی ڈگری کیلئے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ جابر علی کا خواب تھا لیکن اس خواب کی تکمیل میں مالی وسائل سب سے بڑی رکاوٹ تھے

اسی غربت کی وجہ سے تعلیمی میدان میں جابر علی کا ایک سال ضائع بھی ہوا مگر اس نے ہمت نہیں ہاری

جابر علی کے ماموں نذر عباس ریٹائرڈ ٹیچر نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ اس کا خواب تھا جسے اس نے اپنی محنت اور لگن سے شرمندہء تعبیر کیا

آکسفورڈ یونیورسٹی سے جابر علی کا کہنا ہے کہ میں ڈی فل کیمیکل بیالوجی میں ریسرچ کر رہا ہوں

میں نمونیہ کیلئے کچھ Noble Antibiotics بنانا چاہتا ہوں
اور
آکسفورڈ یونیورسٹی کی کمیونٹی کے اندر زیادہ سے زیادہ Involve ہونا چاہتا ہوں

جابر علی نے بتایا کہ
یہ تمام سفر میرے والدین کی ان تھک محنت ، دوستوں کی مدد اور Oxford Pakistan Program
کے بغیر ممکن نہیں تھا

جابر علی کے والد محمد اشرف اور اسکی والدہ نسیم بی بی نے
دیہاتی زندگی میں مال مویشی پال کر ، کھیتی باری کر کے ساری زندگی محنت مزدوری کی

اب انہیں بھی زندگی بھر کی تھکن دور ہوتی دکھائی دے رہی ہے

لیکن آج بھی وہ دن یاد کرتے ہیں جب جابر علی کے تعلیمی اخراجات کے پیسے ان کے پاس نہیں ہوتے تھے اور بڑی مشکل سے وہ تعلیمی اخراجات پورے کرتے تھے

جابر علی کی والدہ نسیم بی بی نے بتایا کہ یونیورسٹی میں داخلے کیلئے ہمارے پاس پیسے نہیں تھے اس مقصد کیلئے میں نے اپنے زیور بیچے
اور
جابر علی کو یونیورسٹی میں داخلہ لے دیا اس طرح اس نے فیس ادا کی اور اپنی محنت کے بل بوتے پر تعلیمی سفر جاری رکھا

جابر علی کے والد محمد اشرف نے جنگ کو بتایا کہ کہ داخلہ ہونے کے باوجود جابر علی نے ایک سال انتظار کیا مگر اس کے پاس جانے کیلئے پیسے نہ تھے
دوسرے سال پھر محنت کی اور اسے داخلہ مل گیا

والد محمد اشرف کا کہنا ہے کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارا بیٹا دنیا کی اعلی ترین یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہے
جہاں پر صرف وزیروں مشیروں اور بڑے لوگوں کے بچے پڑھ سکتے ہیں

غلام عباس ، ساجد علی سمیت جابر علی کے اساتذہ کرام اور دوستوں نے دوران ملاقات بٹایا کہ وہ ایک محنتی اور ذہین طالب علم ہے وہ کنڈل کھوکھراں کے سرکاری سکول میں زیر تعلیم رہا
اور ٹاٹوں پر بیٹھ کر بڑی محنت کی
اس لیے ہمیں فخر ہے کہ ہمارے اس دیہاتی ماحول میں رہ کر تعلیم حاصل کی اور آج بڑی اچھی پوزیشن پر پہنچ چکا ہے

جھنگ کی دھرتی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام جیسی شخصیت کو جنم دیا
اور
آج آکسفورڈ یونیورسٹی تک پہنچنے والے
فرزند تحصیل احمدپورسیال
جابر علی کی قابلیت اور عزم و ہمت اس امر کی غماز ہے کہ اس مٹی کی زرخیزی میں کمی نہیں آئی

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی !!

# حبیب منظر نمائندہ روزنامہ جنگ جیو نیوز
صدر تحصیل پریس کلب احمدپور سیال 03027691808